30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مزاراتِ اولیا پر دی جانے والی نیکی کی دعوت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ کو مَزار شریف پرآنا مبارک ہو ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ !تبلیغِ قرآن وسنّت کی عالمگیر غیرسیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کی طرف سے سُنَّتوں بھرے مَدَنی حلقوں کا سِلْسِلہ جاری ہے ،یقینازندگی بے حد مختصر ہے ،ہم لمحہ بہ لمحہ موت کی طرف بڑھتے چلے جارہے ہیں ،عنقریب ہمیں اندھیری قبرمیں اُترنا اور اپنی کرنی کا پھل بھگتنا پڑے گا،اِن اَنمول لمحات کو غنیمت جانئے اور آئیے ! اَحکامِ الٰہی پر عمل کا جذبہ پانے ،مصطَفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی سُنَّتیں اور اللہ کے نیک بندوں کے مَزارات پر حاضری کے آداب سیکھنے سکھانے کے لئے مَدَنی حلقوں میں شامل ہوجائیے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کودونوں جہاں کی بھلائیوں سے مالامال فرمائے ۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم
زندگی کے آخری ایام میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی طبیعت ناساز رہنے لگی تھی چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو مرکز الاولیاء لاہور کے اسپتال میں داخل کردیا گیا
جہاں چند دن رہ کر ۳ رمضان المبارک ۱۳۹۱ھ بمطابق 24اکتوبر1971ء کو علم و عمل کا یہ آفتاب اپنی زندگی کی کرنوں کو سمیٹتے ہوئے اپنے پیچھے لاکھوں لاکھ لوگوں کو سوگوار چھوڑ کر نظروں سے اوجھل ہوگیا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی رحلت سے اسلامی دنیا میں غم کی لہر دوڑ گئی، ہر گلی سونی ہوگئی، ہر کوچہ بے رونق ہوگیا ،ہر آنکھ نم اور دل افسردہ ہوگیا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی نمازِ جنازہ خلیفۂ اعلیٰ حضرت،مفتیٔ اعظم پاکستان حضرت علامہ سیّدابوالبرکات احمد قادری(شیخ الحدیث دارالعلوم حزب الاحناف مرکزالاولیاء لاہور)رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے پڑھائی بعدِ وصال آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا چہرہ مبارکہ پھول کی طرح کھلا ہوا تھا اور یہ تصور کرنا مشکل تھا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پر موت کی کیفیت طاری ہوچکی ہے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی آخری آرام گاہ گجرات سٹی (پنجاب، پاکستان) میں ہے ۔([1])
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور اُن کے صَدَقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
غزالیِ زَماں اورمفتی احمد یار خاں پر سلطانِ دو جہاں کا احساں
شیخِ طریقت ،امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی مایہ ناز تالیف ’’عاشقانِ رسول کی 130 حکایات‘‘کے صفحہ 162 پر نقل فرماتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت شیخ علاؤ الدین اَلْبِکْرِی الْمَدَنی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الغَنِی کے والدِ محترم حضرت شیخ علی حُسین مَدَنی علیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ الغنی کے ہاں مدینۂ طَیِّبہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں محفِلِ میلادمُنعَقِد ہوئی جو کہ پُر ذَوق محفِل تھی اور انوارِ نبوی خوب چمکے ۔ محفِل کے اختِتام پر میرِ محفِل نے تَبَرُّکاً جلیبی تقسیم کی اور فرمایا : آج رات میلاد کی جَلیبی کھانے والے کو تاجدارِ رسالت، شَہَنْشاہِ نُبُوّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ زیارت ہوگی، کل عَلی الصُبح بعد نمازِ فجر مسجدُ النَّبَوِیِّ الشَّریف عَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام میں ہر ایک اپنی کیفیتِ دیدار سنائے ۔حاجی غلام حسین مَدَنی مرحوم کابیان ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ : میں نے بھی وہ جَلیبی کھائی تھی، مجھے سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کا دیدار نصیب ہوا، میں نے اِس حال میں حُضُور ِ پاک ، صاحِبِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی زیارت کی کہ دا ہنی جانب بغل میں (غزالیِ زماں رازیِ دَوراں) حضرتِ قبلہ سیِّد احمد سعید کاظمی شاہ صاحِب (رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ ) ہیں اور دوسرے ہاتھ میں( مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضرت)مفتی احمد یار خان (عَلَیْہِ رَحمَۃُ الحَنَّان) کا ہاتھ پکڑ رکھا ہے ۔([2])
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع