30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ولی کونبی سے افضل کہنے والے کاحکم:
مجدداعظم، سیِّدُنااعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنَّت، حضرت علامہ ومولٰینا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن (متوفی ۱۳۴۰ھ)’’فتاوی رضویہ شریف‘‘جلد۱۵، صفحہ۵۸۴ پرفرماتے ہیں :’’فقیر نے اپنے فتوی مسمّٰی بہ ’’ رَدُّالرَّفْضَۃ‘‘ میں شفاء شریف امام قاضی عیاض و روضہ امام نووی وارشاد الساری امام قسطلانی وشرح عقائد نسفی و شرح مقاصد امام تفتازانی واعلام امام ابن حجر مکی ومنح الروض علامہ قاری وطریقہ محمدیہ علامہ برکوی وحدیقہ ندیہ مولیٰ نابلسی وغیرہا کتب کثیرہ کے نصوص سے ثابت کیا ہے کہ باجماعِ مسلمین کوئی ولی کوئی غوث کوئی صدیق بھی کسی نبی سے افضل نہیں ہو سکتا، جو ایسا کہے قطعاً اجماعاً کافر ملحد(یعنی بالاتفاق پکاکافروبے دین) ہے ، ازاں جملہ شرح صحیح بخاری شریف میں ہے : ’’اَلنَّبِیُّ اَفْضَلُ مِنَ الْوَلِیِّ وَھُوَ اَمْرٌ مَقْطُوْعٌ بِہٖ وَالْقَائِلُ بِخِلَافِہٖ کَافِرٌ لِاَنَّہُ مَعْلُوْمٌ مِنَ الشَّرْعِ بِالضَّرُوْرَۃِیعنی ہر نبی ہر ولی سے افضل ہے اور یہ امر یقینی ہے اور اس کے خلاف کہنے والا کافر ہے کہ یہ ضروریاتِ دین سے ہے ۔‘‘ ( ارشاد الساری شرح صحیح البخاری ، کتاب العلم ، باب ما یستحب للعالم…الخ ، تحت الحدیث:۱۲۲، ج۱، ص۳۷۸)
کیاصاحبِ کرامت ولی زیادہ افضل ہوتاہے :
شیخ الاسلام حضرت سیِّدُنازکریاانصاری علیہ رحمۃ اللہ الباری فرماتے ہیں : ’’ایسا ولی جس سے کرامت کاظہورنہ ہواکبھی وہ صاحبِ کرامت ولی سے افضل ہوتاہے کیونکہ افضل ہونے کامداریقین کی زیادتی پرہے ، کرامت پرنہیں ۔‘‘(جامع کرامات الاولیاء، مقدمۃ الکتاب، المطلب الاول، ج۱، ص۳۷)
حضرت سیِّدُناعلامہ عفیف الدین عبداللہ بن اسعدبن علی یافعی یمنی ثم مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی (متوفی ۷۶۸ھ) نے ارشادفرمایا: ’’یہ لازم نہیں کہ صاحب ِ کرامت ولی اس ولی سے افضل ہوجو صاحبِ کرامت نہیں بلکہ بسا اوقات ایسا بھی ہوتاہے کہ جس ولی کے پاس کرامت نہیں وہ صاحبِ کرامت ولی سے افضل ہوتاہے ۔‘‘ (المرجع السابق )
کرامت اوراس کے متعلق اُمُورکابیان
عارف باللہ ، ناصح الا ُمہ حضرت سیِّدُنا امام عبد الغنی بن اسماعیل نابلسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی (متوفی ۱۱۴۳ھ) کرامت کی تعریف یوں فرماتے ہیں : ’’کرامت سے مراد وہ خلافِ عادت امرہے جس کاظہورتحدی ومقابلہ کے لئے نہ ہواوروہ ایسے بندے کے ہاتھ پر ظاہر ہو جس کی نیک نامی مشہورو ظاہر ہو ، وہ اپنے نبی کامُتَّبِع ، درست عقیدہ رکھنے والااورنیک عمل کا پابند ہو۔‘‘ (الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ ، الباب الثانی فی الامورالمھمۃ فی الشریعۃ ، ج۱، ص۲۹۲)
خلافِ عادت امر سے مراد وہ کام ہے جو عام طور پر کسی انسان سے ظاہر نہ ہوتا ہو مثلاً ہوا میں اُڑنا، پانی پر چلنا وغیرہ افعال کہ عام طور پر آدمی نہ تو ہوا میں اُڑ سکتاہے اور نہ ہی پانی پر چل سکتا ہے ۔
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘جلد اوّل صَفْحَہ 58پر صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی (متوفی ۱۳۶۷ھ) خلافِ عادت فعل کی مختلف صورتوں کو بیان کرتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں :’’نبی سے جو بات خلافِ عادت قبلِ نبوت ظاہرہو اس کو اِرہاص کہتے ہیں (اور بعد ِنبوت ہو تومعجزہ )اور ولی سے جو ایسی بات صادر ہو اس کو کرامت کہتے ہیں ، اور عام مؤمنین سے جو صادر ہو اسے معونت کہتے ہیں اور بے باک فجاریا کفار سے جو ان کے موافق ظاہر ہو اس کو استدراج کہتے ہیں اور ان کے خلاف ظاہر ہوتو اہانت ہے ۔‘‘(بہارِ شریعت ، حصّہ ۱، ج ۱، ص۵۸)
علامۃ الدہرحضرت سیِّدُناعبدالعزیزپرہاروی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی (متوفی۱۲۳۹ھ) نے بھی ’’اَلنِّبْرَاسْ شَرْحُ شَرْحِ الْعَقَائِدْ‘‘ صَفْحَہ 272پراسی طرح کی تفصیل بیان فرمائی ہے ۔
معجزہ اورکرامت میں کئی اعتبارسے فرق ہے ۔چندفرق بیان کئے جاتے ہیں :
(1)…حضرت سیِّدُناشیخ ابوطاہرقزوینی اور حضرت سیِّدُناامام ابوبکرفورکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ما معجزہ و کرامت میں فرق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’معجزہ کا ظہور تحدی (یعنی چیلنج)ا ورمقابلہ کے لئے ہوتاہے جبکہ کرامت میں ایسا نہیں ۔‘‘(حجۃ اللّٰہ علی العالمین، المقدمۃ، المبحث الاول، ص۱۲۔الرسالۃ القشیریۃ، ص۷۸ ۳)
پھرحضرت سیِّدُناشیخ ابوطاہرقزوینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نے اس کی وجہ یوں بیان فرمائی :’’کیونکہ جب ولی خلافِ عادت فعل کے ساتھ اپنی ولایت کا دعوی کرے تو یہ معجزۂ رسول کا منکر نہیں ہوگا۔ البتہ!اگر وہ نبوت کادعوی کربیٹھے تو اس صورت میں وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہوگا اورکوئی بھی جھوٹاشخص اللہ عَزَّوَجَلَّکا ولی نہیں ہو سکتا۔‘‘
(حجۃ اللّٰہ علی العالمین، ، المقدمۃ، المبحث الاول، ص۱۲)
(2)…حضرت سیِّدُناابواسحاق ابراہیم بن محمدا سفرائینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی (متوفی ۴۱۸ھ) ارشاد فرماتے ہیں :’’معجزات حضرات انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے سچے نبی ہونے کی دلیل ہیں اور نبوت کی کوئی دلیل کسی غیر نبی میں نہیں پائی جاسکتی جیسے پختہ ومحکم عقل عالِم ہونے کی دلیل ہے جو غیر عالم میں نہیں پائی جاسکتی۔‘‘(الرسالۃ القشیریۃ، ص۳۷۸)
(3)…حضرت سیِّدُناامام اسفرائینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی ارشادفرماتے ہیں : ’’کرامت ولی سے صادرہوتی ہے اور وہ کسی نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے صادر ہونے والے فعل یعنی معجزہ کے برابر نہیں ہوسکتی۔‘‘ (المرجع السابق )
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع