30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کروں ؟ “ کا ایک معنی یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ’’ میرا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرنا گناہوں کے خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کثیر انعامات کا شکر ادا کرنے کے لیےہےجو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے عطا فرمائے ہیں ۔ ‘‘ ([1])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!عبادت میں مَشَقَّت اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے حصول اوردرجات کی بلندی کا باعث ہے۔ ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی رضائے الٰہی کی خاطر راتوں کو طویل قیام و سجود فرماتے۔ واضح رہے کہ عبادت گزاروں کی تین اقسام ہیں ۔ چنانچہ امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں : (۱) ’’ جو قوم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت اس لیےکرے کہ اس کے بدلے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ سے انعامات و مغفرت حاصل کرے تو یہ تاجروں کی عبادت ہے ۔ (۲) جو قوم جہنم کے خوف کی وجہ سے عبادت کرے تو یہ غلاموں کی عبادت ہے۔ (۳) اور جو قوم فقط اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر کرنے کے لیے عبادت کرے تو یہ آزاد لوگوں کی عبادت ہے۔ ‘‘ ([2])
حضرت سَیِّدُنَا قَبِیْصَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سَیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کو اُن کے انتقال کے بعد خواب میں دیکھ کر پوچھا: ’’ مَا فَعَلَ اللہُ بِکَیعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ ‘‘ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے اپنے ربّعَزَّ وَجَلَّ کی بلا حجاب زیارت کی ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّنے مجھ سے ارشاد فرمایا: ’’ اے ابنِ سعید! تجھے مبارک ہو ، میں تجھ سے راضی ہوں کیونکہ جب رات ہوجاتی تھی تو تم آنسوؤں اور رقتِ قلبی کے ساتھ میری عبادت کرتے تھے۔ جنت تمہارے سامنے ہے جو محل لینا چاہو لے لو اور میری زیارت کرو کیونکہ میں تم سے دور نہیں ہوں ۔ ‘‘ ([3])
مدنی گلدستہ
’’ مُجَاہَدَہ ‘‘ کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) عبادت میں ایسی کثرت کرنا جو فرائض ودیگر حقوق العباد کی ادائیگی میں خلل نہ ڈالے جائز ہے۔
(2) فرائض وواجبات کے علاوہ جس کی جتنی اِستطاعت ہو اُسے اتنی نفلی عبادت کرنی چاہیے۔
(3) حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ساری رات ربّ کی عبادت کرنا اِنعاماتِ الٰہیہ کے شکرکے لیےتھا۔
(4) جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کثرت سے عبادت کی توفیق دے تو اس کے لیے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عبادت بہترین نمونہ ہے۔
(5) حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سید المعصومین ہونے کے باوجود راتوں کو کثرت سے عبادت کی ، ہم گنہگاروں کو تو زیادہ ضرورت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خوب عبادت کریں ۔
(6) حصولِ انعامات کے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرنا تاجروں ، جہنم سے بچنے کے لیے عبادت کرنا غلاموں اور اِنعاماتِ الٰہیہ کا شکر ادا کرنے کے لیے عبادت کرنا آزاد لوگوں کا طریقہ ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی رضا کے لیے خوب خوب عبادت کرنے اور فرائض و سنن کے ساتھ ساتھ نوافل اور دیگر مستحبات بجالانے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع