30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آخِرت میں بھی طرح طرح کی سزائیں پائے گا۔
(۳)وعدہ خلافی سے بچنےکےلیےمحتاط جملے بولیے
وعدہ خِلافی گناہ ہےلہٰذا اس سے بچنے کی ترکیب یوں بھی بنائی جاسکتی ہے مثلاً دَرْزی وعدہ نہ کرے بلکہ یوں کہے:’’میرا اِراد ہ تو ہے کہ کل تک کپڑے آپ کو دے دوں،لیکن وعدہ نہیں کرتا، ہوسکتا ہے اِس میں کوتاہی ہوجائے۔‘‘یا اس طرح کے محتاط جملے بول دے، صحیح عُذربتا دینے میں بھی کوئی مُضائِقَہ نہیں،اسی طرح جن اِسلامی بھائیوں کا لین دین کا کام ہے، اُنہیں بھی چاہیے کسی کوکوئی چیز پہنچانے وغیرہ کا یقینی وقت(Confirm Time) نہ دیں۔ کوشِش کرکے یوں ترکیب بنائیں، جیسے (اگر واقعی اِرادہ ہے تو یوں کہہ سکتے ہیں)میرا اِرادہ تو ہے کہ میں آپ کو وَقْت پر چیز دے دوں یافُلاں وقْت تک پہنچا دوں،لیکن اگر دیر ہو جائے تو مہربانی کر کے ناراض نہ ہونا،فُلاں وقت تک دینے کی اُمّید بھی ہے مگر وعدہ اِس لئے نہیں کرتا کہ کہیں گناہ گار نہ ہو جاؤں۔‘‘ یہ طریقہ اپنانے سے اگر ایک آدھ گاہک ٹوٹ گیایا کسی نے بُرامنایاتو پریشان نہ ہوں۔ رِزق اللہ عَزَّ وَجَلَّ عطا فرمانے والا ہے اوردلوں پر قبضہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ہے، اِس طرح حسب ِ نِیَّت وحَسبِ حال کوئی نہ کوئی بچت کا پہلو رکھنا چاہئےتا کہ گناہ اوررُسوائی دونوں سے بچ سکیں ورنہ بعض اَوقات بندہ وعدہ وَفائی کا دَعویٰ بھی کرتا ہے لیکن جب سُستیاں اورلاپرواہیاں آڑے آتی ہیں یا دیگر مجبوریاں اوراَعذار وعدہ پورا کرنے میں رُکاوٹ بنتے ہیں توپھر وعدہ خِلافی اوراُس پر شرمندَگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لہٰذا عزْم بالجَزْم(بالکل پختہ اِرادہ)کے بجائے نیک نِیَّتی کے ساتھ بچت کا پہلو نکال کر وعدہ خِلافی سے بچتے ہوئے دُنیا وآخِرت میں اپنے آپ کو رُسوائی سے مَحفوظ رکھنے کی کوشِش کیجئے۔
مِری عادتیں ہوں بہتر، بنوں سُنَّتوں کا پیکر
مجھے متَّقی بنانا مَدَنی مدینے والے
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(۴)یقینی وقت نہ دیجیے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کسی سے آئندہ کا مُعامَلَہ طے کرتے ہوئے یقینی وقت (Confirm Time)مت دیجیے،بلکہ یوں کہہ دیاجائے :’’میں تقریباً فلاں وَقت تک پہنچنے کی کوشِش کروں گا۔‘‘ حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سَیِّدُنا امام ابو حامد محمد بن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیفرماتے ہیں: شہنشاہِ خوش خِصال ، مکی مدنی تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی سے وعدہ کرتے تو لفظِ’’عَسٰی(یعنی شاید)‘‘اِستِعمال فرماتے۔([1])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کھانا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بَہُت ہی پیاری نِعمت ہے،اِس میں ہمارے لئے طرح طرح کی لَذّت بھی رکھی گئی ہے،اگر اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ کھانا کھایا جائے تو یہ مسلمان کے لیے عبادت اور جنت میں داخلے کا سبب بن سکتا ہے۔حضرت مولانامحمدعبدالسلام رضوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے کھانا تناول فرمانے کا انداز بھی خوبصورت تھا، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکھانے سے متعلق گھر والوں سے فرمائش نہ فرماتے بلکہ کھانے میں جو میسر ہوتا تناول فرمالیتے،اگر کبھی باسی کھانا بھی پیش کیاجاتا تو منہ بسورنے کے بجائے خوشی خوشی کھالیتے ، مرغن کھانوں سے اجتناب فرماتے ،سادہ غذا پسند فرماتے ،میٹھا رغبت سے تناول فرماتے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کھانے کی لذیذ نعمت کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا پانے کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں تو سنّت کے مطابق کھانے کی نیت کرلیجئے۔اس کی برکت سے ہمیں پیٹ بھرنے کے ساتھ ساتھ ثواب بھی حاصل ہوگا ۔کھانا کھانے کی کچھ سنتیں اور آداب ملاحظہ کیجیے :
(۱) کھانے سے پہلے اچھی اچھی نیتیں کرلیجیے کہ عبادت پر قوت حاصل کرنے کے لیے کھاؤں گا ۔
(۲) ہرکھانے سے پہلے اپنے ہاتھ پہنچوں تک دھو لیجیے یوں گھر میں برکت ہوگی جیسا کہ حضرتِ سیّدنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُروایت ہے ،رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:” جویہ پسند کرے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے گھر میں برکت زیادہ کرے تو اسے چاہيے کہ جب کھانا حاضر کیا جائے تو وضو کرے اور جب اٹھایا جائے تب بھی وضو کرے ۔“ ([2])
حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی اس حدیث مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: اس(یعنی کھانے کے وضو ) کے معنی ہیں ہاتھ ومنہ کی صفائی کرنا کہ ہاتھ دھونا کلی کرلینا۔([3])
(۳) الٹا پاؤں بچھا کر اورسیدھا کھڑا رکھ کے یا سرین پر بیٹھ کر اور دونوں گھٹنے کھڑے رکھ کےکھانا تناول فرمائیے۔([4])
(۴) کھانے سے پہلے جوتے اتار لیں۔حضرتِ سیّدنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”کھاناکھانے بیٹھوتوجوتے اتار لو،اس میں تمہارے لئے راحت ہے۔“([5])
(۵) کھانے سے پہلے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمپڑھ لیجیے اس کی برکت سے کھانا شیطان سے محفوظ رہے گا چنا نچہ حضرت سیدنا حذیفہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع