30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مفتیِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ کا بچپن شریف
مفتیِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ کی عمر شریف جب چار سال چار ماہ اور چار دن ہوئی تو خود امامِ اہلِ سنّت اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے رسمِ بسمِ اللہ فرمائی اورپھر اپنے بڑے شہزادے حُجَّۃُ الاِسلام مولانا حامد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کو آپ کی تعلیم و نگہداشت(یعنی نگرانی) کے لئے خاص طور پر مُقرَّر فرمایا ۔ جب آپ کی رسم ِ بسمِ اللہ ادا ہوئی آپ اُس وقت نماز اور وضو کے مسائِل سیکھ چکے تھے۔ مفتیِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ کاتین سال میں ناظرہ قرآن ِ کریم مکمل ہوا۔آپ کی مکمل تعلیم دارُالعُلوم مَنْظَرُ الاِسلام (سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے بریلی شریف میں واقع مدرسے) میں ہوئی۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ اوراد و وَظائف اور تلاوتِ قرآنِ کریم کے بچپن سے ہی پابند تھے کبھی کسی کو نماز کےلئے کہنے کی ضرورت نہ پڑی۔
(جہانِ مفتیِ اعظم، ص65ملتقطاً)
پہلا فتویٰ
مفتی ِاعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ 18سال کی عمر میں (باقاعدہ دینی تعلیم سے)فارغُ التَّحصیل ہوئے ۔آپ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنے والدِ محترم کی طرح پہلا فتویٰ ’’رضاعت (یعنی بچوں کے دودھ پینے)کے مسئلہ ‘‘پر لکھا۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے جواب صحیح ہونے پر بہت خوشی کا اظہار فرمایا۔اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے پہلے فتوے پر جو خوشی آپ کے والدِ محترم حضرتِ علّامہ مولانانقی علی خان رحمۃ اللہ علیہ کو ہوئی تھی ویسی ہی خوشی اپنے شہزادے ، حضور مفتیِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ کے فتوے سے آپ کو ہوئی اورآپ نے خود”مہر “ (Stamp) بنوا کر عطا فرمائی ۔
(جہانِ مفتیِ اعظم، ص65ملتقطاً)
شارحِ بخاری مفتی شریفُ الْحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ پہلے فتوے کا دِلْچسپ واقعہ کچھ اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع