30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں ہو رہا۔یہ واقعہ سنانے کے بعدامیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے ارشاد فرمایا : اس واقعہ سے میں بڑامتأثر ہوا کہ ہڈی ٹوٹے ہونے کے باوجود درد نہیں ہورہا اور مدینے کی چوٹ کو اپنے سینے سے چمٹائے ہوئے ہیں ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنایہی واقعہ تفسیر نعیمی جلد 9 صفحہ388 میں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : یہ تفسیر میں نے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کرم سے اسی ٹوٹے ہوئے ہاتھ سے لکھی ہے ۔
مِرا سینہ مدینہ ہو مدینہ میرا سینہ ہو
رہے سینے میں تیرا درد پِنہاں یارسولَ اللّٰہ
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میری ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے
حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اپنی پوری زندگی انتہائی سادگی اور عاجزی کے ساتھ گزاری آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنی ذات کی وجہ سے کسی کو تکلیف دینا گوارا نہ فرماتے تھے یہاں تک کہ سفر سے لوٹتے تو اکیلے ہی اپنا سامان اٹھائے چل پڑتے کوئی عرض کرتا تواسے سامان اٹھانے کی ہرگز اجازت نہ دیتے چنانچہ ایک مرتبہ یومِ رضا کی محفل سے فارغ ہوئے اور دیگر رفقاء کے ساتھ بس میں بیٹھ کر گجرات روانہ ہوگئے ،گجرات پہنچ کر بس سے نیچے تشریف لائے اور فرمایا : آپ لوگ میری فکر نہ کریں اور اپنے گھرجائیے میں اکیلا چلاجاؤں گا ،رفقاء نے بار بار ا س خواہش کا اظہار کیا کہ پہلے آپ کو گھر چھوڑ دیتے ہیں اس کے بعد ہم اپنے گھر چلے جائیں گے ،مگر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنا سامان اٹھائے گلی محلوں سے ہوتے ہوئے لوگوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے گھر تشریف لے آئے ۔([1])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بات واقعی معمولی تھی اور اس میں کچھ حرج بھی نہ تھا کہ اگراہل محبت آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا سامان اٹھاکر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو گھر تک چھوڑ آتے مگرچونکہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بخوبی جانتے تھے کہ میں جس طرح سفر کی مشکلات اور تکالیف برداشت کرکے پہنچا ہوں اسی طرح میرے ہم سفر بھی مشکلات اور پریشانیوں کو جھیلتے ہوئے لَوٹے ہیں لہذا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے انہیں تکلیف دینامناسب نہ سمجھا۔یقیناً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے معزز و مکرم بندے اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ بلا وجہ ان کی ذات کی وجہ سے انسان تو انسان بلکہ کوئی جانور بھی پریشانی، حرج یا تکلیف میں مبتلا ہواس دور کے ولی کامل شیخِ طریقت امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ بھی انسان تو انسان بِلا وجہ جانوروں بلکہ چیونٹی تک کو بھی تکلیف دینا گوارا نہیں کرتے حالانکہ عوامُ النّاس کی نَظَر میں اس کی کوئی وُقْعَت نہیں۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی خِدمت میں پیش کئے گئے کَیلوں کے ساتھ اتفاقاً ایک چھلکا بھی آگیا جس پر ایک چیونٹی بڑی بے تابی سے پِھر رہی تھی۔ آپ فوراً معاملہ سمجھ گئے لہٰذا فرمایا : دیکھو! یہ چیونٹی اپنے قبیلے سے بچھڑ گئی ہے کیونکہ چیونٹی ہمیشہ اپنے قبیلے کے ساتھ رہتی ہے اس لئے بے تاب ہے ۔برائے مہربانی کوئی اسلامی بھائی اس چِھلکے کو چیونٹی سمیت لے جائیں اور واپس وہیں جا کر رکھ آئیں جہاں سے اُٹھایا گیا ہے ، یوں وہ چِھلکا چیونٹی سمیت اپنی جگہ پہنچا دیا گیا۔([2])
حضرت مفتی احمدیارخان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کواللہ عَزَّ وَجَلَّنے وہ صلاحیت عطا فرمائی تھی کہ جھگڑا خاندانی ہو یا کاروباری یا زمین کا، معاملہ بدتمیزی کا ہویا لڑائی بھڑائی یا ذاتی دشمنی کا لوگ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس اپنے اپنے معاملات اور جھگڑے لے کرآتے اور آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہشریعت کے پاکیزہ اورسنہری اصولوں کی روشنی میں ایسے پیارے انداز میں فیصلہ ارشادفرماتے اور معاملے کو سلجھاتے کہ فریقین خوشی خوشی لَوٹ جاتے ۔([3])
پیارے اسلامی بھائیو!بحسن خوبی جھگڑے نمٹانااور صلح کرواناکوئی آسان کام نہیں فیصلہ ہوجانے کے بعد عام طور پر یہی نظر آتا ہے کہ کوئی خوش ہے تو کوئی ناخوش، کوئی غم وغصہ کا شکار ہے تو کسی کو دل پر پتھر رکھ کر فیصلہ قبول کرنا پڑاہے اور تَو اور یوں بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ فیصلے کے بعد فریقین ایک دوسرے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع