30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے صَدَقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے زمانہ طالب علمی میں اىک رات طالب علموں نے خوب شور شراباکیا اور کافی دیر تک غُل غَپاڑہ مچاتے رہے جس کی وجہ سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے اَسباق کا مطالعہ بالکل نہ کرسکے ، صبح درجے میں استادِمحترم علامہ قدىربخش بدایونیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے ” نحو مىر“ کا سبق پڑھنے بىٹھے تو انتہائى توجہ اور ىکسوئى کے باوجود بھی سبق سمجھ میں نہیں آیا ، استاد محترم سبق کى تقرىر کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ابتدائی سبق سمجھ نہ آنے پر پىچ و تاب کھارہے تھے ، بالآخرآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی آنکھیں بھر آئیں اور ٹَپ ٹَپ آنسو گرنے لگے استاد محترم نے ىہ منظر دىکھا تو فرمانے لگے : احمد ىار خان !کىا پریشانی ہے رات مطالعہ نہیں کیا اور پھر بھی سبق سمجھنے کى کوشش کرتے ہو؟پھر شفیق اور مہربان استاد نے درجے میں باوضو بیٹھنے کی ترغیب دلائی، استادِمحترم علامہ قدیربخش بدایونیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی نگاہِ کشف و بصیرت دیکھ کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حیرت زدہ رَہ گئے چنانچہ آپ نے استادِ محترم کی ترغیب پر لبیک کہتے ہوئے درجے میں باوضو بیٹھنے کی نیت کی اور رات کا واقعہ کہہ سنایا جس کی وجہ سے مطالعہ سے محروم رہ گئے تھے حضرت علامہ قدیر بخش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اسی وقت ہدایات جاری کردی کہ احمد یار خان کے لئے فوری طور پر الگ کمرے میں رہائش کا انتظام کردیا جائے ۔ اس نئے انتظام سے مفتی احمدیار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان کی تمام پریشانیاں دور ہوگئیں مزید لطف یہ ہوا کہ اس کمرے میں شیخ الحدیث و التفسیرحضرت علامہ مفتی عزیز احمد بدایونی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی جیسے محنتی اورسمجھ دار طالب علم کی رفاقت میسر آگئی ۔([1])
حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے طالب علمى کا دور بڑی محنت اور جانفشانى سے گزارا بس کتابیں ہوتیں اور آپ ہوتے یہاں تک کہ کھانے کا وقت شروع ہوجاتا تو طلبہ کھانے کا اچھا اور عمدہ حصہ حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے اور جلدی جلدی قِطار میں لگ جاتے مگر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سب سے آخر میں آتے اور بچا کھچا جو بھی میسر آتا لے لیتے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کرتے اکثر اوقات تو روکھی روٹی ہی حصے میں آتی جسے دیکھ کر بوڑھے باورچی کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہوجاتے : میں نے جن طلبہ کو کھانے پر جھپٹتے دیکھا ہے انہیں اپنا وقت ضائع کرتے ہی دیکھا ہے وہ کچھ نہیں کر پاتے تم چونکہ ان سب سے جد ااور الگ ہو اس لئے ایک دن علم کی آفتاب بن کر چمکو گے ۔([2])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقعی علم ِدین کی صحیح قدرو منزلت پہچاننے والے طلبہ ہی علم کے آفتاب و ماہتاب بن کر چمکتے ہیں جن کی کرنوں سے ایک زمانہ روشن ہوتا ہے طلبہ میں علمِ دین کے حصول میں سستی اور غفلت ہر دور اور ہر زمانے میں مختلف رہی ہے اگر کچھ عرصہ پہلے طلبہ کھانے پینے کے شوقین بن کر علم ِدین کے حصول میں غفلت کا شکار تھے تو دور حاضر میں طلبہ کے ہاتھ میں کتاب کے بجائے نت نئے موبائل اور موبائل پر مختلف کالز،ایس ایم ایس پیکجز اور اس میں موجود ریڈیو پر مختلف کھیلوں کی براہ راست کمنٹری نیز فیس بک کا بڑھتا ہوا رجحان انہیں علم سے دور اور غفلت سے قریب کررہا ہے پہلے طلبہ مطالعہ کے ساتھ اورادووظائف کا بھی شوق رکھتے تھے اور نماز کے بعد جیب سے تسبیح نکلا کرتی تھی اور آج موبائل نکلتا ہے پہلے طلبہ کو کسی ایک وقت میں تلاوتِ قرآن کریم کی بھی سعادت حاصل رہتی تھی مگر اب یہ خدمت صرف حفاظ طلبہ ہی انجام دیتے ہیں اور ان میں سے بھی اکثر رمضان کریم کا انتظار کرتے ہیں۔ پھر اگر کوئی طالب علم مطالعہ کے لئے کتاب اٹھا بھی لیتا ہے تو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع