30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت خواجہ شمس العارفینرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہکی ولادت با سعادت ۱۲۱۴ھ مطابق 1799ء کوموضع سیال،ضلع گلزارِطیبہ(سرگودھا،پنجاب)میں ہوئی۔(89) ظاہری علوم کی تکمیل کے بعدآپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسلطان ُالعارِفین خواجہ محمد سلیمان تونسویرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں حاضر ہو کر بیعت ہوئے ۔ (90) آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی عمر مبارک تقریباً 36 سال ہوئی تو آپ کے پیر و مرشد حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےخلافت سے نوازا اور ہدایت فرمائی کہ بیعت کا کام بڑے اہتمام سے کرنا، اپنے اشغال (ذکر و فکر)میں مصروف ہوکر اس کو نظر انداز نہ کردینا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دستِ اقدس پرسب سے پہلے آپ کے والدین کریمین نے بیعت کی پھر دیگر لوگ مرید ہوئے۔ (91) آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہآسمانِ علم وعرفان پر مہر وماہ بن کرچمکے ،مسندِ رشد وہدایت بچھائی،علم کے پیاسوں کے لئے درس گاہ قائم فرمائی، ظاہری وباطنی علوم کے دروازے کھول دیئے،خلقِ خدا پروانہ وار آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی، تسکینِ دل وجان اورمنزلِ مراد پائی،آپ نے رشد وہدایت کا پیغام اعلیٰ پیمانے پر خواص وعوام تک پہنچایا،اپنے روحانی فیض وکمال سے ایک عالَم کو سیراب کیا، بے شمار مریدین کو دَرَجَۂ کمال تک پہنچایا،حضرت سیّدغلام حیدرشاہ جلالپوری اور حضرت پیر سیّدمہر علی شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا آپ کے مشہورخلفاء میں سے ہیں ۔(92) آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا فیضان جلال پورشریف، گولڑہ شریف،معظم آباد شریف کی خانقاہوں سے دنیا بھر میں عام ہوا۔(93) ۲۴صفر المظفر۱۳۰۰ ہجری کووصال ہوا۔(94) آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا مزارپرانوار سیال شریف ضلع گلزارِ طیبہ (سرگودھا) صوبہ پنجاب پاکستا ن میں مَرجَعِ خَلائِق ہے۔(95)
حضرت خواجہ محمدسلیمان تونسوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکےملفوظات علم و حکمت سے بھرپور ہوا کرتے،چند ملفوظات ملاحظہ کیجئے:
٭…اکثر لوگوں کی صورتیں انسانوں جیسی ہیں لیکن انسانوں کی سی عادات و خصائل سے عاری ہیں ،آدمیت اور انسانیّت تو عمدہ اخلاق اور اچھے اعمال کا نام ہے۔
٭…سالک دل میں دنیا کی محبت رکھ کرخدا تک نہیں پہنچ سکتا۔
٭…جودنیا کے پیچھے پڑتاہےرات دن دنیوی خیالات میں مُسْتَغْرَق ہے اور ذلیل و خوار ہورہا ہے۔
٭…بعض لوگ مظہر خیر ہوتے ہیں ان سے ہمیشہ اچھائی ہی ظاہر ہوتی ہے اور بعض لوگ مظہر ِ شر ہوتے ہیں ان سے برائی ہی ظاہر ہوتی ہے۔
٭…آدمیوں کو لاحق ہونے والا رنج و غم ان کے برے اعمال کی شامت ہے۔
٭…حرام کھانے والا تنگ دستی کا شکار رہتا ہے۔
٭…خود کو سب سے زیادہ گناہ گار سمجھنے والا ” نیک آدمی “ اور خود کوسب سے زیادہ نیک سمجھنے والا ” برا آدمی “ ہے۔
٭…دنیا کے موجود ہونے میں ہزاروں آفتیں ہیں اور اس کے نہ ہونے میں دونوں جہانوں کی عافیت ہے ۔
٭…اچھے اعمال ” رحمتِ الہٰی “ اور بُرے اعمال ” قہرِ الہٰی “ نازل ہونے کا سبب ہیں۔
٭…مخلوق کی محتاجی میں ذِلّت ہے ۔
٭…عالِم اور جاہل میں اتنا ہی فرق ہے جتنا ” سونے “ اور ” مٹی “ میں ، علم تمام اوصاف حمیدہ(اچھی صفات) میں اعلیٰ صفت ہے اور جہالت اوصافِ رزیلہ(برائیوں) میں بدتر صفت ہے۔
٭…برے لوگوں کی صحبت سے پرہیز کرنا چاہئے کیوں کہ صحبتِ بدانسان کو خراب کردیتی ہے ۔
٭…علم بغیر ہدایت کے کچھ فائدہ نہیں دیتا۔
٭…قناعت وہ خزانہ ہے جو خرچ کرنے سے ختم نہیں ہوتا۔(96)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنکی سیرت و کردارکو اپنانے اور ان کے علم و حکمت بھرے ملفوظات پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بجاہِ النبی الامین صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع