30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کلامی اور عمدہ اخلاق کی بدولت سینکڑوں میل تک آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے مرید پھیلتے چلے گئے ۔
مرشد کی اطاعت میں دنیا و آخرت کی بے شمار برکتیں پوشید ہ ہیں۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاَحسنُ العلماءرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے بھی خلیفہ تھے ، بارگاہ ِ مرشد سے ملنے والے حکم کو اپنے لیے حِرزِ جاں بنالیتے چنانچہ کمبھی اہمہ(ضلع پرتاب گڑھ ،ہند) آنے سے قبل آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکھٹمنڈو (نیپال) میں تھے۔احسنُ العلماء حضرت سیّد شاہ مصطفٰے حیدر حسن میاں قادری برکاتی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے حکم پر کمبھی اہمہ (ضلع پرتاب گڑھ،ہند) میں مستقل رہائش اختیار فرمائی۔
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو اَحسنُ العلماء نےرخصت کرتے ہوئے دو نصیحتیں ارشاد فرمائیں:کمبھی اہمہ میں لوگوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح کے لیے آپ کی ضرورت ہے آپ وہا ں جائیے لیکن دوباتوں کا خیال رکھیے گا :
(۱) کسی کو بددعا مت دیجیے گا۔
(۲)کبھی کمبھی اہمہ مت چھوڑیے گا۔
مرشد کے فرمان کے مطابق آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے عمر کا بقیہ حصہ بھی یہیں گزارا اور آج اسی جگہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا مزار پُرانوارہے ۔
اَحْیِنَافِی الدِّیْنِ وَالدُّنْیَا سَلاَم بِا لسَّلاَم
قادِری عبد ُالسلامِ خوش ادا کے واسِطے
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندوں کے چہروں پرقدرتی طور پرشرافت و متانت اور سنجیدگی ہوتی ہے،آنکھوں سے شرم وحیاء اورغیرت و حمیت چھلکتی ہے، عبادت کے نور اور ایمانی چمک کی بدولت دیکھنے والے کو وہ چہرہ نہایت پُر کشش لگتا ہے یوں خلق ِخدا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندوں کی جانب کھنچی چلی آتی ہے ۔کہاجاتا ہےچہرہ شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے مگرایسے افراد کا رُخِ روشن وہ آئینہ ہوتا ہے جن میں کوئی بھی بد حال اپنی بگڑیہوئی حالت سنوا ر سکتا ہے۔ قمرِ رضا حضرت علامہ ابوالفقراء محمدعبد السلام قادری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکامبارک چہرہ بھی ایسا ہی تھاآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی آنکھیں بڑی بڑی اورسیاہ،بالوں کا رنگ گہرا سرمئی، بھنویں گھنی اورجدا،ناک نہایت خوشنما اور اٹھی ہوئی،رنگ مبارک سانولہ اور چمکدار،رخسار مبارک بھرے ہوئے، داڑھی گھنی اور مشت بھر تھی۔ چہرہ مبارک سے علمی شان و شوکت عیاں ہوتی۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا قدمبارک درمیانہ تھا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے مبارک چہرے سے ظاہر ہونے والی علمی جلالت اور عبادت و ریاضت کی کشش لوگوں کو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی جانب لے آتی ۔
آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسنّت کے مطابق آدھی پنڈلی تک کُرتاو پاجامہ اور کبھی کبھی جُبّہ زیب تن فرماتے اورکبھی تہبند بھی باندھا کرتے تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسرمئی اورکبھی کتھئی عمامہ شریف نہایت اہتمام سے باندھتے اور سفید چادر ساتھ رکھتے ہیں۔لباس سادہ مگر صاف سُتھرا ہی زیبِ تن فرماتے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہگھر میں بھی سادگی سے رہتے ۔لباس،وضع قطع اور رہن سہن میں سادگی نمایاں تھی ۔
مشائخِ کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا معمول رہا ہے کہ سلاسلِ طریقت کا فیضان عام کرنے اورلوگوں کی ظاہری و باطنی اصلاح کے لیے اپنے بعض مریدین کو اجازت و خلافت سے نوازتے ہیں تاکہ چشمہ ٔ فیض سے سیرابی کا خواہش مند جلداپنی مراد کو پہنچ سکے ۔خلافت کا اہم ترین منصب جس کو سپرد کیا جائےاس میں چار شرائط ہوناضروری ہیں:(۱) سنی صحیح العقیدہ ہو(۲)ضروری علم ہو،اس لئے کہ بے علم خدا کوپہچان نہیں سکتا (۳)فاسق ِ مُعلِن نہ ہو(۴)اجازت صحیح متصل ہو۔([1])
قمر ِرضا حضرت علامہ مولانا حافظ ابو الفقراء محمد عبد السّلام قادری رضوی ضیائی فتحپوریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمیں یہ شرائط موجود تھیں اسی لیے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہخلافت سے نوازے گئے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکوجن بزرگانِ دین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْنسےاجازت و خلافت حاصل تھی،ان میں سے چار کے مختصر حالات ملاحظہ کیجیے :
(۱) شیر بیشۂ سنت حضرت علامہ محمدحشمت علی خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
حضرت علامہ مولانا حافظ محمد عبد السّلام قادریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہشیر بیشہ ٔ سنّت حضرت علامہ محمدحشمت علی خان رضوی لکھنوی([2])رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی خدمت میں حصول ِعلمِ دین کی خاطر ایک عرصہ رہے ،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہہی سے مرید تھے۔شیر بیشۂ سنت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی ذات میں موجود خوبیوں کو جانچا اورتقویٰ و پرہیزگاری اور لوگوں کی خیرخواہی کا عظیم جذبہ ملاحظہ فرماکر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو خلافت سے نوازا۔
(۲)مفتی ٔ اعظم ہند حضرت علامہ مصطفےٰ رضاخان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع