30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خرچ کىا، اور تمام جہان والوں کو عطا کىا مگر اس دىگ مىں کوئى کمى نہ ہوئى اسى طرح بھرى ہوئى ہے۔‘‘نواب صاحب نے عرض کىا: آپ کے بعد اس دىگ کا مالک آپ کے مرىدوںمىں سے کون ہوگا؟ ارشادفرماىا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلّ کا حکم ہے کہ ىہ دىگ محمد سلىمان روہیلہ٭کو دى جائے، مىں اس حکم مىں مجبور ہوں، اب ىہ دىگ ان کى قسمت میں ہے۔ ‘‘نواب صاحب نے عرض کىا: وہ روہىلہ مجھے بھى دکھائىے۔چنانچہ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےحضرت خواجہ سلیمان تونسوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو بلوالیا ۔جب آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہحاضر ہوئے تو انہیں مخاطب فرماکر ارشاد فرمایا: مىاں صاحب ! وہ کتاب فقرات جو آپ کو مطالعہ کے لئے دى تھى حفاظت سے رکھئے گا، اىسا نہ ہو کہ گم ہوجائے ،و ہ کتاب پیرومرشدحضرت مولانا خواجہ فخرُالدّین شاہجہاں آبادی چشتی نظامیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا تبّرک ہےانھوں نے مجھے عطا کى تھى۔حضرت خواجہ سلیمان تونسوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے عرض کی: مىں اس کتاب کو حفاظت سے رکھوں گا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرماىا : بس ىہى بات کہنے کے لئے آپ کو بلاىا تھا۔ جب آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہواپس چلے گئے تو حضرت قبلۂ عالمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےارشاد فرماىا: نواب صاحب ! مىرى اس دىگ کا مالک ىہى روہىلہ ہے۔(24)
حضرت خواجہ نورمحمدچشتی مہارویرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاپنےمریدکی تربیت فرماتے ،آپ کے روز و شب کے معمولات پر نظر رکھ کر قابلِ اصلاح پہلو کی جانب توجہ فرماتے اور مقصد پر نظر رکھنے کی نصیحت فرماتے ۔اس سلسلے میں ایک حکایت ملاحظہ کیجئے:
حضرت خواجہ محمدسلیمان تونسویرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ایک روز مہار شریف (نزد چشتیاں شریف)قیام کے دوران اىک کتاب کا مطالعہ کررہاتھا،کھانے کوکچھ میسّر نہ ہونے کی وجہ سے چنددن سےکھانا نہیں کھایا تھا،اچانک میری نظر صحن میں دانہ چگنے والے کبوتروں پر پڑی میں نے ایک سنگریزہ ماراخدا کا کرنا ایساہوا کہ وہ سنگریزہ ایک کبوتر کو لگا اور وہ وہیں تڑپنے لگا ،میں نے جلدی سے اُسے پکڑا ، ذبح کیا اور بھوننے کے لئے تندورمیں ڈال دیا ۔اتنے میں مجھے پیرو مرشد کی بارگاہ سے بلاوا آگیا جب میں بارگاہِ مرشد میں پہنچاتوآپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےمجھےمخاطب کرکے فرمایا: ’’اےروہىلہ! ىہاں ىادِ خدا کےلئےآئےہوىا پرندوں کا گوشت کھانےکےلئے؟ ‘‘مىں نےشرمندگى سےسرجھکالىا،ارشادفرماىا: جاؤاورمطالعہ مىں مصروف ہوجاؤ۔ ‘‘جب مىں واپس آىا تو وہ کبوتر تندور مىں جل چکا تھا۔(25)
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہدیدار ِ مرشد کی بدولت شفا پانے کا ایک واقعہ بیان فرماتےہیں: اىک دفعہ مجھے مہار شرىف مىں بخار ہوگىا، چند دن تک بخارا رہنے کی وجہ سے کمزوری آگئی اورمىرا رنگ زرد ہوگىا، آخر مرض کى شدت، بے خوابى اور کم خورى کى وجہ سے مىرى حالت بہت خراب ہوگئى، مىں مسجد سے باہر آکر قبلۂ عالم حضرت خواجہ نورمحمد چشتی مہاروی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کى گزر گاہ پر یہ امىدلے کر بىٹھ گىاکہ زیارت ِ مرشد کی بدولت شفانصیب ہوگی۔جب قبلۂ عالمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تشریف لائے، مرض کی شدت ملاحظہ کرکے ارشاد فرمایا: ’’اے روہىلہ! تمہیں کىا ہوگىا ہے۔‘‘مىں نے عرض کىا : ” کئى دنوں سے مجھے بخار ہے۔ “ فرماىا: ’’تمہارے وطن مىں بخارکا کىا علاج کرتے ہىں۔‘‘میں نےعرض کىا: روغنِ زرد کو بکری کی کھال میں پکاکرپلاتے ہىں ۔ “ فرماىا: ’’تم بھى اىسا ہى کرو۔‘‘ مگر اپنے پاس سے کوئى دوا دى ، نہ کسى سے فرماىا کہ روغنِ زرد مہىا کىا جائے۔حضرت قبلہ ٔعالم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے جانے کے بعد مىرا بخار اُتر گىااور مىں بالکل تندرست ہوگىا، آپ کى زىارت سے مىرى بىمارى ختم ہوگئی۔(26)
ایک روز حضرت خواجہ نور محمد مہاروی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسےفرمایا: ” اے روہىلہ! تمہارى والدہ تمہارى جدائى و فراق کے درد مىں دن رات روتى ہے، اوراُن کےغمزدہ سىنے سے آہىں نکلتى ہىں، آپ اپنى والدہ کے پاس جائىے مگر دىکھنا وہاں جا کر باغى نہ ہوجانا، اپنى والدہ سے ملاقات کرکے اور چند روز ان کى خدمت مىں رہ کر ان کى تسلى کرکےپھرمىرےپاس آجانا۔‘‘چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنى والدہ صاحبہ کى خدمت مىں روانہ ہوگئے۔(27)
حضرت خواجہ سلیمان تونسوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بارگاہ ِ مرشد سے ملنے والی عطاؤں کا یوں تذکرہ فرمایا: حضرت قبلۂ عالم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےہم پراس قدر عنایت فرمائی ہے کہ ظاہری و باطنی نعمتیں ہمیں حاصل ہیں بلکہ روزبروز آپ کافیض ہم پر زیادہ ہی ہورہاہےہمیں کسی چیز کی محتاجی نہیں ہے۔(28)
٭ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ افغان تھے اسی لئےآپ کو”روہیلہ“کہہ کر بلایا جاتا تھا۔ (تاریخ مشائخ چشت، ص۴۶۲)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع