30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رہتے،اس کے بعد اشراق و چاشت کے نوافل ادا فرماتے،دلائلُ الخىرات پڑھتے اس دوران حجرہ بند رہتا صرف حاجت مند کو آنے کی اجازت ہوتی ۔پھر آپ ناشتہ فرماتے پھر لوگوں کے درمیان تشریف لاتے ،تصوّف کی کُتب احیاء العلوم، فوائد الفواد ،فتوحاتِ مکیہ،فصوص الحکم اور نفحاتُ الانس کی تدریس کا سلسلہ ہوتا۔ درس و تدریس سے فراغت کے بعد قیلولہ فرماتے،نمازِ ظہر کے لئے بیدار ہوتے وضو کرکے نمازِ باجماعت ادافرماتے ، اوراد و وظائف پڑھتے،نمازِ عصر تک شرعی مسائل بیان کرنے کا سلسلہ ہوتا، عصر کى نماز ادا فرمانے کے بعد اکثر مراقبہ اور استغراق مىں مشغول رہتے۔نمازِ مغرب تازہ وضو سے ادا فرماتےپھر صلوۃُ الاوابین ادا فرماتے۔پھر حجرے میں تشریف لاکر کھانا تناول فرماتے،اس کے بعد وعظ و نصیحت کا سلسلہ ہوتا،پھرختمِ خواجگان پڑھتےالبتہ رمضان المبارک میں ختمِ خواجگان بعد نمازِ عصر پڑھتے۔نمازعشاء کے لئے تشریف لاتے اور باجماعت نمازادا فرماتے ، عشاء کے بعد کسى سے بات چىت کرنا ناپسند فرماتے،سونے سے قبل سرمہ لگاتے اورپھر آرام کے لئے لیٹ جاتے ۔پھر تہجد میں بیدار ہوکر بارہ رکعت ادا فرماتےاوراوراد و وظائف میں مشغول ہوجاتے۔نماز فجر کی ادائیگی کے لئے مسجد تشریف لے جاتے ۔سالہاسال تک آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا یہی معمول رہا۔(54)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسویرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکےشب و روز کے معمولات کا نمایاں پہلو ” استقامت “ ہے۔حضرت سیِّدُنا ابو علی جوزجانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: ’’استقامت اختیار کرو، کرامت کے طلب گار نہ بنو کیونکہ تمہارا نفس کرامت کی طلب میں متحرک ہے حالانکہ تمہارا ربّ عَزَّ وَجَلَّتم سے استقامت کا مطالبہ فرماتا ہے۔‘‘(55)بزرگا ن ِ دین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن نے کئی کئی بَرَس مسلسل روزے بھی رکھے روزانہ تین تین سو، پانچ پانچ سو اور ہزار ہزار نوافل ادا کیے۔ روزانہ پورا قرآنِ پاک تلاوت کرلیتے، کئی کئی ہزار مرتبہ دُرودِ پاک پڑھا کرتے۔ یہ سب کیسے ہوجاتا اور پابندی کے ساتھ ایسے عَظِیْمُ الْمَرْتَبَت اُمور کس طرح انجام دے لیتے تھے؟ آخر وہ کون سی طاقت تھی؟ وہ استقامت کا انعام تھا جو شیطان کے ہر وار کو ناکام بنادیتا تھا ،اگر آپ بھی اپنے اندر استقامت پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ان مدنی پھولوں پر عمل کیجیے :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جس کا ذہن منفی خیالات کی پناہ گاہ ہوتا ہےاس کادماغ کسی بھی طرح سکون نہیں پاتااورنہ ہی اچھی سوچ اس ذہن میں پروان چڑھتی ہے ۔ اس کی نحوست سے بندہ بےجا فکروں میں گھِر ا رہتا ہے اوربسااوقات جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ایسی صورت میں بندہ نیکیاں نہیں کرپاتااوراگر نیکیاں اختیار کرلےتو ان پر استقامت نہیں ملتی۔ لہٰذا استقامت پانے کے لیے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ آپ مثبت ذہن رکھئے۔
(۲)اصلاح خندہ پیشانی سے قبول کیجئے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جس طرح کسی درخت کی خوب صورتی وقتا فوقتا اس کی کانٹ چھانٹ سے ہوتی ہے ایسے ہی انسان کی ذاتی خوبیوں کو نکھارنے کےلیے اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا اگرکسی کام میں اصلاح کا مدنی پھول پیش کیا جائے تو ہمت ہارنے ،وہ کام چھوڑدینےاوراصلاح کرنے والے سے اُلجھنے کے بجائے اصلاح قبول کیجئے اس کی بدولت آپ کی کارکردگی اور صلاحیت میں کئی گنا اضافہ ہوگا ۔
(۳) نیک بننے کے نسخے اپنائیے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نیکیوں پر استقامت نہ ملنے کی بہت بڑی وجہ نیک بننےکےنسخےنہ اپنا نا بھی ہے کیوں کہ کسی بھی خامی کودور کرنے کے لئے اس کا علاج بہت ضروری ہوتا ہے اور استقامت جیسی خوبی پیدا کرنے کےلئے نیک بننے کے نسخے اپنا نابےحدمفید ہے ۔نیک اعمال پر استقامت پانے کا ایک مدنی نسخہ یہ بھی ہے کہ آپ عاشقانِ رسول کی مدنی تحریک دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو جائیے، اپنے علاقے میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کےہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کیجئے، امیر اہل سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا کردہ عظیم مدنی مقصد ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔‘‘ کے تحت خود بھی مدنی انعامات پر عمل کیجئے اور دیگر اسلامی بھائیوں کو بھی اس کی ترغیب دلائیے، مدنی مرکز کے دئیے ہوئے جدول کے مطابق ہرماہ تین دن مدنی قافلے میں سفر کو اپنا معمول بنالیجئے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی برکت سے پابند سنت بننے، گناہوں سے بچنے، نیک اَعمال کرنے، اُن پر استقامت حاصل کرنے اور آخرت کے لیے کڑھنے کا مدنی ذہن بنے گا۔
ایمان پہ رب رحمت دے دے تو استقامت دیتا ہوں واسطہ میں تجھ کو ترے نبی کا
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع