30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اورصدرالشریعہ، بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی (متوفی ۱۳۶۷ھ) ارشاد فرماتے ہیں :’’ولایت وہبی شے ہے ، نہ یہ کہ اعمالِ شاقہ (یعنی سخت مشکل اعمال)سے آدمی خود حاصل کر لے ، البتہ! غالباً اعمالِ حسنہ اس عطیۂ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے لئے ذریعہ ہوتے ہیں ، اور بعضوں کو ابتداء مل جاتی ہے ۔‘‘(بہارشریعت ، جلد۱، حصّہ۱، ص۲۶۴)
البتہ! بعض اوقات تقوی وپرہیزگاری کے سبب کوئی ولی ہوجاتا ہے ۔ لہٰذا بعض علماء کرام مجازاً ولایت کو کسبی بھی کہہ دیتے ہیں ، جیساکہ مفسرِ شہیر، حکیم الا ُمت حضرت مفتی احمد یارخان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی (متوفی۱۳۹۱ھ) تحریرفرماتے ہیں : ’’اللہ (عَزَّوَجَلَّ ) کے مقبول بندے ’’اَوْلِیَاء اللّٰہ‘‘ کہلاتے ہیں ، اور اس کے مردود ’’مِنْ دُوْنِ اللّٰہ‘‘ ان مقبولوں میں بعض تو تقویٰ، طہارت وغیرہ سے مقبول ہو جاتے ہیں ، یہ ولایت کسبی ہے ، بعض مادرزاد ولی ہوتے ہیں ، یہ ولایت عطائی ہے دیکھوبی بی مریم مادرزاد ولیہ تھیں ، اور آدم عَلَیْہِ السَّلَام پیدا ہوتے ہی مسجودِ ملائکہ ہوئے اور بعض لوگ کسی کی نگاہِ کرم سے ولی بن جاتے ہیں ، اسے ولایت ِ وہبی کہتے ہیں ، جیسے موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے جادوگرکہ آناً فاناً مؤمن، صحابی، شہید ہوئے ، یاحبیب نجار (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار)جو حضرت عیسٰیعَلَیْہِ السَّلَامکے حواریوں میں آناًفاناً ولی ہوگئے ، یہ آیت تینوں قسم کے ولیوں کو شامل ہے ۔‘‘(نورالعرفان فی تفسیرالقرآن ، پارہ ۱۱، سورۃ یونس ، تحت الایۃ :۶۲)
ولایت کی دو قسمیں ہیں : (1) ولایت تَشْرِیْعِی(2)ولایت تَکْوِیْنِی۔
ولایتِ تَشْرِیْعِی:
لفظِ ولی ’’وَلَائٌ‘‘ سے بناہے ۔کبھی اس کامعنی ’’اعانت ومددکرنا، حمایت کرنا، محبت کرنا، فرمانبرداری کرنااور اطاعت کرنا ‘‘آتاہے ۔ اسی سے ’’مولیٰ‘‘ بھی ہے ۔ اس معنی کے اعتبارسے ولایت عام ہے اور ولی کا اطلاق ہر عام وخاص پرہو سکتا ہے بلکہ ہر نیک مسلمان جسے قربِ الٰہیعَزَّوَجَلَّ حاصل ہووہ ولی تشریعی ہے ، اور ولی کو ولی اس وجہ سے بھی کہتے ہیں کہ وہ معین ومددگار واطاعت گزاروفرمانبردار ہوتا ہے ۔ چنانچہ،
مفسرِ شہیر، حکیم الا ُ مت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی (متوفی۱۳۹۱ھ) ارشادفرماتے ہیں : ’’ولی دو قسم کے ہیں ؛ ولی تشریعی، ولی تکوینی۔ ولی تشریعی ہر نیک مسلمان ہے جسے قربِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ حاصل ہو۔‘‘(نورالعرفان فی تفسیرالقرآن ، پارہ ۱۱، سورۃ یونس ، تحت الایۃ :۶۲)
اورکبھی’’وَلَاءٌ‘‘کامعنی’’قرب‘‘آتاہے ۔اس معنی کے اعتبارسے ولایت کو تکوینی کہتے ہیں ۔ اورجسے یہ حاصل ہواسے ولی تکوینی کہاجاتاہے ۔چنانچہ،
مفسرِ شہیر، حکیم الا ُمت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن (متوفی۱۳۹۱ھ) فرماتے ہیں :’’ تکوینی ولی وہ ہے جسے عالم میں تصرف کا اختیار دیاگیاہو، ولی تشریعی تو ہر چالیس متقی مسلمانوں میں ایک ہوتاہے ، اور ولی تکوینی کی جماعت مخصوص ہے ، غوث، قطب، ابدال وغیرہ اسی جماعت کے افراد ہیں ۔یہ تما م قیامت کے ڈر ورنج سے یا دنیا کے مُضِر خوف وغم سے محفوظ ہیں ۔‘‘(نورالعرفان فی تفسیرالقرآن ، پارہ ۱۱، سورۃ یونس ، تحت الایۃ :۶۲)
اللہ عَزَّوَجَلَّارشادفرماتاہے ::
اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ (پ۹، الانفال: ۳۴) ترجمۂ کنزالایمان: اولیاء تو پرہیز گار ہی ہیں ۔
مفسر شہیر، حکیم الا ُمت حضرت علامہ مولانا مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی (متوفی۱۳۹۱ھ) اس آیتِ مبارکہ کے تحت ’’ تفسیر نورالعرفان‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’تقویٰ کے چار درجے ہیں اس لئے ولایت کے بھی چار درجے ہوئے ، کفر سے بچنا، گناہوں سے بچنا، مشکوک چیزوں اور شبہات سے بچنا، غیر اللہ سے بچنا۔ غیر اللہ وہ جو رب سے غافل کرے ۔اگر نماز ودیگر عبادات ریاکے لئے ہوں تو وہ غیر اللہ ہیں اور اگر کھانارب کے لئے ہوتووہ غیر نہیں ۔ مگر بعض لوگ ہر بھنگی چرسی کو ولی سمجھ لیتے ہیں یہ غلط ہے بعض لوگ بے دینوں (بدمذہبوں ) کو ولی جانتے ہیں ، یہ بھی دھوکہ ہے ۔‘‘
حضرت سیِّدُناعلامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی (متوفی ۷۹۳ھ) فرماتے ہیں : ’’ولی اس شخص کو کہتے ہیں جوممکنہ حدتک اللہ عَزَّوَجَلَّا وراس کی صفات کاعارف ہو، اس طرح کہ اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ عبادت کرتاہو اور ہر قسم کے گناہوں سے اجتناب کرتاہو اور لذَّات اور شہوات میں انہماک اور استغراق سے بچتاہو ۔‘‘(شرح العقائد ، کرامات الاولیاء حق ، ص۱۴۴)
امام المفسرین حضرت سیِّدُنا امام فخر الدین ابوعبداللہ محمدبن عمر رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی (متوفی ۶۰۶ھ) ولی کی تعریف بیان کرتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں : ’’ولی وہ ہے جواعتقادِ صحیح مبنی بر دلیل رکھتا ہو اور اعمالِ صالحہ شریعت کے مطابق بجا لاتا ہو۔‘‘ کچھ آگے ارشاد فرماتے ہیں : ’’جب بندہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کاقربِ خاص پالیتاہے اور اس کی معرفت میں مستغرق ہوجاتاہے تو اس وقت اس کے دل میں ذاتِ باری تعالیٰ کے سوا کسی کا خیال تک نہیں گزرتا اور اس حال میں اسے مکمل ولایت حاصل ہو جاتی ہے اور جب اسے یہ مقام مل جاتاہے تو پھراس کو کسی شے کا خوف نہیں ہوتا اور نہ وہ کسی چیزکے سبب غمگین ہوتاہے ۔‘‘ (التفسیر الکبیر، سورۂ یونس، تحت الآیۃ۶۲، ج۶، ص۲۷۶)
اَولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکی اَقسام:
پیارے اسلامی بھائیو!ہر دور میں اللہ عَزَّوَجَلَّکے ولی ہوئے ہیں اور اِنْ شَاءَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اولیاء اللہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکے مختلف مراتب و طبقات ہیں ۔محقق
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع