30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چیونٹی اپنے عز م و حوصلے کے بل بوتے پر بڑے سے بڑا معرکہ سر کرلیتی ہے اور اس کی ننھی مُنّی جسامت منزل تک پہنچنے کے احساس کو کسی بھی طرح کمزور نہیں کرپاتی جب ایک چیونٹی کا یہ حال ہےانسان کے عزم و حوصلے کا عالم کیا ہو گا، انسان میں موجود عزم و حوصلہ چٹانوں سے ٹکرانے اور طوفانوں کا رُ خ موڑنے کی ہمت پیدا کردیتا ہے ۔ حضرت مولانامحمد عبدالسّلام قادریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا عزم و حوصلہ نہایت پختہ تھا یہی وجہ ہے کہ دین ِ اسلام کی خاطر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے اٹھنے والے قدم نہ تو کبھی ڈگمگاتے اور نہ ہی پیچھے ہٹے ، اس پر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی تقریبا75ًسالہ مبارک حیات شاہد ہے ۔
دنیا میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے کہ جسے مشکلا ت کا سامنا نہ ہو،مشکل کی کوئی بھی صورت ہوسکتی ہےکبھی تو آزمائش بھوک کے بھیس میں آتی ہےاور کبھی اِفلاس کے لبادے میں۔ انسان کو درپیش مشکلات میں سب سے بڑی مشکل رزق کی تنگی ہےاور اس مشکل کا سامنا کرنے کا ايك راستہ ”قناعت“ ہے اور یہ تنگدستی کے بھنور میں خود کو سنبھالنے کا بہترین سہارا ہے۔ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا پر راضی رہنا سیکھ جائے اور قناعت اختیار کرے اسے قلبی سکون کی نعمت نصیب ہوتی ہے،وہ آزمائشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے صبر کا عمدہ ہتھیار استعمال کر تا ہے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی مبارک زندگی قناعت کا عملی نمونہ تھی اسی لیے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنی تمام عمر صبر و رضا کا پیکر بن کر گزاری ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!عموماً کامیابی کا حصول بغیر مشقت اٹھائے ممکن نہیں کیوں کہ کچھ پانے کے لیے لگاتار جد وجہد کرنی پڑتی ہے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اسلام کی سر بلندی کے لیے کئی مشقتیں برداشت کیں ، آبائی علاقہ چھوڑ کر نیکی کی دعوت کے لیے دوسرے شہر بلکہ بیرون ملک سفر اختیار کیا ، لوگوں کے اصلاحِ عقائد و اعمال کی غرض سے دور دراز علاقوں میں بیانات کے لیے تشریف لے گئے،تمام ترمصروفیات کے باوجودتعویذات کے ذریعے مسلمانوں کی خیرخواہی فرماتے رہے ۔ خدمت ِ اسلام کے لیے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے جو مشقتیں بر داشت کیں ان میں ہماری آرام طلب طبیعت کے لیے بے شمار مدنی پھول ہیں ۔
دینی کاموں میں اگر اخلا ص نہ ہو تو وہ عمل خواہ کتنی ہی مشقت اٹھا کر کیا گیا ہو اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگا ہ میں مقبول نہیں ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی انفرادی عبادت ہو یا تدریس، سفر ہو یا حضر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا مقصود رضائے الہٰی ہوا کرتا یہی وجہ ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے اخلاص کے ساتھ کی جانے والی دینی خدمات ہمارے لیے مشعل ِ راہ ہیں۔
عقلمند آدمی شہد حاصل کرنے کے لیے شہد کے چھتے پر لات نہیں مارتا بلکہ شہد کے حصول کے لیے نہایت بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی نہ کوئی تدبیر اختیار کرتا ہے یہ تو ایک دنیوی معاملہ ہے جس میں خود کو نقصان سے بچانے اور فوائد پانے کے لیے بردباری اور تحمل مزاجی کی اس قدر اہمیت ہے، دین اسلام کی ترویج و اشاعت کی کوشش کرنے والے کے لیے اس وصف کی اہمیت کئی گنا زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ حضرت مولانا محمد عبدالسلام رضوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہجہاں بھی رہے، جس علاقے میں تشریف لے گئے نہایت بردباری کے ساتھ خندہ پیشانی سے تمام تر آزمائشوں کو بر داشت کرتے رہے اور ان آزمائشوں کو کبھی پاؤں کی بیڑیاں نہیں بنایا بلکہ نیکی کی دعوت میں آنے والی بڑی سے بڑی مشکلات کو معمولی کانٹا سمجھ کر راستے سے ہٹا تے چلے گئے۔
حضرت مولاناحافظ محمدعبد السّلام قادری رضوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسنّت کے مطابق ستھرااور سادہ لباس زیبِ تن فرماتے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا کئی لوگوں سے ملنا ہوتا آپ کے باطن کی چمک ملنے والوں پر بھی گہرا اثر چھوڑتی اور ان کی ظاہری اور باطنی اصلاح کا سبب بنتی ۔
مسلمانوں کی خیرخواہی کے لیے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہہر وقت تیار رہتے، آپ کے پرسکون مزاج کی وجہ سےلوگوں کا آپ کی جانب رجوع رہتا اور بے دھڑک اپنی ضروریات آپ سے بیان کردیتے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندے اپنی اعلیٰ قابلیت اور عمدہ صلاحیت کے پھل کو رحمت ِ الٰہی سمجھ کر جھکے رہتے ہیں،اس عاجزی و انکساری کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت ڈال دی جاتی ہے جو ان حضرات کے دنیا سے تشریف لے جانے کے باوجود قائم و دائم رہتی ہے ۔ حضرت مولانا حافظ محمد عبد السلام قادری رضوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہعاجزی و انکساری کے پیکر تھے اسی لیےآج تک لوگوں کے دلوں میں آپ کی محبت قائم ہے۔
انسان کے جسم میں زبان وہ حصہ ہے جس سے نکلنے والے الفاظ پھول جیسے خوشبودار بھی ہوتے ہیں اور انگارے جیسے شعلہ بار بھی،کبھی یہ الفاظ دکھی دلوں کا سہارا بن جاتے ہیں اورکبھی زخمی دلوں کو مزید خون آلود کرنے کاسبب بنتے ہیں ، چند جملے ہاری ہوئی بازی کو جیت سے ہمکنا ر کرسکتے ہیں اور جیتی ہوئی جنگ کو ہرانے کا سبب بھی بن سکتے ہیں الغرض خوش کلامی اور بدکلامی براہ راست معاشرے کی اصلاح اور بگاڑ پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔
حضرت مولانامحمدعبدالسلام رضویرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی گفتگو طنزوطعنہ، غیبت و چغلی وغیرہ عیوب سے پاک ہوتی ،حسن ِ اخلاق کی خوشبو سے مُعطّر الفاظ،خیر خواہی کی مٹھاس سے بھر پور جملے پر یشان دلوں کے لیے طمانیت ،دکھیاروں کے لیے سکون اور علم کے پیاسوں کےلیے ٹھنڈے اور میٹھے شربت کا کام دیتے یہی وجہ ہے کہ آپ جہاں گئے ، جتنا عرصہ رہے لوگوں میں علمِ دین کا شوق بڑھا اور اسی خوش
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع