30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوسرے ہاتھ میں موبائل رکھتا ہے جس پر دوستوں سے کم ازکم تحریری گفتگو (بذریعہ ایس ایم ایس )جاری رہتی ہے اور یوں یہ موقع بھی گنوادیتا ہے اور طلبہ کے اجتماعی مطالعہ کی حالت بھی انتہائی نازک صورت حال سے دوچار ہے اِدھر کسی طالب علم کے موبائل پر کوئی ایس ایم ایس آیا اُدھر کتاب رکھ کر ایک دوسرے کو وہ میسج سنانے اور اس پر تبصرے کرنے شروع کردیتے ہیں ۔([1])
استادِ محترم حضرت علامہ صدر الافاضل سیّدمحمدنعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو دستارِ فضىلت باندھنے کے ساتھ ہى جامعہ نعىمىہ مراد آباد مىں تدرىس کے فرائض سونپ دىئے ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جلد ہى اپنے آپ کو اىک کامىاب مدرس ثابت کردىا، ساتھ ساتھ جامعہ نعىمىہ مىں فتوىٰ نوىسى کى خدمات بھى سر انجام دینے لگے ۔پھر صدر الافاضل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی ہدایت پرمدرسہ مسکینیہ ( دھوراجی، کاٹھیا واڑ ہند ) تشریف لے گئے جہاں 9 سال تک تدریس سے وابستہ رہے جب مدرسہ مسکینیہ گردش لیل ونہار کا شکار ہوکر مالی مشکلات سے دوچار ہوا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جامعہ نعیمیہ لوٹ آئے پھر ایک سال بعدحضرت صدر الافاضل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی ہدایت پر علم و عمل کا یہ دریا کچھ عرصہ کچھوچھہ شریف اورپھر بھکھی شریف (تحصیل پھالیہ ضلع منڈی بہاؤ الدین )میں بہتا رہااس کے بعد اہل ِ گجرات کی قسمت کا ستارہ چمکا اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہضلع گجرات (پنجاب پاکستان)تشریف لے آئے اور زندگی کے تمام ایام یہیں گزاردئیے بارہ تیرہ برس دارالعلوم خدّامُ الصّوفیہ گجرات اور دس برس انجمن خُدّامُ الرَّسول میں فرائضِ تدریس انجام دیتے رہے ،وصال سے چھ برس قبل جامعہ غوثیہ نعیمیہ میں تصنیف،اِفتاء اور تدریس کا کام جاری رکھا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے (سوائے علم المیراث کے )اپنی تمام تصانیف گجرات ہی کے زمانے میں تحریر فرمائیں جن کی روشنی گجرات سے نکل کرعالم میں چہار سُو پھیل گئی ۔([2])
مفسر شہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کى پوری زندگى وقت کی پابندى اور مستقل مزاجى کے معاملے میں مشہور ہے ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہر ایک کو وقت کى قدر کا حکم فرماىا کرتے تھے کام مختصر ہو یا طویل جسے آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہایک مرتبہ شروع فرمالیتے اسے استقامت کے ساتھ مقررہ وقت پر ہی ادا کرتے جس کا اندازہ آپ کے حالات و معمولات سے بخوبی ہوجاتا ہے چنانچہ روزانہ بعد نمازِ فجرپون گھنٹہ روح پَروَر اجتماع جامع مسجد غوثیہ (پاکستان چوک،ضلع گجرات) منعقد ہوتا جس میں کبھی کمی ہوتے دیکھی گئی نہ زیادتی، پورے آدھا گھنٹا درسِ قرآن ہوتاجبکہ پندرہ منٹ درسِ حدیث کے ہوتے جسے سننے کے لئے لوگ دَس دَس میل دور بلکہ دور دراز شہروں سے بھی آتے چالیس سال کے طویل عرصے میں درس قرآن مکمل ہوا تو پھر دوبارہ شروع فرمادیا جو وصالِ مبارک تک جاری رہا، درس ِقرآن وحدیث کے بعد اشراق وچاشت کے نوافل ادا کرتے پھر ناشتے سے فارغ ہوکر تدریس کی خدمات سرانجام دیتے اور علم و حکمت کے مدنی پھولوں کی خوشبوؤں سے طلبہ کے دل و دماغ کو معطر و معنبر کرتے پھر دو گھنٹے تک تصنیف وتالیف میں مشغول رہا کرتے اس کے بعد دوپہر کا کھانا تناول فرماتے اور ایک گھنٹہ قیلولہ(یعنی دوپہر کے وقت کچھ دیر آرام ) فرماتے ، نماز ظہر کے بعد ایک پارہ تلاوت کرتے اور پھر تحرىر و تصنىف کی مصروفیت کے ساتھ ساتھ ملک بھر سے آئے ہوئے سوالات اور خطوط کے جوابات ارشاد فرماتے یہاں تک کہ نماز عصر کا وقت ہوجاتا ، بعد نماز عصرچہل قدمی کرتے ہوئے حضرت سچى سرکارسائیں کرم الٰہی کانواں والی سرکارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارکے مزار پرانوارپر حاضر ہوتے ، جاتے ہوئے زبان پر درودِ تاج کے نذرانے ہوتے تو لوٹتے ہوئے دلائل الخیرات شریف وردِ زباں ہوتی اور عین اذان ِمغرب کے وقت مسجد میں سیدھا قدم رکھتے ، نمازِ مغرب ادا کرنے کے بعدگھر آکر سنتیں،نوافل اور صلوٰۃ الاوَّبین ادا کرتے پھر کھانا تناول فرماتے اس کے بعد گھڑی دیکھ کر گیارہ منٹ تک چہل قدمی فرماتے اور پھر نماز عشاء تک مطالعہ میں مصروف رہتے ، عشاء کی نماز باجماعت پڑھ کر سنّت و نوافل گھر میں ادا کرتے اور گیارہ منٹ تک طلبہ سے فقہی مسائل پر گفتگو فرماتے اور پھر آرام کے لئے تشریف لے جاتے ۔([3])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع