30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
دنیا دار کی دوستی کا اعتبار نہیں
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہجس طرح دنیاسےبے رغبتی اپنانے کی ترغیب دیا کرتے اسی طرح دنیا داروں سے دور رہنے کی نصیحت فرمایا کرتے تھےچنا نچہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں: اللہ والوں کى دوستى دونوں جہانوں مىں کام آتى ہے، لىکن دنىا داروں کى دوستى کا کوئى اعتبار نہىں۔(78)
حضرت خواجہ محمدسلیمان تونسوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکےجاری کردہ لنگر شریف سے ہر درویش کے لئے دو روٹیاں مقرر تھیں ۔ایک دن اشراق و چاشت ادا فرمانے کےبعدآپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ گھرتشریف لےجارہے تھے کہ راستے میں دو درویشوں کو باہم دست و گریبان دیکھا،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےلنگر کی ذمہ داری پرمتعین فرد کو بلا کر ارشادفرمایا: ان درویشوں کو میں روٹی یادِخدا کے لئے دیتا ہوں جب پیٹ بھر کر کھاتے ہیں تو طاقت آنے پر آپس میں لڑتے ہیں ،آج کے بعد ایک روٹی دینا تاکہ بھوکے رہیں اور کسی کو لڑائی یاد نہ آئے ۔جو کوئی خدا کا طالب ہے اور میر ی محبت میں مبتلا ہے تووہ یہاں رہے گااورجو صرف نفس کا طالب ہے اورصرف روٹی کے لئے پڑا ہے وہ خود بھوکا رہ کرچلاجائےگا۔(79)
رشوت خور قاضی کی قبر میں ڈال دوں گا!
ایک مرتبہ آپ کی بارگاہ میں سنگھڑ سے بارش کی دعا کرانےکےلئے لوگ حاضر ہوئے،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی اُٹھے اور بادل کو میرا یہ پیغام دے : اگر ابھی بارش ہوجائے اور پہاڑی نالہ میں پانی آجائے تو بہترورنہ تمہیں رشوت خورقاضی کی قبر میں ڈال دوں گا ۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اسی وقت بادل آئے ،خوب بارش ہوئی جس سےتمام علاقہ سیراب ہوگیا ۔(80)
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے ایک مریدحاجی خان کاتب فرماتے ہیں : مَیں ایک دن پاک پتن شریف حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے عرس میں حاضر تھا حضرت میاں محمد باقر چشتی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی تشریف لائے ہوئے تھے میں ان کی زیارت کے لئے حاضر ہوا تو انہوں نے پوچھا : تم کون ہو؟ جب میں نے اپنا تعارف حضرت خواجہ محمدسلیمان تونسویرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا مرید ہونے کی حیثیت سے کرایا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا: ” جانتے ہو تمہارے پیر کا کیا مقام و مرتبہ ہے؟ عرض کیا: آپ ہی ارشاد فرمادیجئے ۔فرمایا: حق تعالٰی نے تمہارے پیر کو درجۂ محبوبیت عطا کیا ہے کہ قطبیت وغوثیت کے تمام مقامات طے کرکے مقام ِ محبوبیت پر پہنچ گئے ہیں ۔ “ (81)
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اشاعتِ دین کو اپنی حیاتِ طیبہ کی اصل قرار دیا، عمر بھر مسندِ علم وحکمت بچھائے رکھی،عُلُوم ومَعَارِف کی تَرْوِیج وترقی کے لئے مصروفِ عمل رہے،آپ کی جلائی ہوئی شمع کے گرد،دُور دُور سے پروانے جمع ہوئے،آپ کے فیضان سے ہزاروں ارادت مندوں نے فیض پایا،آپ کی آمد سے تونسہ شریف (ضلع ڈیرہ غازی خان)مرجعِ اَنام اور مرکزِ علم وعرفان بن گیا، طالبانِ حق سینکڑوں میل طے کر کےتحصیلِ فیض کے لئے تونسہ شریف کی خاک کو چومنے پہنچے۔ اسلام کے عالمگیر پیغام سے انسانیت کو روشناس کرانے اوراس کی ابدی سچائیوں کو انسانی قلوب واذہان میں راسخ کرنے کے لئے جو کار نامہ اور عملی نمونہ حضرت خواجہ سلیمان تونسوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے پیش کیا ہے وہ آپ ہی کا حصہ ہے۔ (82)
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکےتین شہزادے تھے: (1)حضرت خواجہ گل محمد چشتی نظامیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ(2)حضرت خواجہ درویش محمدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (3) غوثِ زماں حضرت عبداللہمعصوم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ۔ان تینوں شہزادوں کا انتقال آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی ظاہری حیات ہی میں ہوگیا تھا۔(83)
حضرت خواجہ سلیمان تونسوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے فیضان سےبےشمارلوگ فیض یاب ہوئے جن میں عوام و خواص دونوں شامل تھے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے دینِ اسلام کی اشاعت کے لئے جس کو اہل پایا اُسے اپنی صحبت سے نواز کرمزید تراشہ اور خلافت عطافرما کر فیضان ِ اسلام عام کرنے لئے بھیج دیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے خلفائے عظام کی تعدادستّر ہے(84) اُن میں سے چند کا تذکرہ ملاحظہ کیجئے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع