30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت خواجہ سلیمان تونسوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ باکرامت بزرگ تھے چند کرامات ملاحظہ کیجئے:
(۱)مکڑیوں نے نقصان پہنچانا چھوڑ دیا
باجرے کی تیار فصل کو مکڑیوں نےبہت نقصان پہنچایا تو لوگ آپ کی بارگاہ میں اس آزمائش سے نجات کے لئے فریاد لے کر حاضر ہوئےآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےاُن لوگوں سےارشاد فرمایا: ایک مکڑی پکڑکراُسےمیری جانب سے کہو: ” اے مکڑی! تجھے تونسہ والا فقیر کہتا ہے کہ تو بھی خدا کی مخلوق ہےہم بھی خدا کی مخلوق ہیں تمہارا رزق یہ گھا س ہے اِسے کھاؤ،ہمارا رزق باجرہ ہے وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہمارے لئے پیدا کیا ہے اُ سے ہم کھاتے ہیں پس ہمارے رزق میں کیوں دست درازی کرتی ہو ۔اگر باجرےسے باز آجاؤ تو بہتر ہے ورنہ تمہیں ماردوں گا۔ “
چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے بتائے طریقے پر عمل کی برکت سے مکڑیوں نے باجرے کو نقصان پہنچانا چھوڑ دیا۔(97)
ایک شخص حسن علی رات دن اپنے کھیتوں میں کام کیا کرتااور کبھی دو اور کبھی تین دن بعد گھر آتا، اس کام میں بارہ سالہ بیٹایار محمدبھی اس کاہاتھ بٹایا کرتا ۔ ایک دن حسن علی کےبیٹے یار محمد کو اپنی والدہ کی یاد آئی تو وہ اپنے والد سے اجازت لے کر گھر چلا گیا ۔ جب تین دن بعد حسن علی گھر واپس آیا تو اُسے معلوم ہو ا کہ اُس کا بیٹا یار محمد گھر پہنچا ہی نہیں۔لہٰذا وہ اپنے بیٹے کی تلاش میں دوڑ پڑا ، شہر کا چپہ چپہ اور اطراف کے تمام گاؤں میں تلاش کیا مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا آخر کار تھک ہار کر حضرت خواجہ محمدسلیمان تونسوی چشتی نظامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور گریہ و زاری کرتے ہوئے اپنی مشکل یوں بیان کی : میرا بیٹا کھو گیا ہے ، بہت تلاش کیا مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا،اب ایک آپ ہی کی ذات گرامی وسیلہ ہے خدارا! میرا بیٹا مجھ سے ملا دیجئے ۔چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےاس پر یشان حال کو تسلی دی پھر یوں دعا فرمائی: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! تمام امور کا آغاز و انجام بخیرہو اور ہمارے تمام کاموں کی انتہاء بھی بخیر ہو۔ پھر آپ نے سورۂ فاتحہ پڑھنا شروع کی، اسی دوران کسی نے حسن علی کو بتایا کہ تیرا بیٹا آ گیا ہے اور باہر کھڑا ہے،فاتحہ کےاختتام پرآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے بغیر ادھر اُدھر دیکھے ارشاد فرمایا: حسن علی ! تمہارا بیٹا آگیا ہے ۔عرض کی: حضور! یہ آپ کی توجہ سے آگیا ہےچنانچہ یار محمد آیا، سلطان العارفین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے قدموں میں گر گیا ۔حضرت سے اجازت لے کر گھر واپسی ہوئی تو حسن علی نے اپنے بیٹے سے پوچھا : واپس کس طرح آئے۔ اس نے بتایا: بابا! میں طلب ِ علم کے ارادے سے دہلی کی طرف روانہ ہوگیا تھا جب قریہ عبدالرحمٰن میں پہنچا تو وہاں کشتی نہ تھی تین دن کشتی کے انتظار میں رہا اور آج میں اسی شہر کے لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا تو ایک سوار نے میرے نزدیک آکر کہا : اے بچے! تو یہاں کھیل رہا ہے اور تیرا باپ تیرے فراق میں گریہ و زاری کر رہاہے میرے ساتھ آ، تاکہ میں تجھے تیرے گھر پہنچا دوں ۔یہ کہہ کر میرا بازو پکڑا ، گھوڑے پر بٹھا یا اور یہاں تونسہ لاکر اُتار دیا۔(98)
حکیم میاں محمد بخش چشتیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبادشاہ شجاع الملک کے لشکر سے بچھڑ گئے یہ بھی خوف تھا کہ آپ کو خراسانی گرفتار نہ کرلیں ،جب جان پہ بن آئی تو حکیم صاحب نے اپنے پیر و مرشد حضرت خواجہ محمدسلیمان تونسوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی بارگا ہ میں اِسْتَغَاثہ پیش کیا ،ابھی یہ سلسلہ جاری ہی تھا کہ یکایک پہاڑ کی اوٹ سے ایک گھڑ سوار برآمد ہوا اوراُن سے کہنے لگا: کہاں جاؤ گے ؟ آپ نے کہا: میں بادشاہ شجاع الملک کے لشکر میں شامل تھا لیکن راستے میں بچھڑ گیا ہوں آپ کون ہیں؟ گھڑ سوار نے اپنا تعلق بھی شجاع الملک کے لشکر سے بتایااورحکیم صاحب کو ان کے لشکر تک پہنچادیا۔(99)
ایک مرتبہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہقبلۂ عالم حضرت خواجہ نور محمد مہاروی چشتی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکےمزار کی زیارت کے لئےمہارشریف تشریف لارہے تھے جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہجہان پور پہنچے توآپ کا ایک مرید عبد الوہاب بارگاہ میں حاضر ہوا اور یوں عرض کی: میرے گھر میں بڑی چیونٹیوں نے سوراخ کردیا ہے،دن رات گھر میں گھومتی رہتی ہیں ایک لمحہ آرام نہیں ہے ،دعافرمائیے کہ یہ دفع ہوجائیں۔ اس کی عرض سُن کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےاپنےایک مرید سےفرمایا: جائیے اور میری طرف سے کہہ دیجئےکہ فلاں شخص تمہیں کہتا ہےکہ میرے گھر سے چلے جاؤ ورنہ تمہیں بہاولا لانگڑی والا مارے گا۔جب یہ پیغام چیونٹیوں کو پہنچایا گیا تو فوراً وہ گھرسے چلی گئیں۔(100)
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع