دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Maulana Muhammad Abdul Salam Qadri | فیضان مولانا محمد عبدالسلام قادری

book_icon
فیضان مولانا محمد عبدالسلام قادری

اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکی شخصیت  سے  انہی اساتذہ کے اوصاف جھلکتے ہیں۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکےان اساتذہ کا مختصر تعارف ملاحظہ کیجیے :

 (۱)مفتی رفاقت حسین قادری اشرفی رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہ

مفتیٔ اعظم کانپور،امینِ شریعت،بُرہانُ الاَصفیاء،سُلطانُ  الُمتَکَلِّمِیْن مفتی رفاقت  حسین قادری اشرفیرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکی ولادت۱۳۱۶ھ مطابق 1899ء کو ضلع مظفرپور (بہار،ہند) میں ہوئی،مدرسہ عزیزیہ(بہار،ہند)اورمدرسہ حنفیہ (جونپور،  ہند)میں زیرِتعلیم رہےپھرصَدْرُالشَّرِیْعَہ،بَدرُالطَّرِیْقَہ،حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکی شہر ت سن  کر دار العلوم مُعِیْنِیَّہ عُثْمَانِیّہ    اجمیر شریف حاضر ہوئے  اور درسیّات کی تکمیل فرمائی ۔

۱۳۵۲ھ مطابق 1934ء صَدْرُالشَّرِیْعَہرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکےہمر اہ بریلی شریف تشریف لائے اور  دار العلوم  منظر ِاسلام میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہ   مدرسَۂ  محمدیہ ( جائس ، ضلع رائے بریلی)میں تقریبا ۱ًٹھارہ سال خدمتِ تدریس انجام دیتے رہے۔۱۶شوالُّ المکرم ۱۳۶۹ھ مطابق1950ءمیں”مدرسہ اَحْسَنُ المَدَارِس قدیم“  کا نپور میں صدر مدرس کی حیثیت سے تشریف لے گئے۔ ذوالحجہ ۱۳۷۰ھ مطابق1951ء کو شَبِیہ غوث الاعظم، مجددِ سلسلہ ا شرفیہ حضرت سیّد شاہ  علی حسین  اشرفی رَحْمَۃُ ا       للہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکے مرید ہوئے اور سلسلہ عالیہ اشرفیہ اور دیگر سلاسل کی  خلافت سے نوازے گئے ۔ ۱۳۷۲ھ مطابق1953ء کو آپ رَحْمَۃُ                      اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِکی  فِقہی خدمات  کے اعتراف میں  علمائے اہلسنت نے ” مفتیٔ اعظم کانپور کا عظیمُ  ا لشّان لقب دیا۔۱۳۷۴ھ مطابق1955ءمیں جب  آ پ رَحْمَۃُ           اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہنے  حج کی ادائیگی کے بعد مدینہ منورہ  حاضری  دی ،اس موقع پر ہی میزبانِ مہمانانِ مدینہ،  قطب مدینہ حضرت  مولانا ضیاءُ الدین احمدقادری مدنی رَحْمَۃُ    اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہنے سندِ حدیث اور اجازت و خلافت سے بھی نوازا نیز آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکو صَدْرُالشَّرِیْعَہمفتی محمد  امجد علی اعظمی اور  حُجَّۃُ الْاسلام حضرت سیّدناحامدرضاخانرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہمَاسے بھی خلافت حاصل ہے ۔ جماعت رضائے مصطفٰے،ادارۂ شریعہ  بہار کی صدارت اورآل انڈیا سنی  جمعیۃ العلماء کے  سرپرست کی  حیثیت سے  اپنی خدمات انجام دیں۔ ان تمام مصروفیات کے باوجود آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکئی کتابوں کے مصنف  بھی  ہیں ۔ آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ     کا وصال3ربیع الآخر۱۴۰۳ھ مطابق ۱۹ جنوری1983ءمیں ہوا۔([1])

حضرت  حافظ عبد السلام رضویرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکو امینِ  شریعت  حضرت مفتی رفاقت حسینرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہجیسےماہر مدرس ،اعلی ترین نسبتیں رکھنے والے  رہبر،وقت کےتقاضوں کےمطابق قلمی جہاد میں مصروف  رہنےوالےعظیم مصنّف، مسلمانوں کی قیادت  کرنےوالےزبردست رہنما، لوگوں کے شرعی  مسائل  حل  کرنے والےعظیم مفتی  اور شریعت کے امین  کی صحبت میّسر آئی  اور   عظیم صفات کے حامل استاد نے اپنے اس لائق   ترین شاگر د کی  علمی نشوونما  میں  بھرپور کردار ادا کیا ۔

صَلُّوا عَلٰی الْحَبیب!                                                                                                صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد   

(۲) شیر بیشہ سنّت حضرت علامہ محمد حشمت علی خاں رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ

شیربیشۂ سنّت،خلیفہ وتلمیذ اعلیٰ حضرت،امام المُنَاظِرین حضرت علامہ محمدحشمت علی خان رضوی لکھنویرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکی ولادت۱۳۱۹ھ مطابق ۱۹۰۱ء میں لکھنو(یوپی، ہند)میں ہوئی ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہاعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان، صَدْرُالشَّرِیْعَہمفتی امجد علی اعظمی اور مفتی اعظم ہند مصطفےٰ رضاخان رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہمْ اَجْمَعِیْن کے شاگرد تھے۔ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن، حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت حامد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰناور  قطبِ مدینہ حضرت ضیاءُ الدین مدنی رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہسے خلافت حاصل تھی ۔([2])

اعلیٰ  حضرت کی خصوصی کرم نوازی

 شیربیشہ ٔسنّت،حضرت مولانامحمدحشمت علی خانرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہمنظر ِاسلام   میں زیرِ تعلیم تھے  تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکا زیادہ وقت امام اہلسنت  عظیمُ البرکت  امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکی بارگاہ میں گزرتا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہنےجب ایک دشمن ِ اسلام کو مناظرے میں شکست  دی تو اس موقع پر اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہنے آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکو”ابو الفتح“  کنیت عطا فرمائی  اور آپ  رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہسے متعلق تحریر فرمایا: مولانا حشمت علی میر ا روحانی بیٹا ہے ، ان کو پانچ  روپیہ  ماہانہ  وظیفہ  میری طرف سے ہمیشہ دیا جائے۔‘‘ اعلیٰ حضرت کے وصال کے بعد بھی وظیفے کا سلسلہ جاری رہا۔([3])شیر بیشہ ٔ سنّت  حضرت مولانا حشمت علی خان رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکو بارگاہِ  اعلیٰ  حضرت  میں رہنے  کا شرف حاصل رہا ،صدر الافاضل  مفتی محمد نعیم الدین مرادآبادی ، صدر الشریعہ  مفتی محمد امجد علی اعظمی  رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہمَا وغیرہ جلیلُ القدر اساتذہ سے فیض حاصل کرنے  اور ان کی صحبت سے فیض یاب  ہونے کے مواقع میسر آئےجس کی بدولت آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہعظیم مدرس، بےمثال مفسر ، مایہ ناز مُحدِّث  اور فقاہت کے اعلیٰ مرتبے پر فائزہ ہو ئے اور ان  ہی   خصوصیات نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکو” شیر بیشہ ٔ سنت “بنا دیا تھا،پھر جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہنے  علم کے پیاسے طلبہ کو سیراب  کرنے کے لیے تدریس شروع فرمائی تو  ان میں باطل سے ٹکرانے  اور بے خوف و خطر حق  بات کہنے کا جذبہ بیدا ر فرمایا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہنے ۸محرم الحرام ۱۳۸۰ھ مطابق 3جولائی 1960ءکو پیلی  بھیت (یوپی ،ہند)میں وصا ل فرمایا،یہیں آپ  کا مزار مرجع  ِخلائق ہے۔

صَلُّوا عَلٰی الْحَبیب!                                                                                                صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

شیر بیشۂ سنّت کی خدمت میں

میٹھے میٹھے  اسلامی بھائیو!حضرت مولانا محمدعبد السلام قادری فتح پوری رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکو بھی شیر بیشہ ٔ سنت  حضرت   علامہ محمد حشمت علی خان  رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکے شاگر د اور مریدو خلیفہ  ہونے کا اعزاز حاصل ہے، آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہنے  شیر بیشہ ٔ سنّت کےجلیلُ القدر اوصاف  اپنی ذات میں جذب   فرمائے ، عظیم مُرشِد  کی نصیحتوں کو  اصولِ زندگی  قرار دے آخری دم تک اس پر قائم رہے۔ 

 



[1]     تذکرہ جمیل، ص۲۲۸، تذکرۂ علمائے اہلسنت، ص۹۱، حیات حافظ ملت، ص۱۲۱، ۱۲۴

[2]     مفتی اعظم ہند اور ان کے خلفاء، ص۳۳۱

[3]     مفتی اعظم ہند اور ان کے خلفاء، ص۳۳۲، سوانح شیر بیشہ سنت، ص۴۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن