دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Mazarat e Auliya | فیضان مزاراتِ اولیاء

book_icon
فیضان مزاراتِ اولیاء

            ’’کفایۃ المعتقد‘‘میں فرمایاکہ ہمیں بعض دوستوں نے یہ بھی خبردی کہ ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کچھ نیک بندے ایسے بھی ہیں جوبعض اَوقات اپنے والد کے مزار پر آتے ہیں اوران سے گفتگو کرتے ہیں ۔‘‘(شرح الصدور، باب زیارۃ القبور...الخ ، ص۲۰۹)

اَولیاء کرام کا اپنی قبروں میں اَذان کا جواب دینا :

            حضرت سیِّدُناامام لاَلَکائیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کتاب’’اَلسُّنَّۃ‘‘ میں نقل کرتے ہیں کہ ’’حضرت سیِّدُنایحییٰ بن معین علیہ رحمۃ اللہ المبین  نے فرمایا:مجھے ایک گور کَن نے  بتایاکہ میں نے اس قبرستان میں نہایت ہی عجیب وغریب بات دیکھی کہ ایک دن جب مؤذن اَذان دے رہاتھا تو ایک قبر والااس کا جواب دے رہا تھا۔‘‘(شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ ، الرقم ۲۱۵۳ ، ج۲ ، ص۹۷۳)

اَولیاء کرام کا اپنی قبروں میں نماز پڑھنا :

            حضرت سیِّدُنا اِمام ابونعیم اَحمدبن عبداللہ اَصْفَہَانی شَافعیعلیہ رحمۃاللہ الکافی’’حِلْیَۃُ الاوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الاَْصْفِیَاء‘‘میں نقل فرماتے ہیں کہ ’’حضرت سیِّدُناسَعِیْدبن جُبَیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے فرمایا :’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ! میں نے اورحضرت سیِّدُناحُمَیْد طَوِیل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے حضرت سیِّدُنا ثابِت بُنَانِیعلیہ رحمۃ اللہ الغنی  کو لحد میں اُتاراجب ہم نے قبر کی اِینٹیں درست کیں تو ایک اینٹ گر گئی، میں نے دیکھا کہ حضرت سیِّدُناثابِت بُنَانِی علیہ رحمۃ اللہ الغنی اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے ہیں ۔ اور وہ دُنیا میں یوں دعا کیا کرتے تھے : ’’اَللّٰہُمَّ إِنْ کُنْتَ أَعْطَیْتَ أَحَدًا مِنْ خَلْقِکَ الصَّلَا ۃَ فِیْ قَبْرِہٖ فَأَعْطِنِیْہَایعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! اگر تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو اُس کی قبر میں نماز اَدا کرنے کا شرف بخشا ہے تو مجھے بھی یہ شرف ضرور عطا فرمانا۔‘‘ پس اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت نے یہ گوارا نہ کیاکہ وہ ان کی اس دُعا کو رَدْ فرمائے ۔‘‘        (بشری الکئیب مع شرح الصدور، ذکر الم مؤمن فی قبرہ ، ص۳۵۰۔حلیۃ الاولیاء ، ثابت البنانی، الرقم ۲۵۶۸، ج۲، ص۳۶۲، عن شیبان بن جسرعن ابیہ)

٭…٭…٭…٭

اَوْلِیَاء کِرَام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلاَم کا اپنی قبروں میں تِلاوت فرما نا

قبر میں سورۂ ملک کی تلاوت:

            (۱)…حضرت سیِّدُناعبد اللہ ابنِ عبّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ماروایت فرماتے ہیں :  حضورنبی ٔکریم، رء ُوف رحیم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے بے خیالی میں ایک قبر پر خیمہ نصب کردیا، انہیں معلوم نہ تھا کہ یہ قبر ہے ، انہوں نے دیکھا کہ اُس قبر میں ایک شخص سورۂ ملک کی تلاوت کررہا ہے یہاں تک کہ اس نے سورت کی تلاوت مکمل کرلی۔وہ صحابی حضورنبی ٔکریم ، رَء ُو فُ رَّحیم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اورسارا وَاقعہ بیان کیا، سرکار  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اِرشاد فرمایا:’’یہ سورت روکنے والی اور نجات دینے والی ہے جو عذابِ قبر سے نجات دے گی۔‘‘     (جامع الترمذی، ابواب فضائل القرآن، باب ماجاء فی فضل سورۃ الملک ، الحدیث۲۸۹۰، ص۱۹۴۲)

            حضرت سیِّدُنا ابو القاسم سعدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی  ’’کِتَابُ الْاِفْصَاح‘‘میں فرماتے ہیں : مذکورہ بالا واقعہ میں سرکارِ مدینہ، راحت ِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ’’ مرنے والااپنی قبرمیں تلاوت بھی کرتا ہے ۔‘‘ کیونکہ حضرت سیِّدُناعبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے اس بات کی خبر دی اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ان کی تصدیق فرمائی ۔‘‘(بشری الکئیب مع شرح الصدور، ذکر قراء ۃ الموتی فی قبورہم ، ص۳۵۱)

 سیِّدُنا عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا قبر میں تلاوت کرنا:

          (۲)…حضرت سیِّدُنا عبیداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے کہ میں مقامِ ’’غابہ‘‘ میں اپنامال لینے گیا، وہاں رات ہوگئی، میں حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمرو بن حِزَام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی قبر کے پاس ٹھہرگیا۔ میں نے ان کی قبر سے اتنی شیریں قراء َت سنی کہ اس سے پہلے ایسی قراء َت نہ سنی تھی۔جب میں سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو میں نے سارا معاملہ عرض کیا، شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’کیا تونہیں جانتا کہ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ان بندوں میں سے ہے جن کی روحوں کو قبض فرماکر اس نے زبرجد و یاقوت کی قندیلوں میں رکھ دیا اور پھران قندیلوں کو جنت کے درمیان معلَّق کر دیا۔جب بھی رات آتی ہے تو ان کی روحیں ان کی طرف لوٹادی جاتی ہیں اور وہ پوری رات یہیں رہتی ہیں اورجب فجر طلوع ہوتی ہے تو انہیں واپس اس جگہ لوٹا دیاجاتاہے جہاں ان کو رکھا گیاہے ۔‘‘(المرجع السابق)

سیِّدُناثابِت بُنَانِیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کا قبر میں تلاوت کرنا:

            (۳)…حضرت سیِّدُنا امام ابو نُعَیْم احمد بن عبد اللہ اَصْفَہَانی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافی  ’’حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء‘‘ میں نقل کرتے ہیں ، حضرت سیِّدُنا اِبراہیم بنصِمَّہ مُہَلَّبِیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   فرماتے ہیں : ’’سحری کے وقت قلعہ کے پاس سے گزرنے والوں نے مجھے بتایا کہ جب ہم حضرت سیِّدُنا ثابِت بُنانی علیہ رحمۃ اللہ الغنی  کی قبر کے پاس سے گزرتے ہیں تو ہمیں قرآنِ پاک پڑھنے کی آواز آتی ہے ۔‘‘

(حلیۃ الاولیاء ،  الرقم ۲۵۸۳، ج۲، ص۳۶۵، بتغیرٍ۔شرح الصدور، ص۱۸۸، بتغیرٍ)

قبر میں تلاوت :

          (۴)…حضرت سیِّدُناسَلَمَہ بن شُعَیْبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ، میں نے ایک پرہیزگار گورکَن حضرت سیِّدُنا ابوحمَّادعلیہ رحمۃ اللہ الجواد کو فرماتے سنا: ’’میں جمعۃ المبارک کے دن دوپہر کے وقت قبرستان میں گیا، جس قبر کے قریب سے گزرتا اس سے قرآنِ پاک کی تلاوت سنائی دیتی ۔‘‘ (شرح الصدور، باب احوال الموتٰی فی قبورہم…الخ ، ص۱۸۸)

بلخی بزرگ کا قبر میں تلاوت کرنا:

          (۵)…حضرت سیِّدُنا عَاصِم سَقَطِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  فرماتے ہیں : ’’ ہم نے بَلخ (شہر) میں ایک قبر کھودی تو وہ دوسری قبر میں کھل گئی ، اس میں سبز چادر اوڑھے قبلہ کی طرف منہ کئے ایک

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن