30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قدر سختی سے کاربند تھے کہ اگر غسل کرنے کے فوراً بعددستر خوان پر آنا ہوتا تو بھی پہلے ہاتھ ضرور دھویا کرتے ۔([1])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت مفتی احمد یار خان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی باعمل عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ عاشقِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی تھے ، عشقِ رسول اور محبتِ رسول کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اپنے محبوب و پیارے آقا، دوجہاں کے مالک ومولیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتوں پر ہر دَم ہر آن عمل کیا جائے فی زمانہ سنتوں پر عمل اور استقامت کی ایک جھلک ہمیں شیخ طریقت امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی ذاتِ مبارکہ میں بھی نظر آتی ہے کہ بار ہا دیکھا گیا ہے کہ جب ملاقات کے بعد دسترخوان بچھایا جاتا ہے تو عموماًامیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ خود کھانا کھانے کی اچھی اچھی نیتیں کرواتے اور بآواز بلند دعا پڑھاتے ہیں۔جس وقت امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے دونوں ہاتھ دھو کرواپس تشریف لاتے ہیں اگر کوئی ہاتھ ملانا یا دعا وغیرہ کے لئے کوئی پرچی پکڑوانا چاہتاہے تو اشارے سے منع فرمادیتے ہیں۔
تِری سنَّتوں پہ چل کر مری روح جب نکل کر
چلے تم گلے لگانا مَدَنی مدینے والے
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بچوں کی والدہ کا نیک سیرت اور نیک طبیعت ہوناعطیہ خداوندی ہے کہ حدیث پاک میں اسے ایک مومن کے لئے تقوی کے بعد سب سے بہتر ین چیز قرار دیا ہے چنانچہ ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا : تقوٰی کے بعد مومن کے لیے نیک بی بی سے بہتر کوئی چیز نہیں اگر اسے حکم کرتاہے تو وہ اطاعت کرتی ہے اور اسے دیکھے تو خوش کر دے اور اس پر قسم کھا بیٹھے تو قسم سچی کر دے اوراگر وہ کہیں چلا جائے تو اپنے نفس اور شوہر کے مال میں بھلائی کرے (یعنی خیانت و ضائع نہ کرے )۔ ([2])حضرت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکی گھریلو زندگی کو بچوں کی والدہ محترمہ نے کس طرح اپنے صبر،برد باری اورمستقل مزاجی کی وجہ سے ایک مثالی زندگی بنا دیا تھا آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْھَا کا تعلق شیخوپور( ضلع بدایوں ہند )کے ایک کھاتے پیتے گھرانے سے تھا۔1919ءمیں عقد زوجیت کا شرف پایا اور حضرت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکی رفاقت میں ایک لمبے عرصے تک وطن سے ہزاروں میل دور رہ کراپنی زندگی کے ایام کمال استقامت کے ساتھ گزارے خوشی اور راحت کے دن دیکھے تو غم اور تکلیف کے کٹھن مراحل سے بھی گزریں مگر نہایت صبر وشکر کی خاموش اور با وقار زندگی گزاری ،مشکلات اور گردشِ ایام کا نہ کبھی باہر والوں سے گلہ شکوہ کیانہ کبھی گھر میں کوئی کلام کیا آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْھَا کو حضرت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکے منصب دینی اور اس کے تقاضوں کو کامل احساس تھا اس لئے امور خانہ داری سے لے کر بچوں کی تربیت تک کے تمام فرائض احساس ذمہ داری کے ساتھ ادا کرتی رہیں گھر بار کی مصروفیات کے باوجودگھر کی ہر چیز انتہائی سلیقے اور قرینے سے سجی ہوتی گھر کا ماحول ایسا خوش گوار رکھتی تھیں کہ مفتی صاحب کو کبھی ناگواری کا احساس نہ ہوتا۔ دکھ تکلیف یا رنج و غم کی کوئی لہر اٹھتی تو اس عظیم خاتون کے تحمل مزاجی اور بردباری کی دیوارسے ٹکرا کر پاش پاش ہوجاتی۔آخری ایام میں صحت گرنے لگی تھی جس کی وجہ سے کمزوری بڑھتی گئی مگر اس کے باوجودگھر کے فرائض ،نماز روزہ اور بچوں کی تعلیم میں فرق نہ آنے دیا صرف گجرات ہی میں سینکڑوں اسلامی بہنوں، مدنی منوں اور مدنی منیوں نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْھَا سے پورا قرآن پاک تجوید کے ساتھ پڑھا تھا حضرت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکی تمام اولاد انہی کے بطن سے ہوئی تھی آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْھا کا انتقال 1949ء میں ہوا جس کا حضرت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکو گہرا رنج پہنچا۔1955ءایک نیک اور بیوہ خاتون سے دوسرا نکاح فرمایا جنہوں نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت اور امورِ خانہ داری میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کی اس نیک خاتون نے حضرت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکی تمام اولاد کو اپنی اولاد ہی سمجھااور انہیں کبھی ماں کی کمی محسوس نہ ہونے دی ۔([3]) حضرت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکی اہلیہ محترمہ کے صبر و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع