30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
رسولُ اللہ کا جَذْبَۂ عِبَادَت
عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُُ عَنْہَا اَنَّہَاقَالَتْ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ اَحْیَا اللَّیْلَ، وَاَیْقَظَ اَہْلَہُ، وَجَدَّ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ. ([1])
وَالْمُرَادُ: اَلْعَشْرُ الاَوَاخِرُ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ.وَ”المِئْزَرُ“اَلْاِزَارُ، وَ ہُوَ کِنَایَۃٌ عَنْ اِعْتِزَالِ النِّسَاءِ. وَقِیْلَ: اَلْمُرَادُ تَشْمِیْرُہُ لِلْعِبَادَۃِ .یُقَالُ: شَدَدْتُ لِھٰذَا الْاَمْرِ مِئْزَرِیْ، اَیْ تَشَمَّرْتُ ، وَتَفَرَّغْتُ لَہُ.
ترجمہ :اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے فرماتی ہیں کہ: ’’ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رات کو زندہ کرتے (یعنی شب بیداری فرماتے) اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور عبادت میں خوب کوشش کرتے اور تہبند مضبوطی سے باندھ لیتے۔ ‘‘ (یعنی عبادت کے لیے کمر بستہ ہوجاتے۔)
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :”اَلْعَشْرُ الاَوَاخِرُ “ سے مراد رمضان کا مہینہ ہےاور ”المِئْزَرُ“سے مراد اِزار یعنی تہبند ہے۔اور اس جملے میں ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّسے اجتناب کرنے کے متعلق کنایہ کیا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے اس سے مراد عبادت میں کوشش کرنا ہےجیساکہ کہاجاتاہے میں نے اس کام کے لیے اپنی کمر کس لی۔ یعنی میں اس کام کے لیے تیار ہوں اور فارغ ہوں ۔
’’ رات کو زندہ کرنا ‘‘ کے مختلف معانی:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث پاک میں ہے کہ ’’ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات کو زندہ کرتے۔ ‘‘ شارحینِ حدیث نے اس کے کئی معانی بیان کیے ہیں ۔چنانچہ اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُاللّٰہ طیبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ رات کو زندہ کرنے کی دو ۲صورتیں ہوسکتی ہیں : (1) اگر ہم عبادت کرنے والےکے اعتبار سے دیکھیں تو رات کو زندہ کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ جب کوئی شخص اُس نیند کو چھوڑ کر عبادت میں مشغول ہو جاتا ہے جسے موت کہا گیا ہے تو گویا اس نے اپنے آپ کو زندہ کردیا جیسا کہ فرمانِ باری تعالی ہے:
اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَاۚ- (پ:۲۴، الزمر:۴۲)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:اللہ جانوں کو وفات دیتا ہے ان کی موت کے وقت اور جو نہ مریں اُنہیں ان کے سوتے میں ۔
(2) اور اگر ہم رات کے اعتبار سے دیکھیں تو رات کو زندہ کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ رات بھر قیام کرنے کی وجہ سے عابد کی رات دن کی طرح ہوگئی گویا کہ اس نے رات کو زندہ کردیا کہ رات کو ( آرام کرنے کے بجائے) اسے عبادت و طاعت میں گزار دیا۔ لہذا جس نے رمضان کی آخری راتوں میں خوب عبادت کی اور تمام راتوں کو جاگ کر گزارا تو اس نے ان راتوں کی برکتوں سے اپنا حصہ پالیا اور جس نے رات کے کچھ حصے میں عبادت کی تو اس نے کچھ حصہ ہی پایا۔ ‘‘ ([2])
شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِینے بھی رات کو زندہ کرنے کے دو۲ معنی بیان کیے ہیں : ’’ (1) رات کو زندہ کرنا اس معنی میں ہےکہ وقت کی زندگی اور تازگی اس میں عبادت کرنے سے ہوتی ہے۔ (2) رات کے وقت اپنے آپ کو زندہ کرنا اس معنی میں ہےکہ انسان کی زندگی شب بیداری (جاگنے) میں ہے کیونکہ نیند موت کی طرح ہےچنانچہ عبادت میں شب بیدرای کرناگویا کہ خود کو زندہ کرنا ہے اور بیکار رہنا اپنے آپ کو مردہ بنانے کے مترادف ہے۔ ‘‘ ([3])
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’ رات کو زندہ کرنا یہ مجازاً کہا گیا ہے۔ کیونکہ جب بندہ نیک اعمال کرنے کے لیے رات کو جاگاتو گویا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع