دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Maulana Muhammad Abdul Salam Qadri | فیضان مولانا محمد عبدالسلام قادری

book_icon
فیضان مولانا محمد عبدالسلام قادری

          اِک  دل ہمارا کیا ہے آزار اس کا کتنا                             تم نے تو چلتے پھرتے  مر دے جلا دیے ہیں

        ان کے نثار  کوئی  کیسے ہی رنج میں ہو                            جب یاد آگئے ہیں سب غم  بھلا دیے ہیں

                                                                     ہم سے فقیر  بھی اب  پھیر ی  کو اٹھتے ہو ں گے                       اب تو غنی کے در پر  بِستر  جمادیے ہیں

 اسرا میں گزرےجس دم  بیڑے پہ قدسیوں کے                         ہونے لگی سَلامی پر چم  جھکا دیے ہیں

       آنے دو یا ڈبو دو  اب تو تمہاری  جانِب                             کشتی تمہیں  پہ چھوڑی  لنگر اٹھا دیے ہیں

                                                  اللہ کیا جہنم اب بھی نہ سر د ہو گا                     رو رو کے مصطفےٰ نے دریا بہا دیے ہیں

  میرے کریم سے گر قطرہ کسی نے مانگا                          دریا  بہادیے ہیں دُر  بے بہا دیے ہیں

اور جب  نبی ٔ رحمت، شفیع امت صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم  کے مبارک اوصاف  تصور میں  آنے لگتے  تو   امام اہلسنّت  کا یہ کلام  پڑھتے:

وہ کمالِ حسن حضور ہے کہ گمان نقص جہاں  نہیں

یہی پھول خار سے دور ہے یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں   

اور جب  شفاعت ِ مصطفٰے   کی عظمت کا ذکر آتا تو امام اہلسنت  رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکی  یہ نعت پڑھتے :

کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمہاری واہ واہ

قرض لیتی ہے گُنہ پرہیز گاری واہ  واہ

امیر اہلسنّت  پر کرم نوازی

۱۳۹۹ھ مطابق1979ء جب شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادِری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکولمبو تشریف لے گئے  تو گیارہ ربیع الثانی ۱۳۹۹ھ،10مارچ 1979ء کو حنفیہ میمن مسجد کولمبو سی لنکا میں نماز ِ ظہر میں آپ   دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی ملاقات حضرت مولانا محمد عبدالسلام قادری فتحپوری رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہسےہوئی،آپرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہنے ایک ماہر جوہری کی طرح امیر اہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہمیں پائے جانے والے اوصاف کو بھانپ لیا پھر جب  گیارہویں  شریف کی  بڑی رات محفل سجی تو  ایک مرتبہ  پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہسےامیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی ملاقات ہوئی،آپرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہنےامیراہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہسے فرمایا:”یہ رات بار بار نہیں ملتی، طریقت کے حوالے سے بڑی عظیم رات ہے،میں آپ  کو سلسلہ  عالیہ قادریہ کی خلافت دیتا ہوں ، میں چونکہ سیدی قطبِ مدینہ کا وکیل ہوں اس کی بھی آپ کو اجازت دیتا ہوں۔سلسلہ قادریہ کے علاوہ دیگر سلاسل کی جتنی  بھی مجھے اجازتیں حاصل ہیں  وہ بھی میں نے آپ کو دیں۔“   

امیرِ اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے لیے خلافت جیسی اہم  ذمہ داری  گراں بار تھی  لہٰذا آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہنے  تمام تفصیلات سے اپنے پیر و مر شد  قطب ِمدینہ  مولانا ضیاء الدین احمد  مدنی رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکو آگاہ  کرنے کے لیے  ایک مکتوب تحریر فرمایا۔ جب  آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا مکتوب  بارگاہ ِ مرشد میں پہنچا تو  قطبِ مدینہ  رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہنے جوابی  مکتوب میں یہ ارشاد فرمایا:”مولانا محمدعبد السلام  صاحب نےتمہیں جو خلافت دی ہے وہ درست ہے، تمہارا دوسروں کو بیعت کرنابھی  درست ہے، اگر تمہارے سلسلے میں کوئی ایک نیک مرید شامل ہوگیا تو تمہاری نجات کا ذریعہ بن سکتا ہے۔“

قطب مدینہ  کی عادت مبارکہ

حضور مفتیٔ اعظم  ہندحضرت مصطفےٰ رضاخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن مدینہ  منورہ   میں حاضر تھے ،آپ کے مدینہ  شریف  میں  ہوتے ہوئے ایک شخص  قطب مدینہ سے بیعت ہونے کے لیے حاضرہوا  تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہنےاسے تنبیہہ کرتے ہوئےارشاد فرمایا:شہنشاہ کی  موجودگی میں مجھ سے طالب ہورہا ہے ؟ پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہنے  اسے حضور مفتی اعظم ہند  رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہسے بیعت کروایا۔([1])

امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ میں   پیر ومرشد  کا یہ وصف بخوبی موجود تھا لہٰذا  جب تک میزبانِ مہمانانِ مدینہ حضرت قطب مدینہ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہحیات تھے ،امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہوکیلِ قطب مدینہ کی حیثیت سے مسلمانوں کو اپنے پیر و مُرشِد کا  ہیمرید بناتے تھے ۔ جب قطبِ مدینہرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہدنیا سے پردہ فرما گئے تو آپ دَامَتْ           بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے اسلامی بھائیوں کے اصرار پرحضرت مولانا محمد عبدالسّلام قادریرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکی دی ہوئی خلافت کے ذریعےبیعت ہونے کی خواہش رکھنے والوں کو اپنا مُرید یعنی قادری عطّاری بنانے کا سلسلہ شروع کردیا۔ امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکو اگرچہ دنیائے اسلام کے اور بھی کئی اکابر علماء و مشائخِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامسے خلافت حاصل ہے،مثلاًشارِح بخاری،فقیہ اعظم ہند مفتی محمدشریف الحق امجدی،مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد وقارالدین قادری اورجانشین قطبِ مدینہ حضرت مولانا فضل الرحمن قادری اشرفیرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہمْ اَجْمَعِیْننےبھی اپنی خلافت اور حاصل شدہ اَسانید و اِجازات سے نوازا ہےمگر امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنےچونکہ حضرت مولاناحافظ محمد عبدالسّلام قادریرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکی دی ہوئی خلافت کے ذریعے بیعت کرنے کا سلسلہ شروع فرمایا تھا اس لئے شجرہ قادریہ رضویہ  عطاریہ  کے اشعار کے اُسلوب (یعنی پہلے شعر میں اُن کا ذکر ہے جس نے خلافت دی اوردوسرے میں اُن کا جسے خلافت ملی )کو سامنے رکھتے ہوئےحضرت مولانامحمدعبدالسّلام قادری رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکا ذکر اس طرح ہے :

 



[1]     تذکرۂ جمیل، ص۲۲۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن