30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھی خوشیاں مناتے اور چہل پہل کرتے نظر آتے ہیں ۔([1])
عاشقِ نمازِ باجماعت
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نمازِ باجماعت تکبیرِ اُولیٰ کے ساتھ ادا کرنے کے گویا عاشق تھے اسی وجہ سے آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کومسلسل چالىس پچاس سال تک دیکھنے والوں نے یہی دیکھا کہ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی کبھی تکبیرِ اُولیٰ فوت نہ ہوئی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے پیش امام صاحب کو حکم دے رکھا تھا کہ کسى بھی بڑی سے بڑی شخصیت کی وجہ سے نمازِ باجماعت میں آدھے منٹ کى تاخىر بھى نہ ہوہر ایک کو نماز کی خود فکر ہونی چاہیے اگرچہ میں کیوں نہ ہوں ۔([2])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علامہ مولانا ابوبلال محمداِلیاس عطّاؔر قادِری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ہمیں اس پر فتن دور میں آسانی سے نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے کے طریقوں پر مشتمل شریعت و طریقت کا جامع مجموعہ بنام”مدنی انعامات“ عطافرمائے ہیں چنانچہ مدنی انعام نمبر 2 میں نماز باجماعت کی اہمیت اور فکر پیدا کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : کیا آج آپ نے پانچوں نمازیں مسجد میں پہلی صف میں تکبیرِ اولی کے ساتھ باجماعت ادا فرمائیں ؟
اے کاش ! ہم پانچوں نماز یں باجماعت پہلی صف میں اداکرنے والے بن جائیں نمازِ باجماعت کی فضیلت کے تو کیا کہنے کہ تاجدار مدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ رحمت نشان ہے : نمازِ باجماعت تنہا پڑھنے سے ۲۷ درجے بڑھ کر ہے ۔([3]) ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا : جو طہارت کرکے اپنے گھر سے فرض نماز کے لئے نکلا اس کا ثواب ایسا ہے جیسا حج کرنے والے مُحرِم (احرام باندھنے والے )کا ۔([4]) اورتکبیرِ اُولیٰ کے ساتھ نماز پڑھنے والے کو حدیثِ مبارکہ میں کیاخوب بشارت عطا فرمائی ہے کہ جو مسجد میں باجماعت 40راتیں نمازِعشاء اس طرح پڑھے کہ پہلی رکعت فوت نہ ہو،اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لئے جہنم سے آزادی لکھ دیتا ہے ۔([5])
میں پانچوں نَمازیں پڑھوں باجماعت ہو توفیق ایسی عطا یاالٰہی
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ناشتے مىں گندم کے آٹے کى روٹى اور سبز کشمىرى الائچى والى چائے نوش فرماتے ، دوپہر مىں آلو،گوشت خصوصاً بکرى کے پہلو کااور ترکارىوں مىں کدواور لوکى پسند فرماتے ۔ کھانے میں اکثرایک ایک چھٹانک کی دو پتلى روٹىاں ہوتیں اگر کبھی بھاری روٹی پک جاتی تو نہ کھاتے یا پھر کچھ بچادیتے ساتھ ادرک کا پانى، مولى ىا چقندر ضرور ہوتا۔ بعد نماز عشاء بھىنس کا اىک پاؤ خالص دودھ نوش فرمانے کا معمول تھا۔جبکہ مٹھائىوں مىں قلا قند، سوہن حلوہ ،بداىوں والے پىڑے اور پھلوں مىں آم پسند تھے ۔([6])
حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کھانا ہمىشہ سیدھے ہاتھ سے کھاتے اور چمچہ صرف دودھ اور چائے کے لىے استعمال کرتے ، چٹائى پر بىٹھ کر کھانا کھاتے اگر بچے موجود ہوتے تواىک بڑى پلىٹ میں انہیں اپنے ساتھ بٹھا کر کھلاتے ، اگر کسی محفل میں جلوہ فرما ہوتے سب پر لازم ہوتا کہ ہاتھ دھوئىں اور بِسۡمِ اللہ شرىف بلند آواز سے پڑھ کر کھانا شروع کرىں،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پہلے نوالے پر بِسۡمِ اللہ شریف بلند آواز سے پڑھتے جبکہ ہر نوالے پرآہستہ آہستہ پڑھتے ، جو چیز خاص آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے لئے ہوتی اسے مکمل ختم کرتے اور شیطان کے لئے کچھ نہ چھوڑتے ،کھانے سے قبل ہاتھ دھونے کی سنت پرتو اس
[1] حالات زندگی ،سوانح عمری ،ص۲۵ملخصا وغیرہ
[2] حالات زندگی ،سوانح عمری ،ص۲۴ملخصا وغیرہ
[3] مسلم، کتاب المساجد، باب فضل صلاۃ الجماعة ، ص ۳۲۶،حدیث : ۲۵۰
[4] ابو داؤد ، کتاب الصلوٰۃ ، باب ماجاء فی فضل المشی الی الصلوٰۃ ،۱/ ۲۳۱،حدیث : ۵۵۸
[5] ابن ماجہ، کتاب المساجد والجماعات، باب صلاۃ الفجر..الخ، ۱/ ۴۳۷،حدیث : ۷۹۸
[6] حالات زندگی ،ص ۱۸۳ملخصاً وغیرہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع