30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے ملاقات کے لئے حاضر ہوئے تو انہوں نے آپ کو اعلىٰ حضرت کا رسالہ مبارکہ ” العَطایا القدیر فى حکم التصویر“([1]) مطالعہ کے لىے مرحمت فرماىا، اس رسالے مىں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکواعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی علمی عظمت کا پہلى بار احساس ہوا اور یہی احساس پہلے عقیدت اور پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی زندگی کا سرماىہ بن گىا۔([2])جب مدرسہ شمس العلوم بدایوں میں زیرِ تعلیم تھے تو بریلی شریف جا کر اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی زیارت سے مشرف ہوئے ۔([3])
حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کو زندگی کے آخری سالوں میں یہ احساس زیادہ ستانے لگا تھا کہ اسلامی بہنوں میں دینی رجحان کم سے کم اورعلمِ دین کا فقدان ہوتا جارہا ہے چنانچہ نیکی کی دعوت کے مقدس جذبے کے تحت آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے گھر میں بڑی بہو اور چھوٹی صاحب زادی کومشکوٰۃ اور بخاری شریف کا ترجمہ چار سا ل میں پڑھایا عربی زبان کے ضروری قواعد اورعربی بول چال کی کچھ مشق بھی کروائی نیز درس وبیان کا طریقہ سکھایا یہ طریقہ کار نہایت کارگر ثابت ہوا اور سینکڑوں اسلامی بہنیں دینی ماحول سے وابستہ ہوئیں اورعلم دین کے زیور سے آراستہ ہوئیں۔([4])
پیارے اسلامی بھائیو!تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی جس کا آغاز امیرِاہلسنّت حضرت علامہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنے رفقاء کے ساتھ۱۴۰۱ھ میں کیا تھا ،کی برکتیں جہاں لاکھوں لاکھ اسلامی بھائیوں کو نصیب ہوئیں اور وہ صلوٰۃ وسنّت کی راہ پر گامزن ہوگئے وہیں اسلامی بہنوں کو بھی گناہوں سے توبہ کر نے اور اپنی زندگی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے احکامات کے مطابق گزارنے کی کوشش کرنے کی توفیق ملی۔بے نمازی اسلامی بہنوں کو نمازوں کی پابندی نصیب ہوئی جبکہ فیشن پرستی سے سَرشار مُعاشَرہ میں پروان چڑھنے والی بے شمار اسلامی بہنیں گناھوں کے دَلدَل سے نکل کر اُمّہاتُ الْمُؤمِنِین اورشہزادئ کونَین بی بی فاطِمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی دیوانیاں بن گئیں۔ گلے میں دوپٹاّ لٹکا کر شاپنگ سینڑوں اور مَخلوط تفریح گاہوں میں بھٹکنے والیوں ، نائٹ کلبوں اور سنیما گھروں کی زینت بننے والیوں کو کربلا والی عِفَّت مَآب َّ شہزادیوں رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی شرم و حیا کی وہ بَرَکتیں نصیب ہوئیں کہ مَدَنی بُرقَع اُن کے لباس کا لازمی جز بن گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ مَدَنی مُنّیوں اور اسلامی بہنوں کو قرآنِ کریم حِفظ ونا ظِرہ کی مفت تعلیم دینے کے لیے کئی ”مدارسُ المدینہ“ اور عالِمہ بنانے کے لئے مُتَعَدَّد ”جامِعاتُ المدینہ “ قائم ہیں ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ دعوتِ اسلامی میں ” حافِظات “اور” مَدَنِیّہ عالِمات“ کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے ۔([5])
مِری کاش!ساری بہنیں ، رہیں مَدَنی بُرقعوں میں
ہو کرم شہ زمانہ مَدَنی مدینے والے
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
شىخ التفسىر مفتى احمد ىار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان نے تقریباً پچاس سال کا عرصہ علم دین کی خدمت اور اشاعت میں گزارا۔میدان تقریرکا ہویا تحریرکا ،تدریس کا ہو یا تحقیق کا، فوائد قوم و ملت کے ہوں یا مسلک حق اہلسنّت کے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنا طریقہ کارعلمی اورمُثبَت ہی رکھاتحریکِ پاکستان کے سلسلے میں صدر الافاضل حضرت علامہ مفتی سیّد محمدنعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی نے قرار داد پیش کی تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے تائید میں اپنی کوششیں بڑھادیں، 1945ءمیں نظریہ پاکستان کے لئے بنارس (یوپی ہند)میں آل انڈیا سنی کانفرنس منعقد ہوئی تو اس میں پیش پیش رہے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مسلکِ اہلِ سنّت کی تقویت اور ترویج و اشاعت میں کوئی کسر نہ چھوڑی امت مسلمہ کی کم علمی ،بد عملی اور بد حالی کو مد نظر رکھتے ہوئے بیش بہا کتب تصنیف
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع