30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شرارتى پڑوسى نے مىرى جھوٹى شکاىت پولىس تھانے مىں کردى جس کی وجہ سے تھانے دار نے مجھے تھانے میں حاضری کا حکم دے دیا ،میں بہت ڈرگیا تھالہذاتھانے جانے سے پہلے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کى خدمت مىں حاضر ہوکر عرض گزار ہواکہ مجھے پولىس والوں نے بلاىا ہے پتا نہىں وہ مجھ سے کىا سلوک کریں گے آپ دعا فرمائىں، اس وقت موسم سرما ہونے کی وجہ سے ہوا میں خنکی تھی اور دھوپ میں تیزی نہ تھی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے توجہ سے میری عرض سنی اور مسکراتے ہوئے فرمایا : حکىم صاحب ! مىرى ىہ چھترى اپنے ساتھ لے جائیں اورتھانے میں حاضرى دے آئیں ، مىں نے عرض کى : حضور!نہ تو گرم دھوپ ہے نہ بارش ہے تو پھر چھترى کىوں لے جاؤں؟ ارشادفرماىا : لے تو جائیں، چنانچہ میں نے حکم کی تعمیل میں بند چھتری ہاتھ میں پکڑی اور تھانے چلا آیا، جب تھانے دار کے پاس پہنچا تو وہ مجھے دیکھتے ہی کھڑا ہوگیا اور پرتپاک انداز میں ملا پھر کرسی پیش کرتے ہوئے پوچھنے لگا : بابا جى ! آپ کىوں آئے ہیں؟ مىں نے کہا : مىرا نام حکىم سردار على ہے ، اس نے کہا : آپ کو کس نے بلوایا ہے ؟ میں نے پھر کہا : مىرا نام حکىم سردار على ہے ،اس پر وہ کہنے لگا : اچھا! یاد آیا کہ آپ کے فلاں پڑوسی نے آپ کی شکایت کی ہے لیکن اب ہم آپ سے کچھ پوچھ گچھ نہیں کریں گے آپ جاسکتے ہیں، مىں نے خدا تعالىٰ کا شکر ادا کىا اور واپس چل پڑا تھوڑی دور تک چلا تھا کہ مجھے پھر بلوالیا اورکہنے لگا : بیٹھئے ! ہم آپ کو چائے پلاتے ہیں، پھر سپاہی کو پیسے دیتے ہوئے کہا : چائے بسکٹ لے آؤ، میں نے بہت منع کیا مگر وہ نہ مانا اورچائے بسکٹ سے میری خاطر تواضع کرکے ہی دَم لیا پھر جب میں جانے لگا تو کھڑے ہوکر مجھے رخصت کیا ،میں حیرت کے سمندر میں غوطے کھارہا تھا کہ تھانے دار سے نہ جان پہچان نہ واقفیت مگر پھر بھی میرا اس قدر احترام ،یا الٰہی ! یہ ماجرا کیا ہے ؟میں تھانے سے فارغ ہوکر سیدھا مفتی صاحب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور واقعہ کہہ سنایا جسے سنتے ہی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مسکرائے اورسوالیہ انداز میں فرمانے لگے : چھترى بھاری تو نہیں تھی؟ تب مىں اصل راز سمجھا کہ تھانے میں میری عزت افزائى کی اصل وجہ اس ولیٔ کامل کی چھتری تھی پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرماىا : دو نفل شکرانے کے پڑھو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے لاج اور عزت رکھ لى اور بڑى مصىبت ٹل گئى۔([1])
حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے مشہور شاگردحضرت مولانا سىد نظام علی شاہ (حضرو، اٹک) فرماتے ہىں : استاد محترم قبلہ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان روزانہ بعد نمازِ عصر سیر کرتے ہوئے سچى سرکارسائیں کرم الٰہی کانواں والی سرکار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مزار پر انوار پرحاضر ہوا کرتے تھے راستے مىں اىک بدباطن کا مکان تھا جو قبلہ استاد محترم مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانسے درِ پردہ سخت دشمنی رکھتا تھااس نے چند خونخوار کتے پالے ہوئے تھے ایک دن میں قبلہ استادِ محترم کے ہمراہ تھا کہ اسے نہ جانے کىا سوجھى کہ دو سخت خونخوار کتے کھلے چھوڑدئیے جب ہم اس کى پگڈنڈى پر پہنچے تو اس وقت وہ اپنے دروازے پر کھڑا تھا ہمیں دیکھتے ہی اس نے دونوں کتوں کو اشارہ کىاجو اشارہ پاتے ہی تىزى سے ہمارى جانب لپکے ، مىں گھبراگىا اور عرض کى : حضور! اب کىا بنے گا؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرماىا : خاموشى سے بڑھتے رہو، جب کتے تقرىباً پانچ گز کے فاصلے پر تھے تویوں محسوس ہواکہ کسی نے دونوں کتوں کو سخت کاری ضرب لگائی ہو جس کی وجہ سے دونوں نے نہایت کربناک انداز میں چیخنا شروع کردیا پھر ایک کتا دائیں طرف جبکہ دوسرا بائیں طرف بھاگ گیا ،دوسرے دن سننے میں آیا کہ دونوں کتے اسی تکلیف میں چیختے چلاتے مرگئے میں نے استاد محترم قبلہ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کی خدمت میں عرض کی تو ارشاد فرمایا : ہمارے بچانے والے بھی ہر وقت ہمارے ساتھ رہتے ہیں۔([2])
کیوں کر نہ میرے کام بنیں غیب سے حسنؔ
بندہ بھی ہوں تو کیسے بڑے کارساز کا
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع