30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگر وعدہ پور ا نہ کرسکا تو ۔۔۔
ایک مرتبہ مسلمانوں کے اصلاحِ عقائد و اعمال کے سلسلے میں ایک جلسے کے انعقاد کا وعد ہ فرما کر تاریخ کا اعلان فرمادیا لیکن جوں جوں وقت قریب آتا جارہا تھا انتظامات کی کوئی سبیل نظر نہیں آرہی تھی ، اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے ایک روز آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے نہایت افسردگی سےفرمایا: وعدہ خلافی بہت بڑا گناہ ہے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے منافق کی علامت فرمایا ہے۔ اگر میں جلسے کے انعقاد کا وعدہ پورا نہ کرسکا تو ۔۔۔“یہ کہتے ہوئے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی آواز بھرا گئی ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی کڑھن کی برکت تھی کہ رکاوٹیں دور ہو گئیں، تمام انتظامات مکمل ہوگئےاور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ جلسہ بھی بےحد کامیاب رہا۔
سُلطانِ بَحر و بَر،مَحبوبِ رَبِّ اَکبَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرما نِ جنّت نشان ہے: ’’تم مجھے 6 چیزوں کی ضَمانت دے دو میں تمہیں جَنّت کی ضَمانت دیتا ہوں (1)جب بات کرو تو سچ بولو (2) وعدہ کرو تو اُسے پورا کرو (3)تمہارے پاس کوئی امانت رکھوائی جائے تو اُسےادا کرو(4)اپنی شرمگاہوں کی حِفاظت کرو (5)اپنی نگاہیں نیچی رکھواور (6)اپنے ہاتھوں کو گناہوں سے روکے رکھو۔‘‘([1])
مُفَسِّرِ شہیر،حکیم ُ الا ُمَّت مفتی اَحمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: ’’وَعدہ سے مراد جائز وَعدہ ہے وعدہ کا پورا کرنا ضروری ہے۔ مسلمان سے وَعدہ کرو یاکافر سے ، عزیز سے وعدہ کرو یا غیر سے۔ اُستاذ، شیخ، نبی ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے کیے ہوئے تمام وعدے پورے کرو۔ ہاں! اگر کسی سے حرام کام کا وعدہ کیا ہے اُسے ہر گز پورا نہ کرے حتّٰی کہ حرام کام کی نذر پوری کرنا (بھی) حرام ہے۔‘‘([2])
لغت میں اچھی چیز کی امید دلانے یا بری چیز سے ڈرانے ان دونوں کو وعدہ کہا جاتا ہے۔اصطلاح میں کسی چیز کی امید دلانے کو وعدہ کہتے ہیں ۔([3])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! وعد ے سے متعلق امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مایہ ناز تالیف غیبت کی تباہ کاریاں سے تین مدنی پھول ملاحظہ کیجیے:
(۱)وعدہ یہ ہے کہ کسی سے باقاعدہ وعدے کے طورپرطے کیا کہ ”فُلاں کام کروں گا یا فُلاں کام نہیں کروں گا “اگر لفظ ”وعدہ“نہ کہا مگر انداز و الفاظ کے ذَرِیعے اپنی بات کو مُؤَ کَّد کیا یعنی اس بات کی تاکید ظاہر کی تب بھی ”وعدہ“ ہے مَثَلاً ”مدنی قافلے“میں سفر کروں گا کے ساتھ ”وعدہ کرتا ہوں“کہا،یا یہ کہنے کے بجائے کہا:بالکل پکّی بات کہہ رہا ہوں یاکہا:یقین مانئے ، یا کہا:بالکل طے ہے کہ ، یا کہا :نہیں نہیں آپ مطمئن رہے کہ، یا کہا :بس اب طے ہو گیا کہ ۔۔وغیرہ ۔اس کی مثال یوں دوں جیسا کہ ”منگنی “کہ یہ وعدہ ہے اگر چِہ اس میں”وعدے“کا لفظ نہیں بولا جاتا مگر باقاعدہ لڑکی والوں سے طے کیا جاتا ہے اور یہاں”طے کرنا“ہی وعدہ ہے۔([4])
(۲)بعض لوگ یہ جملہ بولتے ہیں:”چلئے وعدہ نہیں کرتے تو اِرادہ ہی کر لیجئے“ ہو سکتا ہے کہ اِس طرح اِرادہ یا نیّت کروانا بھی بَہُت سوں کو گُناہوں میں مُبتلا کر دیتا ہو۔ جی ہاں،دل میں اِرادہ (یعنی نیّت)نہ ہونے کے باوُجُود مَثَلاً کسی نے کہہ دیا کہ”میں اِرادہ (یا نیّت)کرتا ہوں 12ماہ (یا 30دن یا تین دن )کے مَدَنی قافِلے میں سفر کروں گا ۔“تو یہ صریح(یعنی کھلا)جھوٹ ہے۔ لہٰذا جب بھی کسی سے اِرادہ کروائیں ساتھ میں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّبھی کہلوالیا کریں تو اگر دل میں اِرادہ نہ بھی ہوا اگلا گُناہ سے بچ جائے گا۔([5])
(۳)”کوشِش کروں گا“کہنے میں بھی گناہ میں پڑ نے کا خطرہ موجود ہے یعنی دل میں نیّت نہ ہونے کے باوُجُود جان چھڑانے کیلئے کہہ دیا”کوشِش کروں گا“تویہ بھی جھوٹ ہے لہٰذا یوں کہلوایئے:”میں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّکوشِش کروں گا یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے چاہا تو کوشِش کروں گا۔یہ جملہ ”کوشِش کروں گا “ہمارے یہاں بَہُت ہی عام ہے کہنے والے کو پہلے اپنی نیّت پر غور کر لینا چاہے۔ اگر”کوشِش کروں گا“کہنے کے ساتھ میں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّکہنے کی عادت پڑ گئی تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ عافیّت ہی عافیّت ہے۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّکہتے وقت اِ س کے معنیٰ پربھی نظر رکھی جائے، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے معنیٰ ہیں :”اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے چاہاتواکثر لوگ اس کا تَلَفُّظ غَلَط ادا کرتے ہیں ، صحیح ادائیگی کی خوب مَشق کیجئے : اِنْ شَآءَاللہ ۔
ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں ترقی کرنے کے لیے ایک دوسرے کا اعتماد حاصل کرناضروری ہے کیوں کہ ایک دوسرے کی معاونت کے بغیردنیا میں ایک قدم بھی آگے بڑھانا بے حدمشکل ہے۔اس معاونت میں مضبوطی پیدا کرنے کے لیے یقین دہانی کی قدم قدم پرضرورت پڑتی ہےاوراس يقین دہانی کا ایک ذریعہ وعدہ بھی ہے ۔وعدہ نبھانے سے متعلق ان مدنی پھولوں کو اپنا لیا جائے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وعدہ خلافی کے گناہ سے چھٹکارا نصیب ہوگا ۔
(۱)وعدہ پورا کرنے کے فضائل پیش نظر رکھیے
وعد ه پورا کرنے کے بہت سے فضائل ہیں ،لہذا جتنی روایات ذہن نشین ہوں گی اتنا ہی ان پر عمل آسان ہوگا۔
(۲)وعدہ خلافی کے دنیوی و اخروی نقصانات پر غور کیجیے
وعدہ خِلافی مُنافَقت کی علامت،اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی کاسبب، دُنیا میں دُشمنوں کا تسلُّط اور عزّت و وقار کی بربادی جیسی مصیبتوں اور پریشانیوں کا باعِث ہے، وعدہ خِلافی اِس قدَر آفتوں اور مصیبتوں کا سبب ہے کہ اِس میں مُبتلاہوکر آدَمی اپنی دنیا وآخِرت برباد کرتا چلا جاتا اوراپنا وقار کھو بیٹھتا ہے پھر اُس کی بات قابلِ اعتماد ہوتی ہے نہ وعدہ، جس کی وجہ سے وہ دُنیا میں تو رُسوا ہوتاہی ہے،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع