30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کَشْفُ النُّوْرِعَنْ اَصْحَابِ الْقُبُوْرِ
فیضانِ مزارات اَولیاء
یک زمانہ صحبت بااولیاء
بہترازصدسالہ طاعت بے ریا
(یعنی اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکی لمحہ بھرکی صحبت ، سوسال کی
خالص عبادت سے بہترہے )
بِسْمِ اللّٰہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
تمام تعریفیں اللہ وَحدہٗ لاشریک کے لئے ہیں ، اوردرودو سلام ہو حضورنبی ٔ کریم، رَء ُوفُ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر جن کے بعد کوئی نبی نہیں ۔
حضرت علامہ عَبْدُ الْغَنِی بن اِسماعِیْل نابُلُسِی حَنَفِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : ’’میں نے اس رسالہ میں اَوْلیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیعلیہم اجمعین کی وفات کے بعد اُن کی کرامات کے ظاہرہونے ، اُن کی قبروں پرمزارات بنانے اوراُن پر چادریں چڑھانے کے احکام لکھے ہیں اورمیں نے اِس کانام’’کَشْفُ النُّوْرعَنْ اَصْحَابِ الْقُبُوْر‘‘ رکھا ہے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دُعا ہے کہ مجھے حق اور درست با ت کہنے کی توفیق عطافرمائے اور میرے مسلمان بھائیوں کوحق ظاہرہونے کے بعد اِنصاف کے ساتھ اُس کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ ہرشے پر قادر ہے اور دُعاکی قبولیت اس کے شایانِ شان ہے ۔ ‘‘
پیارے اسلامی بھائیو!کرامات، جن کے ذریعے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی بارگاہ میں مقرَّب اَولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کو عزَّت بخشی وہ مخلوق میں جاری اللہ عَزَّوَجَلَّکی عادت کے خلاف ایسی باتیں ہیں جن کواللہ عَزَّوَجَلَّ محض اپنی قدرتِ کاملہ اور ارادۂ خاص سے پیدافرماتاہے ، ([1])ولی کی ذاتی طاقت وارادہ کااِس کرامت میں باعتبار
تاثیر وتخلیق یقینا کوئی دَخل نہیں ، کیونکہ ولی کی ذات میں موجود قدرت وارادہ صرف اِس بات کا سبب ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کی ذات میں اِن کرامات کو پیدا فرمائے اور اِن کی نسبت اُس وَلی کی طرف کی جائے ، اور جو یہ عقیدہ رکھے کہ کسی کرامت میں وَلی کی ذَاتی قُدرت واِرادہ کودَخل ہے توایسا شخص ’’علمِ توحید ‘‘کی رُوسے کافر ہے ۔ ‘ ‘
مؤثرِحَقِیْقِی صِرف اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ہے
اللہ عَزَّوَجَلَّ جو کرامات ولی کے ہاتھ پر پیدا فرماتاہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ ولی کو اس بات کا یقین ہے کہ مؤثرِ حقیقی اللہ وَحدہٗ لا شریک ہی کی ذات ہے ، اور اِس کے نزدیک خوداُس کی اپنی ذات قطعاً مؤثرِحقیقی نہیں ، کیونکہ اُس کی ذات کی حرکات وسکنات یعنی روحانی قوَّتیں جیسے دیکھنے ، سننے ، چکھنے ، چھونے اور سُونگھنے والی قوتیں ، عقلی باطنی قوت، تفکُّر وتخیُّل(یعنی غوروفکر اور سوچنے ) کی قوت، یاد کرنے کی قوت، اسی طرح اُس کے تمام اَعضاء اور پٹھوں کی ظاہری حرکات وغیرہ یہ تمام یقینا اللہ عَزَّوَجَلَّہی نے پیدافرمائی ہیں ۔اور وہ ولی اِن تمام روحانی وظاہری قوَّتوں کااپنی ذات میں
1حضرت مصنِّف عارِف باللہ سیدی عبدالغنی نابُلُسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نے اپنی دوسری مایہ ناز تصنیف ’’اَلْحَدِیْقَۃُ النَّدِیَّۃ شَرْحُ الطَّرِیْقَۃِ الْمُحَمَّدِیَّۃ ‘‘میں کرامت کی جو جامع ومانع تعریف اورپھراس کی شرح حضر ت سیدناامام لاقانی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی کے حوالے سے بیان فرمائی ہے ، وہ یوں ہے : ’’ہِیَ اَمْرٌ خَارِقٌ لِلْعَادَۃِ غَیْرُ مَقْرُوْنٍ بِالتَّحَدِّیِّ یَظْہَرُ عَلٰی یَدِ عَبْدٍ ظَاہِرِ الصِّلَاحِ مُلْتَزِمٍ لِمُتَابِعَۃِ نَبِیٍّ مِنَ الاَ نْبِیَائِعَلَیْہِمُ السَّلَاممَصْحُوبٍ بِصَحِیْحِ الاِعْتِقَادِ وَالْعَمَلِ الصَّالِحِ۔ ترجمہ:کرامت سے مراد وہ خلافِ عادت امرہے جس کاظہورتحدی ومقابلہ کے لئے نہ ہواور وہ ایسے بندے کے ہاتھ پر ظاہر ہو جس کی نیک نامی مشہورو ظاہر ہو ، وہ اپنے نبی کامُتَّبِع ، درست عقیدہ رکھنے والااورنیک عمل کا پابند ہو۔‘‘ پھراس کی شرح کرتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں : ’’ تحدی ومقابلہ نہ ہونے کی قیدسے کرامت، معجزہ سے الگ ہوگئی۔نیک نامی کے مشہور و ظاہر ہونے کی قیدسے معونت سے جدا ہوگئی اور معونت سے مرادعام مسلمانوں کے ہاتھ پرظاہرہونے والاوہ خلاف ِعادت کام ہے جواِبتلاء و آزمائش سے چھٹکارا دلائے ۔ اور کرامت میں درست عقیدہ اورنیک عمل کی قیدسے یہ اِسْتِدْرَاج (یعنی بے باک فجار یا کفار سے ان کے موافق خلافِ عادت بات) سے جدا ہو گئی۔نیزنبی کی متابعت (یعنی پیروی) کی قیدسے اس خلافِ عادت کام سے جدا ہوگئی جونبوت کے جھوٹے دعویداروں کے جھوٹ کوثابت کر تا ہو جیسے مُسَیْلِمَہ کَذَّابنے میٹھے پانی کے کنوئیں میں اس کی مٹھاس بڑھانے کے لئے تھوکاتووہ نمکین و کھارا ہو گیا۔‘‘ (الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ، الباب الثانی فی الامورالمھمۃ فی الشریعۃ، الفصل الاوّل فی تصحیح الاعتقاد، ج۱، ص۲۹۲)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع