30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضر ت سیّدناانس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے شاگردجليلُ القدر تابعی امام محمد بن سیرین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے پاس دو بد مذہب آئے۔ عرض کی: کچھ آیاتِ کلامُ اللہ آپ کو سنائیں۔ارشادفرمایا:میں سننا نہیں چاہتا۔انہوں نےعرض کی :کچھ احادیث سنائیں۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے پھر فرمایا:میں سننا نہیں چاہتا۔ انہوں نے اِصرار کیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے سخت لہجے میں فرمایا: تم دونوں اٹھ جاؤ یا میں اٹھ جاتا ہوں۔ آخر وہ خائب و خاسر( نامراد) ہوکرچلے گئے۔ لوگوں نے عرض کی: اے امام! کیا حرج تھا اگر وہ کچھ آیتیں یا حدیثیں سناتے؟ ا رشا د فرمایا : میں نے خوف کیا کہ وہ آیات و احادیث کے ساتھ اپنی کچھ تاویل لگائیں اور وہ میرے دل میں رہ جائے تو ہلاک ہو جاؤں۔اس واقعے کے تحت اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:آئمہ کو تو یہ خوف اور اب عوام کو یہ جرأت ہے ۔ دیکھو! امان کی راہ وہی ہے جو تمہیں تمہارے پیارےنبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بتائی:اِیَّاکُم واِیَّاھُم لَایُضِلُّوْنَکُمْ ولایَفتِنُونَکم یعنی ان (بدمذہبوں ) سے دور رہو اور انھیں اپنے سے دور کرو، کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں ، کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ دیکھو! نجات کی راہ وہی ہے جو تمہارے رب نے بتائی:
وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۶۸)
(ترجمۂ کنزالایمان : اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ) (پ۶،انعام:۶۸)
بھولے سے ان میں سے کسی کے پاس بیٹھ گئے ہو تو یاد آنے پر فوراً کھڑے ہو جاؤ۔([1])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرت سیّدنا فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ایک شخص کونصیحت کرتے ہوئے فرمایا:بدمذہب کے ساتھ مت بیٹھ کیونکہ مجھےتجھ پر لعنت اُترنے کا خوف ہے۔([2]) آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہہی کا فرمان ہے:جس کے پاس کوئی شخص مشورہ طلب کرنے آیااور اُس نےاُسے کسی بدمذہب کے پاس جانے کا کہاتو اُس نے دینِ اسلام کے ساتھ غداری کی ۔تم بدمذہبوں کے پاس جانے سے بچوکیونکہ وہ حق سے روکتے ہیں۔([3])
حضرت سیّدنایحییٰ بن ابو کثیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:اگر کسی راستے پر بدمذہب سے سامنا ہو جائے تو وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرو۔([4])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
جب حضرت مولانا محمدعبد السلام قادریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکمبھی اہمہ تشریف لائے تو اس وقت آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی خدمت ِتدریس کا وظیفہ 50 روپے ماہانہ مقرّر ہوا لیکن و ظیفے کی ادائیگی کا یہ سلسلہ زیادہ عرصے نہ چل سکا پھر بھی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے تدریس نہ چھوڑی نہ ہمت ہاری اور نہ ہی کسی کے آگے ہاتھ پھیلائے بلکہ اپنی جمع شدہ رقم سے ایک دکان کھول لی اور اس سے ہونے والی آمدنی سے گزر بسر فرمانے لگےاس کے ساتھ ساتھ تدریس اور چھوٹی مسجد کی امامت کا سلسلہ رکھا۔اس سخت ترین آزمائش میں بھی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہصبر واِسْتقامت کے پیکر بنے رہے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی سیرت کے اس پہلو میں دو مدنی پھول ہیں :
(۱)حضرت مولانا محمد عبدالسّلام قادری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے کس قدر صبر و اِستقامت کا مظاہر ہ فرمایاکہ تنگدستی میں بھی پیر و مرشد کی جانب سے دی گئی ذمہ دار ی کو عمدہ طریقے سے پورا فرمایا۔ اگر آزمائش کو سر پر سوار کرلیا جائے تو وہ پہاڑ بن جاتی ہے اور اگر اس کی پروا نہ کی جائے تواس کی حیثیت ریت کے ذرے کی مانند رہ جاتی ہے،اس مشکل وقت کو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے صبرو استقامت کی بدولت ریت کے ذرے کی طرح بے حقیقت بنا دیا۔آزمائش اور مصیبت سے متعلق حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُاللہ بِنْ مُبَارَکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہكا یہ فرمان پیش نظر رکھیے :’’مصیبت ایک ہوتی ہے لیکن جب وہ کسی پر پہنچے اور وہ صبر نہ کرے تو دو مصیبتیں بن جاتی ہیں ، ایک تو وہی مصیبت اور دوسری مصیبت صبر کے اجر کا ضائع ہونا اور یہ مصیبت پہلی سے بڑھ کر ہے ۔([5])
(۲)اللہ والوں کی ایک بہت ہی پیاری صفت ”قناعت “ہے،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبھی قناعت کے پیکر تھے ۔اسی لیے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےحرص کی آلودگی اور لالچ کے جال سے خو د کو بچایا اور اور اپنی خود داری پر آنچ نہ آنے دی۔ بزرگان ِ دین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن کا یہی معمول رہا ہے جیسا کہ حضرت سیّدنا خلیل نحوی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہکے بارے میں منقول ہےکہ حاکمِ وقت نےاپنے بچوں کی تربیت کے لیے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی بارگا ہ میں اپنا ایک قاصد بھیجا،قاصد نے جب حاکمِ وقت کی عرض آپ کی بارگا ہ میں پیش کی تو آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے خشک روٹی نکالی اور قاصد کو دکھا کر فرمایا: جب تک یہ روٹی کا ٹکڑا مُیَسَّر ہے،مجھے سلیمان (حاکم ِوقت)سے کوئی حاجت نہیں۔“([6])
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکمبھی اہمہ کی چھوٹی مسجد میں امامت بھی فرماتے رہے،امامت آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی ذمہ داریوں میں شامل نہ تھی اور نہ ہی اس کا کوئی وظیفہ مقرر تھا اس کے باوجود نہایت دلجمعی کے ساتھ ساری زندگی امامت فرماتے رہے ۔
[1] فتاویٰ رضویہ، ۱۵/۱۰۶
[2] اعتقاد اھل السنۃ ، سیاق ماروی عن النبی فی النھی۔۔۔الخ، ۱/۱۳۳
[3] اعتقاد اھل السنۃ ، سیاق ماروی عن النبی فی النھی۔۔۔الخ ، ۱/۱۳۳
[4] الشریعۃ للآجری، ۱/۴۵۸
[5] درۃ الناصحین، المجلس الخمسون فی بیان صبر ایوب علیہ السلام، ص۱۹۳
[6] بغیۃ الوعاۃ، حرف الخاء، الخلیل بن احمد۔۔۔الخ، ۱/۵۵۸ ، رقم : ۱۱۷۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع