30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
معلوم ہوا کیونکہ آصف نے بلقیس کے مقام کا پتہ کسی سے نہ پوچھا اور آناً فاناً اتنا وزنی تخت بغیر چھکڑے یا گاڑی کے لے آئے ۔‘‘مزید فرماتے ہیں : ’’اس سے معلوم ہواکہ ولایت برحق ہے اور اولیاء اللہ کی کرامات بھی برحق ہیں ۔‘‘
{2}…ارشادباری تعالیٰ ہے :
كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَۙ-وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًاۚ-قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَاؕ-قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۳۷)(پ۳، اٰل عمران:۳۷)
ترجمۂ کنزالایمان:جب زکریا اس کے پاس اس کی نماز پڑھنے کی جگہ جاتے اس کے پاس نیا رزق پاتے کہااے مریم! یہ تیرے پاس کہاں سے آیا بولیں وہ اللہ کے پاس سے ہے بے شک اللہ جسے چاہے بے گنتی دے ۔
مفسِّرِ شہیر، حکیم ُالامت حضرت علامہ مولانا مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی (متوفی۱۳۹۱ھ) اس آیت ِ مبارکہ کے تحت ’’ تفسیرِ نورُالعرفان‘‘میں فرماتے ہیں :’’اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے ، ایک یہ کہ کرامت ِ ولی برحق ہے کیونکہ حضرت مریم کو بے موسم غیبی پھل ملنا ان کی کرامت تھی۔ دوسرے یہ کہ بعض بندے مادر زاد ولی ہوتے ہیں ، ولایت عمل پر موقوف نہیں ، دیکھو!حضرت مریم لڑکپن میں ولیہ تھیں ۔تیسرے یہ کہ ولی کو اللہ تعالیٰ ، علمِ لدنی اور عقلِ کامل عطا فرماتاہے کہ حضرت مریم نے زکریا عَلَیْہِ السَّلَام کے سوال کا جواب ایسا ایمان افروز دیا کہ سبحان اللہ۔چوتھے یہ کہ بعض اللہ والوں کے لئے جنَّتی میوے آئے ہیں ، حضرت مریم (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا)کو یہ پھل جنت سے ملتے تھے ۔ پانچویں یہ کہ حضرت مریم کی پرورش جنتی میووں سے ہوئی نہ کہ ماں کے دودھ یا دنیاوی غذاؤں سے ۔ ‘‘
حضرت سیِّدُناامام مجاہد، حضرت سیِّدُناعکرمہ ، حضرت سیِّدُنا سعیدبن جبیر، حضرت سیِّدُناابراہیم نخعی اورحضرت سیِّدُنا قتادہ وغیرہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیاس آیت مقدسہ کی تفسیرمیں فرماتے ہیں : ’’حضرت سیِّدُنازکریاعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام حضرت سیِّدَتُنا مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اکے پاس گرمیوں کے پھل سردیوں میں دیکھتے تھے اور سردیوں کے پھل گرمیوں میں دیکھتے تھے ۔‘‘ اور اس آیت میں اللہ عَزَّوَجَلَّکے ولیوں کی کرامات پر دلیل ہے اوراحادیث کریمہ میں تواس کی بہت مثالیں موجود ہیں ۔ (تفسیر ابن کثیر، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۳۷، ج۲، ص۳۰)
حضرت سیِّدُناقاضی ثناء اللہ پانی پتی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی (متوفی۱۲۲۵ ھ) اسی آیتِ طیبہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’یہ قصہ (یعنی واقعہ) اولیاء اللہ کی کرامت پر دلیل ہے ۔‘‘(تفسیر مظہری(مترجم)، اٰل عمران، تحت الآیۃ:۳۷، ج۲، ص۹۸)
{3}…اللہ عَزَّوَجَلَّارشادفرماتاہے :
اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِۙ-كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا(۹) اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا(۱۰) فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاۙ(۱۱) (پ۱۵، الکھف: ۹تا۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان: کیا تمہیں معلوم ہوا کہ پہاڑ کی کھوہ اور جنگل کے کنارے والے ہماری ایک عجیب نشانی تھے جب ان نوجوانوں نے غار میں پناہ لی پھر بولے اے ہمارے رب! ہمیں اپنے پاس سے رحمت دے اور ہمارے کام میں ہمارے لئے راہ یابی کے سامان کر توہم نے اس غار میں ان کے کانوں پر گنتی کے کئی برس تھپکا۔
مفسِّرِ شہیر، حکیم ُالامت حضرت علامہ مولانا مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی (متوفی۱۳۹۱ھ) اس آیتِ مبارکہ کے تحت ’’ تفسیرِ نورُالعرفان‘‘میں فرماتے ہیں :’’اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے ؛ ایک یہ کہ کرامتِ اولیاء برحق ہیں ان کا بے آب ودانہ اتنی مدت زندہ رہنا کرامت ہے ۔ دوسرے یہ کہ کرامت ولی سے سوتے میں بھی صادر ہوسکتی ہے ۔ اسی طرح بعدِ موت بھی ان کے جسموں کو مِٹی کا نہ کھانا یہ بھی کرامتِ اولیاء ہے ۔‘‘
حضرت سیِّدُناامام فخر الدین ابوعبداللہ محمدبن عمر رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی (متوفی۶۰۶ھ)اس آیت مبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’ہمارے اصحابِ صوفیہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰینے اس آیت طیبہ سے کرامات کے قول کی صحت پر استدلال کیا ہے اور یہ استدلال بالکل ظاہرہے ۔‘‘(التفسیر الکبیر، الکھف، تحت الآیۃ:۹تا۱۲، ج۷ ، ص۴۳۰)
احادیث مبارکہ میں کرامات کا ذِ کر
{1}…حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہاللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بنی اسرائیل میں جریج نام کاایک (عبادت گزار)شخص تھا۔وہ ایک روز(اپنی عبادت گاہ میں )نمازپڑھ رہاتھا کہ اتنے میں اس کی ماں نے آکراسے آوازدی ۔ لیکن اس نے جواب نہ دیااوردل میں یوں کہا:’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!نماز پڑھوں یاان کا جواب دوں ۔‘‘اس کی ماں پھرآئی اوریوں دعاکی :اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! اسے اس وقت تک موت نہ دیناجب تک یہ کسی فاحشہ عورت کے معاملہ میں ملوث نہ ہو۔‘‘ پس جریج ایک دن نمازپڑھ رہاتھاکہ ایک عورت نے کہامیں جریج کوفتنے میں مبتلا کردوں گی ۔ چنانچہ، وہ اس کے سامنے آئی اوراس سے گفتگوکی (یعنی بدکاری کی دعوت دی ) مگراس (عبادت گزارنیک بندے )نے انکارکیا۔تووہ عورت چرواہے کے پاس گئی اور(بدکاری کے لئے )اسے اپنے آپ پر قدرت دے دی۔تواس نے ایک بچے کوجنم دیا اور کہنے لگی کہ یہ جریج کاہے ۔لوگ جریج کے پاس آئے اورا س کی عبادت گاہ توڑدی اوراسے نکال باہرکیااوراسے بہت برابھلاکہا۔اس پرجریج نے وضوکیااور نماز پڑھی پھراس بچے کے پاس آیااور (بچے کے پیٹ میں انگلی چبھوکر) اس سے کہا:’’اے بچے !تیراباپ کون ہے ؟‘‘تو(چنددن کا)بچہ بول اٹھاکہ:’’فلاں چرواہا۔‘‘ لوگوں نے (شرمندہ ہوکر)جریج سے کہا:’’ہم تمہارے لئے سونے کی عبادت گاہ بنادیتے ہیں ۔‘‘ مگراس نے کہا: ’’نہیں !ویسی ہی مٹی کی بنادو۔‘‘
(صحیح البخاری، کتاب المظالم ، باب اذہدم حائطافلیبن مثلہ، الحدیث:۲۴۸۲، ص۱۹۵۔صحیح مسلم، کتاب البروالصلۃوالادب، باب تقدیم برالوالدین علی التطوع بالصلوۃ وغیرہا ،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع