30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنی زندگی میں قطب ربانی شہباز لامکانی قندیلِ نورانی غوثِ صمدانی محی الدین حضور سیدنا غوثِ اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی نسبت سے گیارہ کے عدد کو بڑی اہمیت دیا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ کے گھر میں اوپر نیچے سب ملاکر کل گیارہ کمرے تھے ۔([1])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مغرب کے بعدگیارہ منٹ تک چہل قدمی اور عشاء کے بعدگیارہ منٹ تک گفتگو کرنااور پھر گھر میں گیارہ کمروں کا ہونا حضور غوثِ اعظم حضرت سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے گہری عقیدت و محبت اور الفت کی علامت و نشانی ہے اور عقیدت و محبت کیوں نہ ہوتی کہ حضور سیدنا غوثِ اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ خود ارشاد فرماتے ہیں : میں اپنے مریدوں کاقیامت تک کے لئے توبہ پر مرنے کا (بفضلِ خدا عَزَّ وَجَلَّ)ضامن ہوں۔([2])
ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں : رَبّ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے ایک دفتر عطا فرمایا جو حدِّ نظر تک وسیع تھا اور اس میں قیامت تک کے میرے مریدوں کے نام تھے اور مجھ سے فرمایا : قَدْ وُھِبُوْا لَکَیعنی یہ سب تمہیں بخش دیئے گئے ۔([3])غوثِ اعظم عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ الاَکۡرَم کی مَحَبَّت اور اولیائے عظام کی چاہت اور علمائے کرام کی عقیدت دل میں بڑھانے کیلئے تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک،دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے ہر دم وابَستہ رہئے اور خوب خوب رحمتیں اور بَرَکتیں لوٹئے ۔
آپ جیسا پیر ہوتے کیا غرض دردر پھروں
آپ سے سب کچھ ملا یا غوثِ اعظم دست گیر
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی رات دو بجے اٹھ کر نمازِ تہجد اور وتر ادا کرتے پھر کچھ دیر وظائف میں مشغول رہتے اس کے بعد ایک گھنٹہ آرام فرماتے اور پھراٹھ کر وظائف پڑھتے رہتے ،فجرکی سنّت گھر میں ادا کرتے پھر دونوں شہزادوں کو لے کر مسجد تشریف لے جاتے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے پاس اىک سے زائد گھڑىاں رکھا کرتے تھے اىک کلائى پرہوتی تو دوسرى جىب مىں،کبھی کبھار تو جیب میں دو گھڑیاں رکھا کرتے تھے پھر ان گھڑىوں کا وقت درست رکھنے کابھی خوب خیال رکھتے اور ىہ سارا اہتمام دراصل نماز اور جماعت کے لئے ہوتا تھا۔سُبۡحٰنَ اللہ! اللہ والوں کی شان اونچی اور ادائیں نرالی ہوتی ہیں ان کے انداز عام لوگوں سے جدا ہوتے ہیں یہ شریعت پر عمل کرنے کا خوب اہتمام فرماتے ہیں دور حاضرمیں یہی انداز،یہی سوچ اورفکرہمیں شیخِ طریقت،امیرِ اہلسنّت،بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمداِلیاس عطّاؔر قادِری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے وجود ِمسعود میں نظر آتی ہے کہ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ آرام فرماتے وقت اپنے قریب دو اَلارم سیٹ رکھتے ہیں۔ جب آپ سے حکمت دریافت کی گئی توارشاد فرمایا : اگر کسی دن سیل کمزور ہونے یا کسی خرابی کے باعث ایک الارم خاموش رہا تو دوسرے اَلارم کے ذریعے نیند سے بیدار ہونے کی صورت بن جائے گی اور یوں نماز وقت پر ادا ہوجائے گی۔([4])
نماز کے وقت بس! نماز کی تیاری ہو
حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اذان سننے کا بہت اہتمام فرماتے جس وقت اذان ہوتى تو پورے گھر مىں سناٹا چھا جاتا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماىا کرتے تھے کہ مسلمان کی اصل خوشی اور رونق نماز ہے لہذا نماز کے اوقات میں مسلمانوں کے گھروں میں عید کی طرح چہل پہل اور رونق ہونی چاہیے ہر کوئی نماز کی تیاری میں نظر آنا چاہیے بالخصوص فجر و عشاء میں ہر گھر کے ہر کمرے میں روشنی ہونی چاہیے شادی بیاہ اور مختلف قسم کے تہواروں میں تو کفار و فجار
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع