دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Maulana Muhammad Abdul Salam Qadri | فیضان مولانا محمد عبدالسلام قادری

book_icon
فیضان مولانا محمد عبدالسلام قادری

وَسَلَّم نے فرمایا :”جس کھانے پر بِسْمِ اللہِ نہ پڑھی جائے اس کھانے کو شیطان اپنے لئے حلال سمجھتا ہے ۔“ ([1])

(۶)  اگر کھانے کے شروع میں بِسْمِ اللہِ شریف  پڑھنا بھول جائیں تو یاد آنے پربِسْمِ اللہِ اَوَّلَہٗ وَاٰخِرَہپڑھ لیجیےجیسا کہ ام ُّ المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :”جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اسے چاہيے کہ پہلے بِسْمِ اللہِ پڑھے ۔  اگر شروع میں بِسْمِ اللہِ پڑھنا بھول جائے تو یہ کہے ” بِسْمِ اللہِ اَوَّلَہٗ وَاٰخِرَہ ۔“ ([2])

(۷) کھانے سے پہلے یہ دعا پڑھ لی جائے تو اگر کھانے میں زہر بھی ہوگا تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّاثر نہیں کرےگا:بِسْمِ اللہِ الَّذِیْ لَایَضُرُّ مَعَ اسْمِہِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ یَاحَیُّ يَاقَیُّوْمُ یعنی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کے نام سے شروع کرتا ہوں جس کے نام کی برکت سے زمین وآسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ اے ہمیشہ سےزندہ وقائم رہنے والے۔([3])    

(۸) سیدھے ہاتھ سے کھائیے کیو ں کہ الٹے ہاتھ سے کھانا شیطا ن کا طریقہ ہے  چنانچہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے :”جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو سیدھے ہاتھ سے کھائے اور جب پئے تو سیدھے ہاتھ سے پئے کہ شیطان الٹے ہاتھ سے کھاتا پیتا ہے ۔“([4])

 (۹) اپنے سامنے سے کھائیے۔حضرتِ سیدنا انس بن مالکرَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”ہر شخص برتن کی اسی جانب سے کھائے جو اس کے سامنے ہو۔“  ([5])

(۱۰)کھانے میں کسی قسم کا عیب  مت  لگائیے مثلاً  یوں  مت  بولیے کہ” مزیدار نہیں ، کچا رہ گیا ہے ، پھیکا رہ گیا ۔“کیونکہ کھانے میں عیب نکالنامکروہ و خلافِ سنت ہے۔اگر  جی چاہےتو کھالیجیے ورنہ ہاتھ روک لیجیے جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: رسول اللہ صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کبھی کسی کھانے کو عیب نہیں لگایا (یعنی برا نہیں کہا) اگر خواہش ہوتی تو کھا لیتے اور خواہش نہ ہوتی تو چھوڑ دیتے۔([6])

اپنے گھر پر بھی کھانے کو عیب مت لگائیے   

امامِ اہلِسنّت مجددِ دین وملت امام احمد رضاخان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ”کھانے میں عیب نکالنا اپنے گھر پر بھی نہ چاہيے،مکروہ وخلاف سنّت ہے ۔ (سرکارِ دو عالمصَلَّی اللہُ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ) عادت کریمہ یہ تھی کہ پسند آیا تو تناول فرما يا ورنہ نہیں اورپرائے گھر عیب نکالنا تو(اس میں) مسلمانوں کی دل شکنی ہے اور کمالِ حرص وبے مروتی پر دلیل ہے ۔” گھی کم ہے“ یا” مزہ کا نہیں “یہ عیب نکالنا ہے اور اگر کوئی شے اسے مضر(نقصان دیتی) ہے،اسے نہ کھانے کے عذر کے لئے اس کا اظہار کیا نہ (کہ)بطورِ طعن وعیب مثلاً اس میں مرچ زائد ہے ،میں اتنی مرچ کا عادی نہیں تو یہ عیب نکالنا نہیں اور اتنا بھی (اس وقت ہے کہ جب ) بے تکلفی خاص کی جگہ ہو اور اس کے سبب دعوت کنندہ (یعنی میزبان) کو اور تکلیف نہ کرنی پڑے مثلاً دو قسم کا سالن ہے ،ایک میں مرچ زائد ہے اور یہ عادی نہیں تو اسے نہ کھائے اور وجہ پوچھی جائے بتادے ۔ اور اگر ایک ہی قسم کا کھانا ہے ،اب اگر (یہ) نہیں کھاتا تو دعوت کنندہ(یعنی میزبان) کو اس کے لئے کچھ اور منگوانا پڑے گا، اُسے ندامت ہوگی اور تنگ دست ہے تو تکلیف ہوگی ایسی حالت میں مروت یہ ہے کہ صبر کرے اور کھائے اور اپنی اذیت ظاہر نہ کرے ۔ وَاللہُ  تَعَالٰی اَعْلَمُ ([7])    

بزرگان ِ دین کا ذکر خیر

بزرگان ِدین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن کی سیرت ہمارے لیے باعث برکت اور ذریعۂ  نزولِ رحمت  ہے کیوں کہ ان کی سیرت کے واقعات اور زبان سے ادا  ہونے والے کلمات ہماری نیت کوپاکیز ہ رکھنے ،اعمال کی اصلا ح کرنےاور مشکلات اور مصیبت میں ثابت قدم رہنے کےلیے  بہت ہی مؤثر ہوتے ہیں۔اسلاف کی سیرت سے حاصل ہونے والے مدنی پھولوں میں وہ مہک ہوتی ہے جو نہ صرف ہماری دنیوی زندگی کو خوشبودا ر بنادیتی ہے بلکہ ہماری اخروی زندگی کے لیے بھی مفید ہے۔حضرت  مولانا محمد عبد السلام قادری رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکو بھی کئی بزرگوں کی  صحبت  پانے،ان کے  ملفوظات سننے  اور ان کے معمولات دیکھنے کی سعادت  نصیب ہوئی تھی لہٰذاآپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہجب بھی  گفتگو فرماتے تو اپنے حافظے میں محفوظ   ان بزرگوں  کےواقعات،معمولات اور ملفوظات  بیان فرماتے ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری برکاتی،اپنے  پیرو مرشد خلیفہ و تلمیذِ اعلیٰ حضرت،شیر بیشہ ٔ سنّت  حضرت علامہ محمد حشمت علی خان  رضوی لکھنوی اورخلیفۂ اعلیٰ حضرت قطبِ مدینہ حضرت مولانا محمد ضیاء الدین احمد مدنی رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہمْ اَجْمَعِیْن کا ذکرکثرت سے فرمایا کرتے ۔

اعلیٰ حضرت  سے والہانہ محبت

حضرت مولانامحمد عبد السلام قادری  رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکواعلیٰ حضرت ،امام اہلسنت  امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن  سے بے پنا ہ محبت تھی، ہر سال  عرس ِ رضوی میں حاضری  آپ  رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکا معمول تھا۔ امام اہلسنت رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکا ذکرِ خیر آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکی  زبان پر جاری رہتا ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہزیادہ ترامام اہلسنّت رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکےنعتیہ کلام جھوم جھوم کر پڑھا کرتے، خصوصاً امام اہلسنت کی یہ نعتیں آپ  رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکے زبان پر جاری رہتیں۔

     ان کی مہک نے دل غنچے کھلا دیے ہیں                              جس راہ  چل  گئے ہیں کو چے  بسا دیے ہیں

     جب آگئی ہیں جوش ِ رحمت  پہ اُ ن کی آنکھیں                        جلتے بجھادیے ہیں روتے ہنسا دیے ہیں

 



[1]    مسلم، کتاب الاشربة ، باب آداب الطعام ۔۔۔الخ، ص۱۱۱۶، حدیث۲۰۱۷

[2]    ابوداؤد، کتاب الاطعمہ، باب التسمیۃعلی الطعام ، ۳/۴۸۷، حدیث  : ۳۷۶۷

[3]     فردوس الاخبار ، باب الباء، فصل فی الرقیۃ، ۱/۲۷۴، حدیث :  ۱۹۵۵

[4]     مسلم، کتاب الاشربۃ، باب آداب الطعام والشرب۔۔۔الخ ، ص۱۱۱۷، حدیث : ۲۰۲۰

[5]     بخاری، کتاب الاطعمۃ، باب الاکل ممایلیہ، ۳/۵۲۱، حدیث : ۵۳۷۷

[6]    بخاری، کتاب الاطعمۃ، باب ماعاب النبی طعاماً، ۳/۵۳۱ ، حدیث : ۵۴۰۹

[7]    فتاویٰ رضویہ ، ۲۱/۶۵۲

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن