30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَزَّوَجَلَّاس کو خیر میں تبدیل فرما دے (۲۲)... مختلف شکلوں اور صورتوں کواختیارکرلینا(۲۳)... اللہ عَزَّوَجَلَّکا انہیں زمینی ذخیروں پر آگاہ فرما دینا(۲۴)...قلیل وقت میں کثیرتصانیف لکھ لینا (۲۵)... زہر اور ہلاکت خیز چیزوں کا اثر نہ کرنا ۔‘‘
حضرت سیِّدُناعلامہ تاج الدین سُبکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی یہ اقسام بیان کرنے کے بعدفرماتے ہیں :’’میرے گمان کے مطابق کرامت کی اقسام 100سے بھی زیادہ ہیں اورہم نے جوپچیس اقسام بیان کی ہیں ان میں سے ہرایک کے تحت کثیر احادیث وواقعات اورحکایات وروایات منقول ہیں ۔‘‘(جامع کرامات الاولیاء، مقدمۃ الکتاب، المطلب الثانی فی انواع الکرامات ج۱، ص۴۸تا۵۲، ملخصًا)
محقق اہلسنّت، حضرت سیِّدُناعلامہ امام یوسف بن اسماعیل نبھانی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی (متوفی ۱۳۵۰ھ ) ارشاد فرماتے ہیں :’’معنوی کرامات کو اللہ عَزَّوَجَلَّکے خاص بندے ہی پہچانتے ہیں عوام کو وہاں تک رسائی نہیں ہوتی۔ معنوی کرامات یہ ہیں کہ آدابِ شریعت اس ولی اللہ کے لئے محفوظ ہو جاتے ہیں ۔ بہترین اخلاق کے ظہور اور گھٹیا اخلاق سے بچنے کی اسے توفیق مل جاتی ہے ۔ وہ اوقاتِ صحیحہ میں واجبات کی ادائیگی پر محافظت کرتاہے ۔ بھلائیوں اورنیکیوں میں جلدی کرتاہے ، اس کا سینہ بغض وکینہ اور حسدوبدگمانی سے پاک ہوتاہے ۔ اس کادل ہر بری صفت سے پاک اورمراقبہ کے ذریعے آراستہ ہوتا ہے اوروہ اپنے اور دیگر اشیاء کے معاملہ میں حقوق اللہ کی رعایت کرتاہے ۔‘‘مزیدفرماتے ہیں : ’’ہمارے نزدیک یہ تمام کراماتِ معنویہ ہیں کہ جن میں مکرواستدراج کودخل نہیں ۔‘‘(المرجع السابق ، ص۶۶ملخصًا)
دیگرامتوں کے مقابلے میں اولیائے امت محمدیہ عَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے بہت زیادہ کرامتوں کے ظہورکی حکمت وعظمت بیان کرتے ہوئے محقق اہلسنّت، حضرت سیِّدُناعلامہ امام یوسف بن اسماعیل نبھانی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی (متوفی ۱۳۵۰ھ ) ارشادفرماتے ہیں :’’ اُمَّتِ محمدیہ عَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے اولیاء عظام سے بہت زیادہ کرامتوں کے ظہور میں حکمت یہ ہے کہ حضورنبی ٔاکرم، رسول محتشم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سردارانبیا ءعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہونے کوظاہر کیاجائے اس طرح کہ حیاتِ ظاہری میں بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے معجزات کثیرہوں اور وصال ظاہر ی کے بعد بھی(بصورتِ کرامات اولیاء ) بکثرت معجزات کا ظہورہو (کیونکہ کرامت حقیقت میں نبی کے معجزہ کاتتمہ ہوتی ہے )۔اور چونکہ حضورنبی کریم ، رء ُوف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ خاتم الانبیاء اور حبیبِ خداَ ہیں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا دین’’ اِسلام ‘‘قیامت تک کے لئے ہے ، لہٰذا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تصدیق کے اسباب کا باقی رہنا بھی ضروری ہے اوران اسباب میں سے ایک قوی سبب کراماتِ اولیاء ہیں جو درحقیقت حضورنبی ٔ پاک ، صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہی کے معجزات ہیں اور یہ کرامات’’ معجزہ ٔقرآنِ کریم‘‘کے علاوہ ہیں ۔‘‘
مزیدفرماتے ہیں :’’اور یہ کراماتِ اولیاء ان معجزات کے علاوہ ہیں جن کی خبر نبی ٔاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی ظاہری حیات طیبہ میں ہی دے دی تھی مثلاً قیامت کی علامات وغیرہا جن کا ظہور بتدریج ہورہاہے ۔اور ان کرامات سے ایسا محسوس ہوتاہے کہ حضورجان دوجہان، مالکِ کون ومکان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ امت میں بالفعل موجود ہیں اور امت آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وصال شریف کے بعد اسی طرح معجزات کا مشاہدہ کررہی ہے جس طرح آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی حیاتِ ظاہری میں کرتی تھی۔ ان کرامات کے سبب مؤمنوں کے ایمان میں اضافہ اور بے ایمانوں کو دین کی دولت نصیب ہوتی ہے ۔‘‘ (حجۃ اللّٰہ علی العلمین ، الخاتمہ فی اثبات کرامات الاولیاء…الخ ، ج۱، ۶۰۷)
قرآن وحد یث میں کرامات کا بیان
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو:
قرآن مجیداوراحادیث مبارکہ میں کئی اولیاء عظام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکی کرامات کا ذکرخیرموجود ہے ۔ جو واضح طورپرکرامات اولیاء کے حق ہونے کی دلیل ہے ۔اس مقام پرکرامات اولیاء پرمشتمل بعض آیات مقدسہ اوراحادیث مبارکہ تفسیروشرح کے ساتھ پیش کی جارہی ہیں تاکہ ہمارے ایمان کو تازگی اورروح کوبالیدگی حاصل ہو۔ اللہ عَزَّوَجَلَّاپنے پیارے حبیب ، حبیب لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صدقہ وطفیل میں ہمارے عقائدواعمال کی حفاظت فرمائے اورہمیں اپنے محبوب بندوں کی سچی محبت پرثابت قدمی عطافرمائے اورصراط مستقیم پرگامزن رکھے ۔
(آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ واَصْحَابِہٖ وَسَلَّمَ )
لمحہ بھرمیں انتہائی وزنی تخت حاضرکردیا:
{1}…اللہ عَزَّوَجَلَّارشادفرماتاہے :
قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَؕ-فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ ﱎ(پ۱۹، النمل:۴۰)
ترجمۂ کنزالایمان:اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا، کہ میں اسے حضور میں حاضر کردوں گا ایک پل مارنے سے پہلے پھر جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا دیکھا کہا یہ میرے رب کے فضل سے ہے ۔
مفسِّرِ شہیر، حکیم الا ُمت حضرت علامہ مولانا مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی (متوفی۱۳۹۱ھ) اس آیت مبارکہ کے تحت ’’ تفسیر نورُالعرفان‘‘ میں فرماتے ہیں :’’یہ آصف بن برخیا تھے کتاب سے مراد یاتو لوحِ محفوظ ہے یاتورات شریف یا ابراہیمی صحیفے ۔یعنی حضرت آصف ان کتب کی تعلیم کی برکت سے ولی ہو چکے تھے کیوں نہ ہوتے کہ حضرت سلیمانعَلَیْہِ السَّلَامکے شاگرد رشید تھے ۔علمِ کتاب سے مراد باطن یعنی علمِ تصوُّف ہے کیونکہ ظاہری علم ، ولایت اور طاقت نہیں پیدا کرتا۔‘‘ مزید فرماتے ہیں : ’’اس آیت سے ولی کی قوت، ولی کی رفتار، ولی کا حاضر وناظر ہونا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع