30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طلبگار اور دُنیاوی مال و متاع جمع کرنے پر حریص نہ ہو۔ ‘‘ ([1])
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ قوی مؤمن سے مرادوہ شخص ہے جو اپنے ایمان اور یقین میں اس طرح مضبوط اور کامل ہوکہ اسے اَسباب پر نہیں بلکہ مُسَبِّبُ الْاَسْبَابیعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ پر بھروسہ ہو۔ ‘‘ ایک قول کے مطابق ’’ قوی مؤمن سے مراد وہ ہے کہ جو لوگوں کی صحبت و ہم نشینی اور ان کی طرف سے پیش آنے والی اَذِیَّتُوں پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کرے اور انہیں خیر و بھلائی کی تعلیم دے۔ ‘‘ اس تعریف کی تائید اُس حدیث پاک سےبھی ہوتی ہے جو حضرت سَیِّدُنَا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مرفوعاً مروی ہے کہ ’’ وہ مؤمن جو لوگوں کے ساتھ میل ملاپ رکھتا ہے اور ان کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیَّتُوں پر صبر کرتا ہے، اس مؤمن سے افضل ہے جو نہ لوگوں سے اِختلاط رکھتا ہے اور نہ ان کی اَذِیَّت پر صبر کرتا ہے۔ ‘‘ ([2])
علامہ قرطبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ قوی مؤمن وہ ہے جو بدن اور نفس کے اعتبار سے طاقتور ہو اس طور پر کہ اس کا نفس پختہ ارادے کے ساتھ نیکیوں پر ابھارنے والا ہو اور اس کا بدن تمام عباداتِ بدنیہ جیسےحج، روزہ، نیکی کی دعوت اور ان جیسے وہ نیک اَعمال جن پر دین کی بنیاد ہے، ان تمام کو بجا لانے کی طاقت رکھتا ہو۔ ‘‘ ([3])
شارحین حدیث نے ضعیف مؤمن کی کوئی خاص تعریف بیان نہیں کی بلکہ مؤمن قوی کی ضد کو مؤمن ضعیف کہا ہے۔ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ ضعیف مؤمن کی کیفیت قوی مؤمن کے برخلاف ہوتی ہے (یعنی اُس کا اعتقاد مُسَبِّبُ الاَسْبَاب پر کمزور اور اَسباب پر زیادہ ہوتا ہے) تو یہ شخص ایمان کے ادنیٰ درجہ پرہے ۔ ‘‘ ([4])
قوی اور ضعیف دونوں مؤمنوں میں بھلائی ہے:
مؤمن قوی ہو یا ضعیف دونوں میں خیر ہے کیونکہ دونوں صاحبِ ایمان ہیں ۔ شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ خواہ مؤمن قوی ہو یا کمزور کوئی مسلمان صفات خیر سے خالی نہیں ہوتا اور ایمان صفات خیر میں سب سے افضل ہےلہٰذا دونوں میں بھلائی ہے۔ ‘‘ ([5])
قوی وضعیف مؤمن کا جنتی درجات میں فرق:
قوی اور ضعیف مؤمن اگرچہ دونوں میں بھلائی ہے لیکن عنداللہ دونوں کا مقام و مرتبہ جدا جدا ہے۔ حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَھَّاب فرماتے ہیں : ’’ قوی مؤمن اور ضعیف مؤمن صفت ایمان کی وجہ سے بھلائی میں دونوں برابر ہیں لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنی جنت میں ان دونوں کے مراتب میں فرق رکھا ہے اور ان کو ایک دوسرے پر درجوں میں بلندی عطا فرمائی ہے۔‘‘ ([6])
حدیث پاک میں قوی اور ضعیف مؤمن کے بیان کے بعد نفع دینے والے چیزوں پر حرص کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۳۵۲صفحات پر مشتمل کتاب ’’ باطنی بیماریوں کی معلومات ‘‘ ص۱۱۶پر ہے: ’’ خواہشات کی زیادتی کے اِرادے کا نام حرص ہے اوربُری حرص یہ ہے کہ اپنا حصہ حاصل کرلینے کے باوجود دوسرے کے حصے کی لالچ رکھے ۔ یا کسی چیز سے جی نہ بھرنے اور ہمیشہ زیادتی کی خواہش رکھنے کو حرص ، اور حرص رکھنے
[1] اکمال المعلم، کتاب القدر ، باب فی الامر بالقوۃ وترک العجز۔۔۔ الخ ،۸ / ۱۵۷، تحت الحدیث: ۲۶۶۴۔
[2] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الرقاق، باب التوکل والصبر،۹ / ۱۵۳، تحت الحدیث: ۵۲۹۸۔
[3] دلیل الفالحین، باب المجاھدہ، ۱ / ۳۱۷، تحت الحدیث: ۱۰۰۔
[4] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الرقاق، باب التوکل والصبر،۹ / ۱۵۴، تحت الحدیث: ۵۲۹۸۔
[5] اشعۃ اللمعات،کتاب الرقاق، باب التوکل والصبر، ۴ / ۲۵۷، ۲۵۸۔
[6] اکمال المعلم، کتاب القدر ، باب فی الامر بالقوۃ وترک العجز۔۔۔ الخ ،۸ / ۱۵۷، تحت الحدیث: ۲۶۶۴۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع