زند ہ اورمُردہ تعظیم میں برابرہیں
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Mazarat e Auliya | فیضان مزاراتِ اولیاء

book_icon
فیضان مزاراتِ اولیاء

            اَحادیث ِکریمہ میں آیاہے کہ’’بے شک قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔ ‘‘ (مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الفتن ، باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکر الدجال، تحت الحدیث۵۴۷۲، ج۹، ص۳۷۵۔المعجم الاوسط ، الحدیث ۸۶۱۳، ج۶، ص۲۳۲)  اس سے مراد یہی ہے کہ’’مرنے والوں کی روحوں کویاتواِنعام واِکرام سے نوازاجاتاہے یاعذاب دیا جاتاہے ۔‘‘ اوریہ اِنعام واِکرام یا عذاب کا سلسلہ اسی صورت میں ہے کہ روحیں اپنے ان اَجسام کے ساتھ متَّصل ہوں جو دُنیامیں نہ رہے ، اوروہ تمام مؤمن ہونے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کے اَحکامات کی طاعت کرنے کے سبب یا تو پاکیزہ تھے یا پھر کافر ہونے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کے اَحکامات کی نافرمانی کرنے کے سبب خبیث ہو گئے ، تو اس وقت مؤمنین کی قبریں ویسے ہی معزَّزومحترم اورمستحقِ تعظیم وتوقیر ہیں ، جیسے وہ خود حیاتِ ظاہری میں معزَّزومکرَّم تھے ۔ فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ’’جو شخص کسی عالِم کو حقیر جانے یا اس سے بغض رکھے تواس کا خاتمہ کفر پر ہونے کا اندیشہ ہے ۔‘‘  ([1])(اوراللہ عَزَّوَجَلَّ   کا ہر ولی عالم ضرور ہوتاہے لہٰذا اَولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے بغض رکھنے والے کا خاتمہ بھی کفر پر ہونے کا خوف ہے ۔ )

 زند ہ اورمُردہ تعظیم میں برابرہیں :

            تعظیم وتوقیر کے اِعتبار سے زند وں اورمُردوں کے مابین کوئی فرق نہیں ، کیونکہ زندہ اور مُردہ سب کے سب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مخلوق ہیں اور ان میں کوئی بھی کسی شے میں قطعاً مؤثرِ حقیقی نہیں ، کیونکہ مؤثرِ حقیقی تو ہر حال میں صرف اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات ہے ، اور زندہ ومُردہ مؤثرِ حقیقی نہ ہونے میں یقینا برابر ہیں ، لیکن اِحترام سب کے حق میں واجب ہے کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :

وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآىٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ(۳۲)(پ۱۷، الحج :۳۲)

ترجمۂ کنزالایمان:اورجواللہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے ۔

            اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نشانیاں وہ چیزیں ہیں جن کے سبب معرفت ِالٰہی عَزَّوَجَلَّ حاصل ہوتی ہے جیساکہ علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام اور نیک پرہیز گارلوگ چاہے وہ زندہ ہوں یا وفات پاچکے ہوں ۔

اَولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  کی قُبور پرگُنبد بنانا:

            اَولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی قبروں پر گنبد بنانا، اور ان کے لئے اَعلیٰ قسم کی لکڑی کے تابوت بناناتاکہ عوامُ النَّاس ان کو بے اَدبی کی نگاہ سے نہ دیکھیں یہ بھی ان کی تعظیم ہی ہے ۔ اگرچہ یہ بدعت ہے لیکن بدعتِ حسنہ یعنی اچھی بدعت ہے ۔ جیسا کہ فقہاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  فرماتے ہیں :’’علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکے لئے بڑے بڑے عمامے کھلے کھلے کپڑے پہننا جائز ہے تاکہ عام لوگ ان کو حقیر نہ سمجھیں اور ان کی تعظیم کریں ۔‘‘ اگرچہ یہ ایسی بدعت ہے جس پر ہمارے اسلاف کا عمل نہ تھا۔

قبروں پر قبَّہ بنانا مکروہ نہیں :

          جامع الفتاویٰ میں قبرپر قُبَّہ(یعنی گُنبدوغیرہ) بنانے کے بارے میں ایک قول یہ ہے : ’’ میِّت مشائخ، علماء اور ساداتِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی ہو توان کی تعظیم کے لئے قُبَّہ بنانا مکروہ نہیں ۔‘‘       (ردالمحتار، کتاب الصلاۃ ، بَابُ صَلَاۃِ الْجِنَازَۃِ ، مطلب فی دفن المیت ، ج۳، ص۱۷۰)

قبر کے لئے پکّی اِ         ینٹوں کا اِستعمال کیسا؟

            ’’مُضْمَرَات‘‘میں ہے : حضرت سیِّدُنا شیخ ابوبکر محمدبن فَضلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں : ’’ہمارے ہاں قبروں کے لئے پکّی اِینٹیں اور رَفْرَف لکڑی اِستعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔‘‘    (المبسوط للسرخسی، کتاب الصلاۃ ، باب غسل المیت ، ج۱، الجزء۲، ص۹۸)

            حضرت سیِّدُنااِمَام تُمُرتَاشِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافی  فرماتے ہیں : ’’قبر کے لئے پکی اِینٹوں کے اِستعمال میں اِختلاف اس وقت ہے جبکہ میِّت کے اِردگردلگائی جائیں ، اور اگر قبرکے اُوپرہوں توجائزہے کیونکہ اس طرح قبرکی درندوں سے حفاظت ہوتی ہے ۔‘‘ جیسا کہ کفن کو چوری سے بچانے کے لئے قبر کو کچی اِینٹوں کے ساتھ کوہان نما ([2])بنانے کا رواج ہے اورعوام وخواص میں اسے بہت اَچھا سمجھا جاتا ہے ۔         (ردالمحتار، کتاب الصلاۃ ، بَابُ صَلَاۃِ الْجِنَازَۃِ ، مطلب فی دفن المیِّت ، ج۳، ص۱۶۷تا۱۷۰)

            ’’تنویرُ الابصار‘‘ میں ہے :’’قبرپرقُبَّہ بنانے میں کوئی حرج نہیں اوریہی صحیح ہے ۔‘‘ (تنویرالابصارمع رد المحتار، کتاب الصلاۃ ، بَابُ صَلَاۃِ الْجِنَازَۃِ ، مطلب فی دفن المیِّت ، ج۳ ، ص۱۶۹)

قبر پرلکھنے اورپتھررکھنے کاحکم :

            حضرت سیِّدُنااِمَام زَیْلَعِی علیہ رحمۃ اللہ الولی ’’شرح کنز الدقائق‘‘میں فرماتے ہیں : ’’قبر کے اُوپر بطورِنشانی کچھ لکھنے یاپتھر رکھنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ ، با عثِ نُزولِ سکینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت سیِّدُنا عثمان بن مَظْعُوْن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی قبر پربطور نشانی ایک پتھر رکھا تھا۔‘‘

(تبیین الحقائق، کتاب الصلاۃ ، باب الجنائز، ج۱، ص۵۸۸)

مَزَارَات پر چادر وغیرہ چڑھانے کا حکم :

             فقہائے کرام نے صالحین اور اَولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی قبروں پر چادریں چڑھانے ، عمامے اورکپڑے وغیرہ رکھنے کو مکروہ کہاہے ، جیساکہ ’’فتاویٰ حجۃ‘‘ میں ہے ’’قبروں پرچادریں



[1]    دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 186 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘حصَّہ9 ، صَفْحَہ 183پر صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ  علّامہ مولیٰنا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  فرماتے ہیں :’’ علمِ دین اور علماء دین کی توہین بے سبب یعنی محض اس وجہ سے کہ عالم علم دین ہے کفر ہے ، یوں ہی عالمِ دین کی نقل کرنا مثلاً کسی کو منبر وغیرہ کسی اُونچی جگہ پر بٹھائیں اور اس سے مسائل بطورِ اِستہزاء دریافت کریں پھر اسے تکیہ وغیرہ سے ماریں اور مذاق بنائیں یہ کفر ہے ۔‘‘(الفتاوی الہندیۃ ، کتاب السیر، الباب التاسع فی احکام المرتدین ، ج۲، ص۲۷۰)مزیدفرماتے ہیں :’’یوں ہی شرع کی توہین کرنا مثلاً کہے : میں شرع ورع نہیں جانتا یا عالمِ دین محتاط کا فتویٰ پیش کیا گیا اس نے کہا: میں فتوی نہیں مانتا یا فتویٰ کو زمین پر پٹک(یعنی پھینک)دیا ۔‘‘( یہ بھی کفرہے )

[2]    دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘جلد اوّل صَفْحَہ 846پر صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ  علّامہ مولیٰنا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  فرماتے ہیں :’’قبر چوکھونٹی نہ بنائیں بلکہ اس میں ڈھال رکھیں جیسے اونٹ کا کوہان اور اس پر پانی چھڑکنے میں حرج نہیں بلکہ بہتر ہے اور قبر ایک بالشت  اونچی ہو یا کچھ خفیف زیادہ۔‘‘             (الفتاوی الہندیہ ، $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن