30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کو اپنے والدین کا مطیع وفرماں بردار بننے کی تعلیم دیتا ہے ۔اس لئے اولاد کی ظاہری زیب وزینت ،اچھی غذا،اچھے لباس اوردیگرضروریات کی کفالت کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی و روحانی تربیت کے لئے بھی کمربستہ ہوجائيے ۔([1])
مِری آنیوالی نسلیں ترے عشق ہی میں مچلیں
انہیں نیک تُو بنانا مَدَنی مدینے والے
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
والد ماجد حضرت مولانا محمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان عید کے مبارک دن بہت سی ریز گاری لیتے اور بچوں میں بانٹنے کے لئے باہر بیٹھ جاتے ، بڑی عمر کے افراد بھی یہ کہتے ہوئے پیسے لے لیتے کہ آج تو استاد محترم پیسے بانٹ رہے ہیں ہم بھی کچھ لے لیتے ہیں۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ عمر کے آخری حصے میں بیمار رہنے لگے یہاں تک کہ جسم اچانک سُن ہوجاتااور چلتے ہوئے لڑکھڑاکر گرجاتے مگر مسجد کے ساتھ ایسا تعلق اور دِلی لگاؤ قائم ہوگیا تھا کہ کسی پَل چین نہ آتا، چنانچہ مسجد میں مسلسل حاضر ہوتے ،کئی مرتبہ مسجد کی سیڑھیوں سے گرے اور چوٹیں لگیں مگر کسی حال میں مسجد سے منہ نہ موڑا،بعدِ وصال غسل کے وقت جسم پر چوٹوں اور زخموں کے کافی نشانات موجود تھے ۔([2])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! رضائے الٰہی عَزَّ وَجَلَّ کی خاطر مسجدسے محبت کرنا، مسجد میں اپنا وقت گزارنا اور اسے آباد کرنا یقینا ً خوش بختوں اور سعادت مندوں کا حصہ ہے ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّدعوتِ اسلامی کے تحت عاشقانِ رسول کے سُنّتوں کی تربیت کے بے شمار مَدَنی قافلے مُلک بہ مُلک شہر بہ شہر اورقَریہ بہ قَریہ 3دن، 12دن،30 دن بلکہ 12اور 26ماہ کے لئے بھی سفر کرکے علمِ دین اور سُنّتوں کی بہاریں لُٹا رہے ہیں اور نیکی کی دعوت کی دھو میں مچا رہے ہیں۔ان خوش نصیبوں کا اکثر وقت مسجد میں علم دین کے حلقوںمیں شرکت اور سنتیں سیکھنے سکھانے میں گزرتا ہے آپ بھی تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ، دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کو اپنانے اور عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں کی تربیّت کے مَدَنی قافِلوں میں سفر کرنے کی سعادت حاصِل کیجئے ۔مسجد سے محبت اور اسے آباد کرنے کے متعلق تین احادیث ملاحظہ کیجئے ۔
(1) حضرت سیدنا ابو سَعِیْد خُدْرِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان عالیشان ہے : جب تم مسجد میں کثرت سے آمدورفت رکھنے والے کسی شخص کو دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دو کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّفرماتا ہے : اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ([3])ترجمۂ کنزالایمان : اللہ کی مسجد یں وہی آبا د کرتے ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایما ن لاتے ۔ ([4])
(2)حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نبیوں کے تاجوَر، مَحبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمان پر وقار ہے : جب کوئی بندہ ذکرو نَماز کے لئے مسجد کو ٹھکانا بنالیتاہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے ایسے خوش ہوتا ہے جیسے لوگ اپنے گمشدہ شخص کی اپنے ہاں آمد پر خوش ہوتے ہیں۔([5])
(3)حضرت سیّدنا ابو سَعِیْدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے كہ دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے : جو مسجد سے محبت کرتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے اپنا محبوب بنا لیتاہے ۔([6])
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
[1] تربیت اولاد، ص ۲۳،۲۴وغیرہ
[2] حالات زندگی ،حیات سالک ،ص۶۶ملخصاً
[3] پ ۱۰ ،التوبة : ۱۸
[4] ترمذی ، کتا ب الایمان ، با ب ماجا ء فی حرمة الصلوۃ ،۴/ ۲۸۰حدیث : ۲۶۲۶
[5] ابن ماجہ، کتا ب المساجد والجماعات ، با ب لزوم المساجد،۱/ ۴۳۸، حدیث : ۸۰۰
[6] مجمع الزوائد، کتا ب الصلوۃ ، با ب لزوم المساجد، ۲/ ۱۳۵، حدیث : ۲۰۳۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع