30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بحث میں ہے : ’’اگر ذمی کہے کہ میری زمین وقف ہے جس کی پیداوار بیت المقدس کے چراغ کے تیل کے لئے خرچ ہوگی۔ یہ جائز ہے کیونکہ یہ بالاتفاق ہمارے اور ان کے نزدیک عبادت ہے ۔‘‘
بیت المقدَّس باعظمت مسجدہے اس میں چراغ جلانا اس کی تعظیم والے کاموں میں سے ہے ، اسی طرح نیک بندوں اوراولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے مزارات کا معاملہ ہے (یعنی وہاں چراغ جلانا ان کی تعظیم ہے اور شرعا جائز ہے )۔‘‘
درہم ودینار کی نذر مانناجائزہے :
اسی طرح مزاراتِ اَولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام پر درہم ودینار نذرکرناکہ اُن کے مجاور فقراء پر صر ف کئے جائیں ، یہ بھی فی نفسہ جائزہے کیونکہ اس معاملہ میں نذر، تحفہ دینے کی طرح ہے جیساکہ فقہاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فقراء کوہبہ (یعنی بلاعوض کسی چیز کا مالک )کرنے کے متعلق فرماتے ہیں : ’’فقراء کے لئے یہ صدقہ ہے ، اور دینے والااسے واپس نہیں لے سکتا۔‘‘اوراَغنیاء کو صدقہ دینے کے متعلق فرماتے ہیں : ’’اَغنیاء کے لئے یہ ہبہ ہے اور دینے والاواپس لے سکتا ہے ۔‘‘ کیونکہ اعتبار مقاصدِ شرع کا ہوتاہے نہ کہ اَلفاظ کا۔ نذر محض ذاتِ باری تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، اگر غیر اللہ کے لئے کی جائے ۔ مثلاً کوئی شخص کہے : ’’اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ میرے مریض کو شِفاء دے دے تومیں تجھے دس درہم دوں گا۔‘‘ پھر کہے : ’’میں نے فلاں کے لئے اتنے دراہم کی نذر مانی۔‘‘ تو یہ اِس نذر ماننے والے کی طرف سے اُس کے ساتھ وعدہ ہو گا، اب اگر وہ شخص مال دار ہے تو یہ ہبہ ہے اور اگر فقیر ہے تو صدقہ ہے ۔ اور کئی لوگ ہوتے ہیں جو ذمی کافروں ([1]) کو کہہ دیتے ہیں : ’ ’اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ میرے مریض کوشِفاء دے تومیں تجھے سو درہم دوں گا۔‘‘توایسا کہنا گناہ نہیں کیونکہ یہ تو صدقہ ہے ۔ اور فقہاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اپنی کتب میں اس بات کی تصریح کی ہے کہ ذمی فقراء پر (نفلی )صدقہ کرنا جائز ہے ، البتہ! ان کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ۔ لہٰذا اگر کوئی شخص ولی کے اِنتقال کے بعد اسے یوں کہے : ’’اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ میرے مریض کو شِفادے تو میں آپ کی خدمت میں سودرہم پیش کروں گا تو کوئی عقل مند اسے حرام نہیں کہہ سکتا اور اَولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام تو دوسروں کے مقابلے میں اس بات کے زیادہ حق دار ہیں ، اگرچہ وہ اِنتقال فرماچکے ہوں ، کیونکہ نذر ماننے والاجانتا ہے کہ اس کے پیسے اس ولی کے خدام اور فقراء مجاوروں پرخرچ کئے جائیں گے ، لہٰذا اس قائل کی طرف سے یہ چیز لینے والے کے اِعتبار سے وعدہ، تحفہ اور مباح قرار دی جائے گی کیونکہ مؤمن کا قول حتی الامکان صحیح صورت پر محمول کیا جائے گا۔ اور اللہ عَزَّوَجَلَّ توفیق دینے والا ہے ۔
کسی چیزکو حرام قرارد ینے کے لئے دلیلِ قطعی درکار ہوتی ہے
بعض لوگ ان تمام باتوں پر بغیرکسی دلیلِ قطعی کے حرام ہونے کا فتوی لگا دیتے ہیں ، اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے دلوں میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا خوف اور شرم وحیا نہیں ، کیونکہ کسی کام سے روکنے میں حرام کی وہی حیثیت ہے جوکسی کام کے کرنے میں فرض کی ہے اور ان دونوں کو ثابت کرنے کے لئے دلیل قطعی چاہیے ، یاتو کتاب اللہ میں سے کوئی آیت ہو، یا خبر متواتر ہو، یا معتبر اِجماع ہو، یا وہ کسی مجتہد کا قیاس ہو، کسی مقلِّد کا قیاس نہ ہوکیونکہ ایسے مقلدین کے قیاس کا کوئی اعتبار نہیں جن میں کتب اُصولِ فقہ میں مذکور شرائط اجتہاد نہ پائی جاتی ہوں ۔
تعظیم مزارات سے روکنے والوں کی خبیث توجیہ اور اس کا رد :
(حضرت مصنِّفرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :) بعض فریبی لوگ کہتے ہیں :’’ ہمیں تو صرف اس بات کا ڈرہے کہ عوام الناس جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ولیوں سے عقیدت رکھیں گے ، ان کی قبروں کی تعظیم کریں گے ، ان سے برکت اورمدد چاہیں گے ، تو کہیں وہ یہ عقیدہ نہ بنالیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرح یہ اَولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام بھی مُؤثِر بالذَّات ہیں (یعنی عطائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے بغیرذاتی طور پراَثر کرتے ہیں ) اور جب ان کا یہ عقیدہ ہوگا تو کافر ومشرک ہو جائیں گے ، اس لئے ہم انہیں تعظیم وتوقیر سے روکتے ہیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ولیوں کے مزارات اور ان کے اُوپر بنی ہوئی عمارات گرا دیتے ہیں ، ان پر چڑھائی گئی چادروں کو اُتارکرپھینکتے ہیں ، اور اَولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے ساتھ یہ بے اَدَبی ہم دل سے نہیں کرتے بلکہ صرف ظاہری طور پر کرتے ہیں تاکہ جاہل عوام کو پتا چل جائے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرح یہ اَولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام بھی اگر مؤثربالذات ہوتے تو اپنے ساتھ ہونے والی اِس بے اَدبی کو ضرور روکتے جو ہم ان کے ساتھ کررہے ہیں ۔‘‘
منکرینِ تعظیمِ اَولیاء کا حکم :
مزید فرماتے ہیں : ’’خبردار!ہوشیار! فریبی اور دھوکے بازلوگوں کی مذکورہ تمام بکواسات صریح کفر ہیں اوریہ فرعون کے اس قول سے ماخوذہیں جس کو ہمارے پَروَرْدْگارعَزَّوَجَلَّنے قرآنِ پاک میں حکایت کرتے ہوئے بیان فرمایا:
وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗۚ-اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ(۲۶)
ترجمۂ کنزالایمان: اور فرعون بولا مجھے چھوڑو میں موسیٰ کوقتل کروں اور وہ اپنے رب کو پکارے ، میں ڈرتا ہوں کہیں وہ تمہارا دین بدل دے یا زمین میں فسادچمکائے ۔
اسی طرح ان دھوکے بازوں کا حال ہے جنہیں ابھی تک کامل یقین نہیں ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے اَولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے محبت فرماتاہے ، اوران کی زندگی میں ہر وہ چیز جس کا یہ اِرادہ کرتے ہیں ان کے لئے ظاہر فرما دیتا ہے جبکہ وہ خلافِ شرع نہ ہو اور ان کی روحیں جس چیز کا اِرادہ کرتی ہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے وہ تمام غیر معمولی چیزیں ان کے لئے پیدا ہو جاتی ہیں ۔ گویا ان منکرین نے ابھی تک نہیں جانا کہ اِیمان حق ہے اور یہیاللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک نجات دلانے والا ہے ، کیونکہ ان لوگوں کے دل بُرے گمانوں ، شکوک وشبہات، اوہام اور کجی یعنی ٹیڑھے پن سے بھرے ہوئے ہیں ، یہ اَندھے اوربہرے ہوچکے ہیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے دلوں پرمہر کردی ہے کہ وہ حق اور باطل میں فرق ہی نہیں کرسکتے ، اورجسے اللہ عَزَّوَجَلَّ گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ۔
اوراگربالفرض ان لوگوں کو عوام الناس کے کفروشرک میں مبتلا ہونے کا واقعی خوف ہوتا تویہ ضرور مسلمانوں کے لئے عقائد وتوحید کے اَحکام سکھاتے اور بغیر کسی جھگڑے کے ان کو براہین اور دلائلِ قطعیہ کی تعلیم دیتے اوران کوعقائدسمجھنے اور فضائل میں غور وفکر کرنے پر اُبھارتے ، اوراس معاملے میں ان پر بہت زیادہ شدت کرتے ، کیونکہ عام لوگ جب اپنی ذات میں غورو فکر کرکے
[1] ذمی اس کافر کہتے ہیں جس کے جان ومال کی حفاظت کا بادشاہ اِسلام نے جزیہ کے بدلے ذمہ لیا ہو ۔ (فتاوی فیض الرسول، ج۱، ص۵۰۱)اوردعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد اوّل صَفْحَہ 931پر ہے ’’ہندوستان اگرچہ دارالاسلام ہے مگریہاں کے کفارذمی نہیں ، انہیں صدقاتِ نفل مثلاً ہدیہ وغیرہ دینا ناجائز ہے ۔‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع