30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہجب اس علاقے میں تشریف لائے تو نیکی کی دعوت کے اس مبلغ ِ اسلام کی راہ میں پھول نہیں بچھائے گئے بلکہ سخت دل آزار اور حوصلہ شکن رویہ برتا گیا ، طرح طرح کی تکلیفیں دے کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو ستا یا گیا لیکن آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے معاف کرنے کی سنّت کو عملی طورپر اپنائے رکھا، ہمیشہ در گزر سے کام لیا اور اذیتیں دینے والوں کے خلاف کبھی انتقامی کارروائی نہ فرمائی ،ہمیشہ نرمی نرمی اور صرف نرمی سے کام لیا۔
ہے فلاح و کامرانی نرمی و آسانی میں ہر بنا کام بگڑ جاتی ہے نادانی میں
حضرت مولانامحمدعبدالسّلام رضوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہچھوٹوں پرشفقت فرماتے ،ہر ایک سےحسنِ اخلاق سے پیش آتے،کبھی کسی کوآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے کوئی شکایت ہوجاتی تو خود آگے بڑھ کر وہ شکایت دور فرمادیتے ۔دشمنانِ دین کے لیے سختی تھی لیکن مسلمانوں کے لیے نرمی ہی نرمی تھی ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہجس سے ملاقات فرماتے وہ دوبارہ ملنے کی خواہش کرتا ،جس سے ملتے دل جیت لیتے۔
بارہویں اور گیارہویں منانے کا انداز
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں پرشکر بجالانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندوں کا یوم نہایت اہتمام سے منایا جائے تاکہ ان کی حیات کے مبارک گوشوں کو دنیا بھر میں عام کیا جاسکے،اللہ والوں کا ذکر عام ہوگا ا ن کی مبارک سیرت پر چلنا آسان ہو گا اور اس کی برکت سے بے عملی کا خاتمہ ہوگا اور نیکیا ں کرنے کا جذبہ بڑھے گا ۔
حضرتمولانامحمدعبدالسلام رضویرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبھی جشنِ ولادت اور گیارہویں شریف خوب اہتمام سے مناتے ۔جشنِ ولادت منانےکا سلسلہ یکم ربیع الاوّل سے ۱۲ ربیع الاوّل تک جاری رہتا جبکہ گیارہویں شریف کا سلسلہ یکم ربیع الآخر سے۱۱ ربیع الآخر تک رہتا، ا س میں اپنی ذاتی رقم سے شیرینی تقسیم فرماتے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کام وقت پر کرنے کے لیے کام کا وقت مقرر ہونا ضروری ہے اگر کام بھی ضرور ی ہو اور اس کا کوئی وقت بھی متعین نہ ہو تو عموما انسان کام کا بوجھ تو محسو س کرتا ہے مگر وقت مقرر نہ ہونے کی وجہ سے بسا اوقات اُسے پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچا پاتا اور شرمندگی سے دو چار ہوتا ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندوں کی کامیابی کا ایک راز یہ بھی ہے کہ وہ اپنے دن رات کے معمولات طے شدہ وقت کے مطابق گزارتے ہیں۔ حضرت مولانا محمد عبدالسّلام رضویرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے دن بھر کے معمولات کے لیے وقت متعین تھا ،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنے معمولاتِ زندگی کو یومیہ، ہفتہ وار ، ماہانہ اور سالانہ اعتبار سے تقسیم کررکھا تھا ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے چند معمولات ملاحظہ کیجیے:
ذکر اللہ کا معمول
امیرُ المومنین حضرت سیّدنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر لازم کرو کیوں اس میں شفا ہے اور لوگوں کے ذکر سے بچو کیونکہ اس میں بیماری ہے۔([1])حضرت سیّدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے اس فرمان پر آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکازبردست عمل تھا، جب بھی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو فراغت کے لمحات ملتے تو اسے ضائع کرنے کے بجائے وہ وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر میں بسر فرماتے اورمقررہ اوقات میں کلمہ شریف کا ورد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی زبان پر جاری رہتا ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت مولانا حافظ محمدعبد السلام قادری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی حیاتِ مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے آپ اپنی زبان کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذكر سے تر ركھنے کی نیت کیجیے اورذکرُاللہ کا ذہن بنانے کی نیت سے چند روایات ملاحظہ کیجیے:(۱)نور کے پیکر،دو جہاں کے تاجْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کرنے والے اورذکر نہ کرنے والے کی مثال زند ہ اور مردہ کی ہے۔([2])(۲)سرورِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :ذکر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اورنیکی کی دعوت کے سوا بنی آدم کے ہر کلام کے بارے میں اس کی پرسش کی جائے گی۔([3]) (۳)حضرتِ سیدنا معا ذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ ذکر اللہ سے زیادہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عذاب سے بچانے والی کوئی چیز نہیں ۔([4])
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ!دعوت اسلامی کے مدنی کی ماحول کی برکت سے مفتی ٔ دعوتِ اسلامی حضرت مولانا مفتی حافظ محمد فاروق عطاری مدنی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاکثر وبیشتر اپنا وقتِ اِجارہ ختم ہوجانے کے بعد مکتب میں بیٹھ کر تلاوتِ قرآن کیا کرتے تھے ۔ مفتی محمد فاروق عطاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاکثرقرآن مجید کی تلاوت میں مشغول رہتے۔ترجمۂ کنزالایمان مع تفسیر خزائن العرفان کا کئی مرتبہ مکمل مطالعہ کرچکے تھے ۔مدنی قافلہ میں سفر کے دوران بھی جب کبھی کھاناپکانے کی ذمّہ داری ملتی تو کھانا پکانے کے دوران تلاوتِ قرآن کرتے رہتے ۔
حضرت مولانامحمدعبدالسّلام قادریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکوقندیل نورانی، محبوب ِسبحانی حضرت سیّدنا غوث اعظم عبدالقادر جیلانی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے بے حد محبت تھی ۔ چونکہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع