30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے دن اگر اللہ پاک نے پوچھ لیا کہ تو نے میرے فلاں بندے کی پریشانی میں کیوں مدد نہیں کی؟ تو میں کیا جواب دوں گا؟“یہ فرماتے ہی انہوں نے رکشےسے اپناسارا سامان اُتروا لیا اور اس شخص کی مدد (یعنی تعویذ لکھنے)میں مصروف ہو گئے۔
اے عاشقانِ اولیا!کیا آپ جانتے ہیں وہ عالم ِ دین و مفتی ِاسلام کون تھے ؟وہ بزرگ ہستی امامِ اہلِ سنّت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ علیہ کے شہزادے حضورمفتیِ اعظم ہند حضرت علامہ مولانا مصطفیٰ رضا خان نوری رحمۃ اللہ علیہ تھے ،آپ اپنے والدِ محترم کی طرح علم ، تقویٰ اور خدمتِ خلق میں بے مثال تھے۔
مخلوقِ خدا کی خدمت کا آپ کاایک اور واقعہ پڑھئے!حضور مفتیِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ 3 اپریل 1974ء بدھ کے دِن’’ذَاکر نگر جمشید پور‘‘ میں کسی کے یہاں قِیام فرماتھے،رات جلسے کی وجہ سے کافی تاخیر ہوگئی،فجر سے پہلے بہت تھوڑا وقت آرام کرنے کو ملا ،اس لئے بعد نمازِ فجر اَوراد و وظائف سے فارغ ہوکر آنکھوں میں سُرمہ لگا کر سونے کا ارادہ فرمایا، اتنے میں جو لوگ موجود تھے ان کو کوئی صاحب ہٹانے لگے۔ حضورمفتیِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ نے اُن سے فرمایا:ان لوگوں سے پوچھ لیں،شاید ان کو کوئی حاجت ہو ،گویا آپ نے اسے ناپسند فرمایا کہ ان کو ہٹایا جائے اور آپ رحمۃ اللہ علیہ کا ہمیشہ یہی معمول تھا کہ تمام لوگوں کی ضروریات پوری فرمانے کے بعد آرام فرماتے ،ہاں خود سے لوگ خیال کرتے ہوئے اُٹھ کر چلے جائیں تو دوسری بات ہے۔آپ رحمۃ اللہ علیہ ’’ہٹو! حضرت کو آرام کرنے دو،آپ لوگ جائیں حضرت سوئیں گے،آپ لوگ آرام کرنے دیں‘‘اس قسم کے جُملوں سے ناراض ہوتے تھے کہ شاید کسی کا دل نہ ٹُوٹ جا ئے یا کسی کی کوئی اَہم ضرورت پوری ہونے سے رہ جائے۔
(جہانِ مفتیِ اعظم،ص903)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع