30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرامات الاولیاء، مقدمۃ الکتاب، المطلب الثانی، ج۱، ص۵۷)
ولی کے لئے بقدرِضرورت علم شرط ہے :
پیارے اسلامی بھائیو!ابھی اولیاء کرام کے فضائل کے ضمن میں بیان ہواکہ ولی کے لئے ایمان اور تقوی دونوں شرط ہیں اورظاہرہے کہ ایمان کی حفاظت اور فسق وفجور سے بچنے کے لئے ولی کے پاس بقدرِ ضرورت علم ہونابھی لازم ہے لہٰذایہ بھی ولایت کے لئے شرط ٹھہرا۔اس لئے کوئی جاہل شخص کبھی ولی نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ، مجدد اعظم ، سیِّدُنااعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنَّت، حضرت علامہ مولانا شاہ امام احمد رضا ؔخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن (متوفی ۱۳۴۰ھ)ارشاد فرماتے ہیں : ’’اللہ نے کبھی کسی جاہل کو اپنا ولی نہ بنایا یعنی بناناچاہاتو پہلے اسے علم دے دیا اس کے بعد ولی کیا کہ جو علمِ ظاہر نہیں رکھتا علمِ باطن کہ اس کا ثمرہ ونتیجہ کیونکر پا سکتا ہے ۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ ، ج۲۱ ، ص۵۳۰)
فَضَا ئِلِ اَوْلِیَاء پراَحَادِ یْثِ مُبَارَکَہ
حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورنبی ٔ کریم ، رء ُوف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہاللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :’’ میرا بندہ فرائض کی ادائیگی کے ذریعے جتنا میراقرب حاصل کرتا ہے اس کی مثل کسی دوسرے عمل سے حاصل نہیں کرتا(ایک روایت میں یوں ہے : میرابندہ کسی ایسی شئے سے میراقرب نہیں پاتاجوفرض کواداکرنے سے زیادہ پسندہو) اورمیرا بندہ نوافل(کی کثرت)سے میرے قریب ہوتارہتاہے یہاں تک کہ مَیں اس کو اپنا محبوب بنالیتا ہوں اورجب مَیں اسے محبوب بنالیتاہوں تو مَیں اس کاکان بن جاتا ہوں جس کے ذریعے وہ سنتا ہے اور مَیں اس کی آنکھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور مَیں اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور مَیں اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے ۔ اگروہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضروردیتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ طلب کرے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں اورمجھے کسی کام میں تردد نہیں جسے میں کرتاہوں ۔ میں کسی کام کے کرنے میں کبھی اس طرح تردد نہیں کرتا جس طرح جانِ مؤمن قبض کرتے وقت تردد کرتا ہوں کہ وہ موت کو نا پسند کرتا ہے اور میں اس کے مکروہ سمجھنے کو برا جانتا ہوں ۔‘‘(صحیح البخاری ، کتاب الرقائق ، باب التواضع ، الحدیث ۶۵۰۲، ص۵۴۵)
حضرت سیِّدُناامام فخر الدین ابوعبداللہ محمدبن عمر رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی (متوفی ۶۰۶ھ) نے ’’تفسیرکبیر‘‘، محقق علی الاطلاق حضر ت سیِّدُناشیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی (متوفی ۱۰۵۲ھ)نے ’’ شرح فتوح الغیب‘‘اورحضرت سیِّدُنا قاضی عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ (متوفی ۵۴۴ھ) نے ’’شفاء شریف‘‘ میں اس حدیث پاک کامعنی ومقصدیہ بیان فرمایاہے کہ جب بندہ اپنے آپ کواللہ ربُّ العزت کے عشق ومحبت والی آگ میں جلاکرفناکردیتاہے اورنفسانیت وانانیت والازنگ اورمیل کچیل دور ہو جاتا ہے اورانوارِالہٰیہ سے اس کابدن منورہوجاتاہے تووہ اللہ تعالیٰ کے انوارہی سے دیکھتا ہے اورانہی کی بدولت سنتاہے ، اس کابولناانہی انوارکے ذریعے ہے اور اس کا چلنا پھرنااورپکڑنامارناانہی سے ہوتاہے ۔حضرت سیِّدُناامام رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی کے مبارک الفاظ میں حدیث ِقدسی کامعنی اورمنصب ِ محبوبیت کی عظمت کابیان سنئے ، آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ارشادفرماتے ہیں : ’’اِذَاصَارَنُوْرُجَلَالِ اللّٰہِ لَہٗ سَمْعًا سَمِعَ الْقَرِیْبَ وَالْبَعِیْدَ وَاِذَاصَارَنُوْرُجَلَالِ اللّٰہِ لَہٗ بَصَرًارَأَی الْقَرِیْبَ وَالْبَعِیْدَ وَاِذَا صَارَذَالِکَ النُّوْرُیَدًالَہٗ قَدَّرَعَلَی التَّصَرُّفِ فِی الصَّعْبِ وَالسَّہْلِ وَالْقَرِیْبِ وَالْبَعِیْدِترجمہ:اللہ ربُّ العزت کانورِجلال جب بندۂ محبوب کے کان بن جاتاہے تووہ ہر آوازکوسن سکتاہے نزدیک ہویادور، اور آنکھیں نورِجلال سے منورہوجاتی ہیں تودورونزدیک کا فرق ختم ہوجاتاہے یعنی ہرگوشۂ کائنات پیش نظرہوتاہے اورجب وہی نوربندہ کے ہاتھوں میں جلوہ گر ہوتا ہے توقریب وبعید اور مشکل وآسان میں اسے تصرف کی قدرت حاصل ہوجاتی ہے ۔‘‘( التفسیرالکبیر، سورۃ الکھف ، تحت الایۃ:۹تا ۱۲، ج۷، ص۴۳۶)
( اس کی چندمثالیں ملاحظہ کیجئے کہ کس طرح اللہ عَزَّوَجَلَّاپنے ولیوں کو دورسے سننے اور دیکھنے کی قوت عطافرماتاہے اورکس طرح بے جان چیزوں کو اُن کے تابع فرمان کر دیتا ہے )
(1)…امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمرفاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت سیِّدُناساریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اوران کے لشکرکونہاوندکے مقام پرمدینہ منورہ زَادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا سے چودہ سو(1400)میل کی مسافت سے دشمنوں کے گھیرے میں آتے ہوئے دیکھ کرفوراًرہنمائی فرمائی اورآوازدی : ’’یَاسَارِیَۃُ الْجَبَل یعنی اے ساریہ ! پہاڑ کا خیال کرو۔‘‘ ادھرانہوں نے حضرت امیرالمومنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی آوازسن کردشمن سے اپنے آپ کوبچالیا۔ (کنز العمال ، کتاب الفضائل، باب فضائل الفاروق رضی اللّٰہ عنہ ، الحدیث۳۵۷۸۳، ج ، ۱۲ص۲۵۶ملخصًا)
(2)…حضرتِ سیِّدُناغوث اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :
نَظَرْتُ اِلٰی بِلَادِاللّٰہِ جَمْعًا کَخَرْدَلَۃٍ عَلٰی حُکْمِ اتِّصَالٖ
(ترجمہ:میں اللہ تعالیٰ کے تمام شہروں کواس طرح دیکھتاہوں جس طرح ہتھیلی پررائی کا دانہ۔)
اورارشادفرماتے ہیں :’’نَظرِمَن درلوحِ محفوظ اَسْت‘‘(یعنی میری نظرلوح محفوظ پرہے ۔)
(3)…امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دریائے نیل کو اپنے رُقعہ سے جاری فرمادیاجواس وقت تک پانی سے لبریز نہیں ہوتا تھا جب تک اس میں نوجوان لڑکی کونہ پھینکاجاتا تھا ۔ حضرتِ سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسے حکم دیاکہ’’ اگرتواپنی مرضی سے چلتاہے توبے شک خشک رہ جا، ہمیں تیری ضرورت نہیں ہے اوراگرتواللہ تعالیٰ کی مرضی سے چلتاہے تو میں اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتاہوں کہ وہ تجھے جاری فرمائے ۔‘‘چنانچہ، جب آپ کا رقعہ جس پریہ الفاظ درج تھے ، دریامیں ڈالاگیاتووہ فوراًطغیانی پرآگیااورلبالب بھرگیا۔(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح، کتاب المناقب والفضائل، باب مناقب عمر، ج۱۰، ص۴۱۵)
(4)…مدینہ طیبہ زَادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا میں آگ لگ گئی جسے کسی طرح بھی بجھایا نہ جاسکاتو امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعمررضی اللہ عنہ نے کاغذکے ایک ٹکڑے پر ’’اُسْکُنِیْ یَانَارُیعنی اے آگ! ٹھہرجا۔‘‘لکھ کرخادم کودیا۔اس نے وہ کاغذکاٹکڑا آگ میں پھینکاتویوں معلوم ہواکہ یہاں آگ لگی ہی نہ تھی۔
(5)…ایک دفعہ زلزلہ آیااورمکانات لرزنے لگے اوربہت بڑی تباہی کاخطرہ پیدا ہو گیاتوامیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنافاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنادُرہ(یعنی کَوڑا) زمین پرزورسے مارااورارشادفرمایا:’’اے زمین! ٹھہرجا۔‘‘آج تک وہاں زلزلہ نہیں آیا۔(ماخوذازکوثرالخیرات لسیدالسادات علیہ افضل الصلوات واکمل التحیات، ص۳۴۲)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع