30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(4)… حضرت سیِّدُناامام ابوبکرفورکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ایک فرق مزیدبیان فرماتے ہیں کہ ’’حضرات انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے لئے معجزات کو ظاہر کرنا لازم ہے مگر ولی کے لئے کرامت کو چھپاناضروری ہے ۔‘‘ (المرجع السابق)
(1)…محقق اہلسنّت، حضرت سیِّدُناعلامہ امام یوسف بن اسماعیل نبھانی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی (متوفی ۱۳۵۰ھ ) کرامت اور استدراج کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں :’’ظہورِ کرامت کے وقت، صاحبِ کرامت بزرگ پر اللہ عَزَّوَجَلَّکا خوف طاری ہوتاہے اوراللہ عَزَّوَجَلَّکے قہر سے اورزیادہ ڈرنے لگتاہے کیونکہ اُسے یہ ڈرہوتاہے کہ جسے وہ کرامت سمجھ رہاہے کہیں استِدراج نہ ہو۔ لیکن اِستدارج والے کا معاملہ اس کے بالکل اُلٹ ہوتاہے ۔ وہ اپنے استدراج کو دیکھ کر انس وخوشی محسوس کرتاہے اور سمجھتاہے کہ میں اسی کاحق دار ہوں ۔اوراس کے سبب دوسروں کو حقیر سمجھنے لگ جاتاہے ۔اس دھوکے میں آکروہ خودکو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عقاب وگرفت سے محفوظ سمجھنے لگ جاتاہے ۔اپنے اُخروی انجام سے بے خوف ہوجاتا ہے ۔ پس اگربندہ یہ حالات دیکھے تووہ یقین کرلے کہ یہ کرامت نہیں ، اِستدارج ہے ۔‘‘ (جامع کرامات الاولیاء، ج۱، ص۲۴ملخصًا)
(2)… مجدداعظم، سیِّدُنااعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنَّت، حضرت علامہ ومولینا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن (متوفی ۱۳۴۰ھ) ’’فتاوی رضویہ شریف‘‘ جلد۲۱، صفحہ ۵۵۷پر سردار سلسلہ چشتیہ اشرفیہ حضرت قطب ربانی محبوب یزدانی مخدوم اشرف جہانگیر چشتی سمنانی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا فرمان نقل فرماتے ہیں : ’’خارق عادت اگر ازولی موصوف باوصاف ولایت ظاہربود کرامت گویند واگر از مخالف شریعت صادر شود استدراج حفظنا اﷲوایاکم ۔(ترجمہ)اگر اوصاف ولایت والے ولی سے خارق عادت ظاہر ہو تو وہ کرامت ہے اور اگر مخالف شریعت سے صادر ہو تو استدارج ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو محفوظ فرمائے ۔‘‘ (لطائف اشرفیہ ، لطیفہ پنجم ، ج۱، ص۱۲۶)
ولی ہونے کے لئے کرامت ضروری نہیں :
حضرتِ سیِّدُنا عارف باللہ امام عبدالکریم بن ہوازن قشیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی (متوفی ۴۶۵ھ ) ارشادفرماتے ہیں ـ: ’’ضروری نہیں کہ جوکرامت ایک ولی کے ہاتھ پر ظاہرہو وہی کرامت تمام ا ولیاء کے ہاتھ پربھی ظاہر ہو بلکہ اگرکسی ولی سے دنیا میں کرامت کا ظہورنہ بھی ہوتواس کی ولایت کا انکارنہیں کیاجائے گا۔‘‘ (الرسالۃ القشیریۃ ، باب کرامات الاولیاء ، ص۳۷۹)
حضرت سیِّدُناشیخ اکبرمحی الدین ابن عربی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی (متوفی۶۳۸ھ) فرماتے ہیں :’’ کبھی تواللہ عَزَّوَجَلَّاپنے ولی کوکرامت کے ظاہرکرنے کی قدرت ہی عطا نہیں فرماتاباوجودیہ کہ وہ ولی اللہ عَزَّوَجَلَّکے نزدیک بڑامقام رکھنے والوں میں سے ہوتاہے ۔اورکبھی کرامت کے اظہارپر قدرت توہوتی ہے مگر وہ ولی اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی رضاء کے لئے کرامت کو ظاہر نہیں کرتا۔‘‘(جامع کرامات الاولیاء ، مقدمۃ الکتاب ، المطلب الاول، ج۱، ص۳۹ملخصًا)
محقق اہلسنّت، حضرت سیِّدُناعلامہ امام یوسف بن اسماعیل نبھانی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی (متوفی ۱۳۵۰ھ ) ارشاد فرماتے ہیں :’’ولی اللہ کو خلافِ عادت فعل (یعنی کرامت) اس لئے عطاہوتاہے کہ وہ اپنی ذات کوخلافِ عادت بنالیتاہے ۔یوں کہ جب اس کا نفس کسی چیزکی خواہش کرتاہے تووہ اس کے خلاف کرتاہے حتی کہ مباح (یعنی جائز) چیزوں سے بھی نفس کو دور رکھتاہے ۔یوں ہی جب شیطان مختلف اشیاء کومزین کر کے اس کے نفس پرپیش کرتاہے تووہ اپنے نفس کو ان اشیاء سے پھیردیتاہے ۔ اگر شیطان اس کوکسی واجب کے ترک پر آمادہ کرے تو وہ اس کی مخالفت کرتاہے ۔لہٰذا جب وہ اپنی ذات میں خلاف عادت افعال سرانجام دیتاہے تواللہ عَزَّوَجَلَّ ان کے لئے دُنیامیں خلاف عادت کام پیدافرمادیتاہے ۔‘‘ (المرجع السابق ، ص۴۳ ملخصًا)
کرامت کی دواقسام ہیں (۱)محسوس ظاہری اور(۲) معقول معنوی
چنانچہ، مجدداعظم، سیِّدُنااعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنَّت، حضرت علامہ ومولینا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن (متوفی ۱۳۴۰ھ)کرامت کی اقسام بیان کرتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں : ’’کرامت دو قسم پر ہے ، محسوس ظاہری ومعقول معنوی۔ عوام صرف کراماتِ محسوسہ کو جانتے ہیں جیسے کسی کو دل کی بات بتا دینا، گزشتہ وموجودہ وآئندہ غیبوں کی خبر دینا، پانی پر چلنا، ہواپراڑنا، صدہا منزلِ زمین ایک قدم میں طے کرنا، آنکھوں سے چھپ جانا کہ سامنے موجود ہوں اور کسی کو نظر نہ آئیں اور کرامات معنویہ کو صرف خواص پہچانتے ہیں وہ یہ ہیں کہ اپنے نفس پر آداب شرعیہ کی حفاظت رکھے ، عمدہ خصلتیں حاصل کرنے اور بری عادتوں سے بچنے کی توفیق دیا جائے تمام واجبات ٹھیک اداکرنے پر التزام رکھے ۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ ، جلد۲۱، ص۵۴۹)
حضرت سیِّدُناعلامہ تاج الدین ابونصرعبدالوہاب بن علی سبکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی (متوفی ۷۷۱ھ) نے ’’طَبَقَاتُ الْکُبْریٰ‘‘میں ( محسوس ظاہری )کرامت کی پچیس اقسام تفصیل کے ساتھ بیان فرمائی ہیں ، یہاں ان کاخلاصہ بیان کیاجاتاہے :
(۱)... مُردوں کو زندہ کرنا (۲)...مُردوں سے باتیں کرنا(۳)... دریا کا پھٹ جانا، سوکھ جانا اور پانی پر چلنا(۴)...کسی شے کی اصل ہی کو تبدیل کر دینا (۵)... زمین کا لپٹ کرفاصلہ مختصر ہوجانا (۶)... جمادات وحیوانات کا ہم کلام ہونا (۷)... مرضوں کادورہونا(۸)... حیوانات کاتابع فرمان ہونا (۹)... زمانے اوروقت کا سکڑجانااورمحدودہوجانایا(۱۰)...ان کاپھیل جانا(۱۱)... دُعاکا شرفِ قبولیت پانا(۱۲)... زبان کا بات کرنے سے رک جانا یا کھل جانا (۱۳)... انتہائی نفرت کرنے والے دلوں کواپنی جانب مائل کر لینا (۱۴)... بعض غیوب کی خبر دے دینا یا کشف ہو جانا(۱۵)... عرصۂ دراز تک کھائے پئے بغیر رہنا (۱۶)...تصرُّف کاحاصل ہونا (۱۷)... زیادہ کھاناکھانے پر قدرت ہونا (۱۸)... حرام کھانے سے محفوظ رہنا (۱۹)... دوردرازمقام کا مشاہدہ کرنا(۲۰)... بعض اولیاء عظام کوایسی ہیئت و جلال عطاہوناجسے دیکھنے سے انسان کی موت واقع ہوجائے (۲۱)... اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے کفایت وحمایت حاصل ہونایوں کہ اگر کوئی اولیاء کرام سے شر کا ارادہ کرے تواللہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع