30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایک مرتبہ کسی شخص نے عرض کی : کم بولنے اور خاموش رہنے میں افضل کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا: علما کے لئے بولنا اچھا ہے اور در ویشں کے لئے خاموش رہنا بہترہے کیوں کہ قیامت کے دن ہر ایک سے اس کےاعمال کی پُرسِش ہوگی علما سے علم اور صوفیا سے پردہ پوشی اور خاموشی کے متعلق پوچھا جائے گا ۔(40)
سنّت کے مطابق میں زندگی گزارتے
حضرت خواجہ شمس الدین سیالویرَحْمَۃُاللہِتَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: حضرت خواجہ محمدسلیمان تونسوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکےتمام اخلاق و عادات اور اقوال و افعال سنّتِ نبوی کے مطابق تھے ۔(41)
جب لوگ والیٔ سنگھڑنواب اسد خان کےظلم وستم سےتنگ آگئے توحضرت خواجہ محمدسلیمان تونسوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں اُس کی شکایت کی،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اُسے اپنی بارگاہ میں طلب کیا اورارشاد فرمایا: تمہاری حکومت میں ہمیں صرف اتنا فائدہ ہے کہ اذان کی آواز سُن لیتے ہیں،ظلم وستم روک دے ورنہ میں تو سکھوں کی فوج کو یہاں دیکھ رہا ہوں۔ لیکن نواب اسد خان ظلم سے باز نہ آیا،تھوڑے دنوں میں سکھوں کا لشکر آگیااور جس ٹیلہ کی طرف آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےاشارہ کیا تھا وہیں آکرڈیرہ ڈالا۔بعدمیں جب لوگوں نےاس بارےمیں عرض کیاتو فرمایا: اَعْمَالُکُم عُمّالُکم(یعنی تمہارے اعمال ہی تمہارے حاکم ہیں) تم نے جب شریعت کی پابندی چھوڑ دی ہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّنے تم پرکافروں کو مُسَلّط کر دیا ہے۔(42)
افسوس صد افسوس ! آج کل مسلمان اپنے اَنْجام سے بے خوف ہوکر ظلم وزیادتی کرنے،دھمکیاں دے کر لوگوں سے رقم کا مُطالبہ کرنے،ان کے مال و جائیدادپرقبضہ کرنے،چوری،ڈکیتی دہشت گردی اورقتل و غارتگری جیسے گناہوں میں مبتلا ہوکرنہ جانے کس کس طرح مسلمانوں کے حقوق پامال کررہے ہیں۔ یادرکھئے! ظلم کا انجام بہت ہی بھیانک اور خطرناک ہے، ظالم شَخْص آخرت میں تو عذاب کا شکار ہوتا ہی ہے ،لیکن یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ ایساشخص دنیا میں بھی کئی دردناک حالات سے دوچار ہوتا ہے۔حضرتِ ابوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے،سرکارِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ ظالم کو مہلت دیتا ہے،یہاں تک کہ جب اس کو اپنی پکڑ میں لیتا ہے تو پھر اس کو نہیں چھوڑتا۔(43)یہ فرما کرسرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پارہ 12 سورۂ ہُود کی آیت نمبر 102 تلاوت فرمائی:
وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌؕ-اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ(۱۰۲)
تَرجَمَۂ کنزُالایمان: اورایسی ہی پکڑ ہے تیرے رب کی جب بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پر، بے شک اس کی پکڑدردناک کرّی (سخت) ہے
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں مسلمانوں کے ساتھ حُسنِ سُلُوک سے پیش آنے اور ان پر کسی بھی طرح سے ظلم وزیادتی سے بچنے کی توفیق عطافرمائے ۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ
ایک شخص نے عرض کی : میری بیوی لوگوں کے ساتھ فریب کرتی ہےاور غلّےمیں مٹی ملادیتی ہے۔حضرت خواجہ سلیمان تونسویرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا: اُس عورت کو اپنا ایمان چلےجانے کا خوف نہیں ہے؟ اگراس کواپنے ایمان کا خوف ہوتاتو ہرگز لوگوں کے ساتھ دھوکا نہ کرتی ۔(44)
ایک موقع پر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا: جو کتابیں بدمذہبوں نے تصنیف کی ہیں ان کو نہیں پڑھنا چاہئے ۔پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے یہ بات ذہن نشین کرانے کے لئے ارشاد فرمایا: حضرت مخدوم بہاء الدین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے بیٹے کو اُس کتاب کے پڑھنےسےمنع فرمایاجس کا مُصنّف معتزلی٭ تھا ۔(45)
اچھے اور برے اعمال کے نتیجےکے بارے میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: سالک کو چاہئےکہ نیکیاں کرنے کی کوشش کرے کیوں کہ قیامت کے دن جنّت کو طرح طرح کے میووں،نہروں،حوروں اور محلات سے ہر ایک کے نیک اعمال کی مقدار میں پُر کیا جائے گا اسی طرح دوزخ کو بچھوؤں،سانپوں اور آگ سےہر ایک کے بُرے اعمال کے مطابق پُر کیا جائے گااُس روز ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق اجر دیاجائے گا ۔(46)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع