30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اِس بات پر کامل یقین ہو کہ جو فیصلہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے کیا ہوا ہے، وہ ضرور ہوگا ۔ ہاں بقدر ِحاجت رزق کی تلاش میں سنت کی پیروی نہ چھوڑے، دشمن سے بچاؤ کے لیے اَسلحے کی تیاری اورمال و اَسباب کی حفاظت کے لیے دروازے بند کرنانہ چھوڑے۔ اِسی طرح دیگربچاؤ کے طریقے، تمام اِحتیاطی تدابیر اِختیار کرے، مگر یہ ضروری ہے کہ اِن اَسباب ہی پرمطمئن نہ ہوجائے بلکہ یہ عقیدہ ہوکہ یہ اَسباب اَزْخُودنہ کوئی فائدہ پہنچاسکتے ہیں ، نہ کسی قسم کا کوئی نقصان دُور کر سکتے ہیں بلکہ سبب و مُسَبَّب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے ہیں اور سب اُمور اُسی کے اِرادے پر مَوْقُوف ہیں ۔ ( یعنی وہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے ۔) ہاں جب بندے کا جُھکاؤ اَسباب کی طرف ہو جائے تو اُس کے توکل میں کمی آجاتی ہے ۔
اَسلاف کے مختلف اقوال کی رُو سے مُتَوَکِّل دوطرح کا ہوتاہے : (۱) واصِل (یعنی توکل کی منزل پا لینے والا) یہ وہ ہے جو اَسباب کی طرف بالکل بھی توجہ نہیں کرتا اگرچہ اَسباب اختیار کرتا ہو ۔ (۲) سالِک (یعنی توکل کی طرف بڑھنے والا) یہ وہ ہے جس کی توجہ کبھی کبھی اَسباب کی طرف ہوجاتی ہے مگر یہ علمی طریقوں اور ذوقِ حالیہ کی بنا پر اپنی اِس کیفیت کو دُور کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ واصِل کا مرتبہ پا لیتا ہے۔حضرت سَیِّدُنَا ابو القاسم عبدالکریم ہُوَازِن قُشَیْرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ توکل کا مقام دِل ہےاور ظاہری اَفعال توکل کے خلاف نہیں جبکہ بندہ اِس بات پر پختہ یقین رکھے کہ سب کچھ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے حکم سے ہوتا ہے۔‘‘ ([1])
کسب ِمَعَاش توکل کے خلاف نہیں :
عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’ کسبِ معاش (روزی کمانے) کی مشروعیت پر کثیر دلائل ہیں جن میں سے حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی یہ مرفوع حدیث بھی ہے کہ: ’’ اَفْضَلُ مَااَکَلَ الرَّجُلُ مِنْ کَسْبِہٖ یعنی سب سے زیادہ فضیلت والا کھانا وہ ہے جسے بندہ اپنی کمائی سے کھائے۔ ‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی اپنے کسب سے ہی کھاتے تھے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشادفرمایا: (وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ (۸۰) ) (پ۱۷، الانبیاء:۸۰) ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’ اور ہم نے اُسے تمہارا ایک پہناوا بنانا سکھایا کہ تمہیں تمہاری آنچ سے (زخمی ہونے سے) بچائے۔ ‘‘ اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا: ( خُذُوْا حِذْرَكُمْ) (پ۵، النساء: ۱۰۲) ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’ اور اپنی پناہ لیے رہو۔ ‘‘ بلکہ بہت مرتبہ تو کسبِ معاش ( روزی کمانا) واجب بھی ہوتا ہے مثلاً جو شخص کمانے پر قادر ہو اور اُس کے گھر والے نفقے کے محتاج ہو ں تو اُس پر واجب ہے کہ کمائے ، نہیں کمائے گا تو گنہگار ہوگا ۔ ‘‘ ([2])
مُتَوَکِّلکی علامات:
حضرتِ سَیِّدُنا سَہل بن عبد اللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: ’’ متوکل کی تین علامتیں ہیں : (۱) کسی سے سوال نہیں کرتا (۲) سائل کو خالی ہاتھ نہیں بھیجتا (۳) اپنے پاس کچھ بچا کر نہیں رکھتا ۔ ‘‘ ([3])
ہمارے اَسلاف توکل کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔ اُن کے توکل کا یہ عالَم تھا کہ کئی کئی روز بھوکا رہنے کے باوجود بھی رزق کے معاملے میں کبھی وسوسوں کا شکار نہ ہوتے اور پھر اُن کا رزق اُن تک خود پہنچ جاتا تھا۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنَاابو یعقوب اَقْطَعْ بَصْرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ ایک بار مجھے دس دن تک کھا نے کو کچھ نہ ملا۔ کمزوری و گھبراہٹ بڑھی تو میں رزق کی تلاش میں قریبی وادی کی طرف چل دیا۔ راستے میں ایک شلجم پڑا دیکھا تو اُٹھا لیا، مگر یوں محسوس ہو ا جیسے کوئی کہہ رہا ہوکہ دس دن بھوکا رہنے کے بعد بھی یہ باسی شلجم کھاؤ گے؟ چنانچہ میں نے وہ نہ کھایااور مسجد میں آگیا ۔کچھ دیر بعد ایک عجمی آیا اور اُس نے مصری کیک، بادام اور شکر سے بھرا ہوا تھیلا میرے سامنے رکھتے ہوئے کہا : ’’ یہ سب آپ کے لیے ہے۔ ‘‘ میں نے حیران ہو کر سبب دریافت کیا تو کہنے لگا : ’’ آج سے دس روز
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع