دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Maulana Muhammad Abdul Salam Qadri | فیضان مولانا محمد عبدالسلام قادری

book_icon
فیضان مولانا محمد عبدالسلام قادری

شہزادہ ٔ اعلیٰ حضرت ،مَرجع العلماء والفقہاء ،تاجدارِ اہلسنت ،آفتابِ رُشد و ہدایتمفتیٔ اعظم ہندآل الرحمٰن ابو لبرکات محمد مصطفٰے رضا خان قادری رضوی برکاتی رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکی ولادت باسعادت  ۲ ذی الحجہ ۱۳۱۰ھ مطابق7  جولائی 1893ءبروزِ جمعہ صبح کے وقت بریلی شریف(یوپی،ہند)میں ہوئی۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکی ولادت سےقبل اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰننے یہ دعا فرمائی :’’اے مالکِ بے نیاز ، اے رب کریم ! مجھے ایسی اولاد عطا فرما جو عرصہ دراز تک تیرے دین اور تیرے بندوں کی خدمت کرے ۔‘‘جو شرفِ قبولیت سے سرفراز ہوئی۔ولادت  سے قبل ہی سیّدُ المشائخ ، حضرت سیّد شاہ ابو الحسین احمد نوری رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہنے  بعد نمازِ فجر مصلے پر بیٹھے بیٹھے  اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰنکے نورِ نظر ، لختِ جگر  آل الرحمٰن  اور مستقبل کے مفتیٔ اعظم کے لیے امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکو اپنا جبہ و عمامہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :’’ میری یہ امانت آپ کے سپرد ہے جب وہ بچہ اس کا متحمل ہو جائے تو اسے دے دیں۔‘‘۲۵ جمادی الثانی   ۱۳۱۱ ھ   کو چھ ماہ  تین دن کی عمر میں  سید المشائخ  حضر ت شاہ ابو الحسین نوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے داخلِ سلسلہ فرمایا  اور تمام سلاسل کی اجازت و خلافت عطا فرمائی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہنے والدِ بزرگوار اعلیٰ حضرت  امام احمد رضاخان، بڑے بھائی حجۃ الاسلام حضرت علامہ مولانا محمد حامد رضا خان،  استاذُ الاساتذہ  علامہ شاہ رَحم  الٰہی منگلوری ، شیخُ العلماء علامہ شاہ سید بشیر احمد علی گڑھی اور شمس العلما ء علامہ ظہور الحسین فاروقی رام پوری رَحْمَۃُ      اللہِ   تَعَالٰی     عَلَیْہِمْ   اَجْمَعِیْن وغیرہ مشاہیرسے علمِ دین حاصل کرنے کا شرف حاصل کیا ۔اٹھارہ سال کی عمر میں ۱۳۲۸ ھ مطابق ۱۹۱۰ ء  کو اساتذہ کرام کی شفقتوں اور اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکی نظرِ عنایت سے جملہ علوم و فنون ، منقولات و معقولات پر عبور حاصل کر کے مرکزِ اہلسنت دار العلوم منظر ِاسلام  بریلی شریف سے تکمیل و فراغت پائی ۔ جملہ علوم سے فراغت کے بعد  ۱۳۲۸ھ میں جامعہ رضویہ  منظرِ اسلام میں تدریس کا آغاز فرمایا  یہاں طلبائے کرام کو علمِ دین کے نورسے منورفرمایا ، ان  کی  کردار سازی وحسن تربیت کا کامل اہتمام فرمایا ۔اس کے علاوہ آپ نے جامعہ رضویہ مظہرِ اسلام میں بھی تدریس کے فرائض سر انجام دئیے ،دارالافتا ء کی عظیم ذمہ داری بھی آپ نے سنبھال رکھی تھی ،آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہنے اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکی حیاتِ ظاہری میں ۱۳۲۸ ھ سے ۱۳۴۰ ھ تک فتاویٰ لکھے اور اعلیٰ حضرت  رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکے وصال کے بعد  ۱۳۹۵ ھ تک فتویٰ نویسی کی خدمت سر انجام دی ۔مفتیٔ اعظم ہند رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکے پاس عرب افریقہ ، ماریشس، انگلینڈ ، امریکہ ، ملائشیا ، بنگلہ دیش اور پاکستان وغیرہ سے استفتا آتے او ر آپ نے ان کے جوابات تحریر فرماتے۔اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہنے بھی آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکو ۲۵ سلاسل ِ اولیا ، قرآن و سلاسلِ حدیث  کی اجازت عطافرمائی۔ آپرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکی دینی خدمات اور علمی مقام کے باعث آپ کی شہرت صرف بر صغیر تک محدود نہ رہی  بلکہ عالمِ اسلام کے علما و مشائخ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے  اور آپ کی دینی خدمات کا اعتراف کرتےچنانچہ جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہتیسری مرتبہ سفرِ حج پر روانہ ہوئے تو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے  سینکڑوں افراد مفتی اعظم ہند رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکے دستِ مبارک  پر بیعت ہوئے اور بڑے بڑے علماء و مشائخ نے شرفِ تلمذ حاصل کیا ۔ تمام عمر نہایت تن دہی و جانفشانی سے دینی، علمی ، تصنیفی   خدمات سر انجام دینے کے بعد ۹۲ سال کی عمر میں ۱۴ محرم الحرام  ۱۴۰۲ھ مطابق ۱۳ نومبر۱۹۸۱ء کو کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے  یہ آفتابِ علم و حکمت غروب ہو گیا ۔ اگلے روز نمازِ جمعہ کے بعد  آپ کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ نمازِ جنازہ میں تقریباً ۲۵لاکھ افراد کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا  جو آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکی مقبولیت ، شہرت و جلالت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔([1])مفتی اعظم ہند رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہسے بھی  حضرت حافظ محمد عبد السلام قادری رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکوخلافت حاصل تھی ۔

(۳) احسنُ  العلما ءسیّد مصطفٰے حیدر حسن  میاں قادری برکاتی       رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہ

تاجدار ِ مسندِ غوثیہ  برکاتیہ ،شیخُ المشائخ ، زینُ  الاصفیاء،اَحسنُ العلماء حضرت مولانا حافظ قاری  سیّد شاہ مصطفٰے حیدر حسن  میاں قادری برکاتی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیکی ولادت ۱۰ شعبان المعظم ۱۳۴۵ھ مطابق 13فروری 1927ءمارہرہ شریف (یوپی ،ہند)میں ہوئی ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہنے  ابتدائی تعلیم  اپنی والدہ   ماجدہ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہاسے حاصل فرمائی ، سات سال  نو ماہ کی عمر میں حفظ ِقرآن کی سعادت حاصل فرمائی ۔تلمیذ و خلیفۂ اعلیٰ حضرت،شیر بیشہ ٔ سنت  حضرت مولانا حشمت علی خان رضوی، شیخُ العلماء حضرت علامہ غلام جیلانی  اعظمی ،تلمیذِ صدر الشریعہ خلیلِ ملت حضرت مولانا مفتی محمدخلیل خان برکاتی رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہمْ اَجْمَعِیْن آپ کے اساتذہ میں شامل ہیں ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکے ماموں جان   تاجُ العلماء حضرت مولانا سید اولادِ رسول  محمد میاں قادری  برکاتی رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہنے آپ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی  تو جہ  دی ۔احسنُ العلماء رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکی  گفتگو   علم و حکمت سے بھر پور ہوا کرتی ، ہر ایک سے اس کے فن کے  اعتبار سے گفتگو فرماتے۔ مہما ن نوازی  بے مثال تھی ، طلبہ  پر آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہبے مثال شفقت فرماتے ، اہل علم و ارباب قلم کی خوب حوصلہ افزائی فرماتے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکو  تاج العلماء حضرت مولانا سید اولاد رسول  محمد میاں قادری  برکاتی رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہسے خلافت حاصل تھی۔ تاجُ العلماء رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہحضرت مولانا سید اولاد رسول  محمد میاں قادری  برکاتی رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہنے ۲۲صفر المظفر۱۳۶۳ھ  کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔

اَحسنُ العلماء حضرت مولانا حافظ قاری  سیّد شاہ مصطفٰے حیدر حسن قادری برکاتیرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہاسلاف کی سچی یاد گار،میدان ِ طریقت کے شہسوار،خانقاہِ قادریہ  کا وقار اور شریعت و طریقت  کے  جامع تھے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہنے  اپنے مریدین کے عقائد و اعمال اورظاہر و باطن کی اصلاح فرماتے ،سنتوں کے مطابق زندگی گزارنے کی تلقین فرماتے،آپرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکی مبارک ذات  مینارۂ ہدایت تھی ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکے مریدین پاک و ہند کے علاوہ بنگلہ  دیش، نیپال،جاپان،امریکہ،ساؤتھ افریقہ  میں ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں۔([2]) آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہنے  سلسلہ   برکاتیہ  کا فیضان عام  کرنے  کے لیےکئی  علمائے کرام  کو   خلافت  عطافرمائی ۔قمر رضاحضرت حافظ محمد عبدالسلام  قادری رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکو۷رجب المرجب،۱۳۶۳ہجری مطابق29جون 1944ءبروز جمعرات کو عصرو مغرب کے مابین  خلافت سے نوازا۔احسن العلماء حضرت مولانا حافظ قاری  سیّد شاہ مصطفٰے حیدر حسن  میاں قادری برکاتیرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہنے  جس خوبصورت انداز میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکو خلافت عطافرمائی اور نصیحتوں کے مدنی  پھول  عطافرمائے اسے جاننے کے لیے احسن العلماء رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکی تحریر کا کچھ  حصہ ملاحظہ کیجیے :

میں  سیّد حسن میاں قادری برکاتی  قاسمی مارہروی  عفٰی عَنْہُ  رَبُّہُ الْجَلِی کہتا ہوں  کہ جب میں نے  بَرَادَرَم   (یعنی اپنے بھائی )حافظ  عبد السلام  صاحب سَلَّمَہُ رَبّہ قادری برکاتی رضوی   کو اپنے  آبا ئے کرام  قُدِّسَتْ اَسْرَارُھُم کے مذہب سنیئہ صحیحہ یعنی مذہب ِاسلام  پر مُتَصلّب ،مذہبِ اہلسنّت کا دلدادہ  دیکھا  نیز ان کی پیشانی  پر ستارۂ اقبال  وہدایت بھی(دیکھا) ان کی  جملہ  اجازات  سلاسل  قادریہ  برکاتیہ  و سلسلۃُ



[1]    مفتی اعظم ہند اور ان  کے خلفاء، ص۱۹۔۱۰۲ملتقطا

[2]     سیدین نمبر، ماہنامہ اشرفیہ، ص۷۲۷، ۷۱۵، ۹۳۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن