30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے دست وگریباں ہیں امت کے اسی درداور اصلاح کے پیشِ نظر مبلغِ دعوتِ اسلامی و نگرانِ مرکزی مجلس شوریٰ حضرت مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّظِلُّہُ العَالِی نے ۲۱ ربیع الآخر ۱۴۳۲ ھ بمطابق27 مارچ 2011ء کو باب المدینہ کراچی میں وکلا و ججز کے سنتوں بھرے اجتماع میں بیان بنام ”وکیل کو کیسا ہونا چاہیے ؟“فرمایااس میں سے چند مدنی پھول پیشِ خدمت ہیں (۱)فریقین کو چاہیے کہ وہ علمائے کرام کی خدمت میں حاضر ہوں ۔(۲) فیصلہ وہی کرے جو اس کا اہل ہو۔ (۳)فریقین سے برابری کا سلوک کیجئے ۔ (۴)ہر فریق کی بات توجہ سے سنئے ۔ (۵)فیصلہ میں جلد بازی نہ کیجئے ۔ (۶) خوب تحقیق سے کام لیجئے ۔ (۷)غصے میں فیصلہ نہ کیجئے ۔([1])
تفصیلی معلومات کے لئے دعوتِ اِسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃا لمدینہ کی 56صفحات پر مشتمل کتاب ”فیصلہ کرنے کے مدنی پھول“ کامطالعہ ضرور کیجئے ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ زبردست عاشق رسول تھے سرور دوجہاں، سلطانِ کون ومکاں پیارے آقا محمد مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ذکرِ مبارک آتا تو بے اختىار آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پرسوز وگداز کی ایک مخصوص کیفیت طاری ہوجاتی جس کے نتیجے میں آنکھ میں آنسو بھر آتے اور آواز بھاری ہوجاتی ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو دیکھنے اور سننے والے ہزار ہا افرادبھی اس کیفیت کو محسوس کرلیا کرتے تھے ۔ ([2])
حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے تفسیر لکھنے کے لئے ایک بیش قیمت قلم مخصوص کر رکھا تھا جس سے تحریر و تصنیف کا کوئی اور کام نہ کرتے اس کا واقعہ بیان کرتے ہوئے خودارشاد فرماتے ہیں : مجھے مدینہ منورہ میں ایک دکان پر ایک قیمتی قلم بے حد پسند آیا دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کاش! میرے پاس ہوتا ، مگرمہنگا ہونے کی وجہ سے خرید نہ سکا اور چپ چاپ لوٹ آیا لیکن دل میں بار بار خیال آتا رہا کہ بارگاہ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اجازت ملی تو حاضری کی سعادت پائی ہے اگر اسی بارگاہ سے وہی قلم عطا ہوجائے تو کرم بالائے کرم ہوگا غالباً اسی دن یا اگلے دن ظہرکی نماز مسجد نبوی شریف میں ادا کرکے فارغ ہوئے تو ایک صاحب ملاقات کے لیے حاضر ہوئے اور یہ کہتے ہوئے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا کہ میں آپ کے لئے ایک تحفہ لایا ہوں ، ہاتھ باہر نکال کر وہ تحفہ میرے سامنے رکھ دیا اب جو میں نے نظر اٹھائی تو سامنے وہی بیش قیمت قلم تھا حالانکہ میں نے کسی سے بھی اس کاتذکرہ نہیں کیا تھا مجھے یقین ہوگیا کہ بارگاہ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں میری عرض سن لی گئی ہے جبھی تو مجھے مطلوبہ عطىہ مل گىا ہے ۔ اس کے بعد فرماىا : اب میں نے اس قلم کو صرف تفسىر لکھنے کے لىے خاص کرلىا ہے اور تفسىر والى نوٹ بک ( مُسوَّدے کى فائل)کے شروع مىں ىہ شعر لکھ دىا ہے ۔
ہونٹ مىرے ہىں مگر ان پہ کرم ہے تىرا
انگلىاں مىرى ہىں پر ان مىں قلم ہے تىرا
مزید فرماتے ہیں کہ جب ىہ قلم لے کر لکھنے بىٹھتا ہوں تو اىسے اىسے مضامىن ذہن مىں آتے ہىں کہ مىں خود حىران رَہ جاتا ہوں۔([3])
حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سات مرتبہ حرمین شریفین کی زیارت سے فیض یاب ہوئے ایک مرتبہ حج کے بعد طویل عرصے تک مدینہ منورہ کی پر کیف اور نور بار فضاؤں میں اپنی زندگی کے حسین ایام گزارے ساتھ ہی دل میں یہ خواہش مچلنے لگی کہ کاش! کوئی ایسی صورت نکل آئے او ر مجھے ہمیشہ کے لئے اسی پاک سرزمین پر سکونت مل جائے ،مسجد نبوی شریف کے قریب رہنے والے ایک صاحب کو خواب میں حضور سرورِ کون و مکاں، سلطانِ دو جہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت نصیب ہوئی اور یہ حکم نامہ سنایا گیا : احمدیار خان سے کہو کہ وہ گجرات جائیں اور تفسیر کاکام کریں ،جب یہ پیغام آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تک پہنچا یا گیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبے حد مسرور ہوئے اور فرمانے لگے : بارگاہ ِرسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے یہ حکم ملا ہے کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع