30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جب بھی کوئی مسلمان ہمارے پاس اپنی حاجت لے کر آئے تو اس کی داد رسی کرکے اپنی آخرت میں آسانی کا سامان کیجیے جیسا کہ حضرت سیّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہےکہ رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: جوتنگدست پر آسانی کرے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ دنیا و آخرت میں اس پر آسانی کرے گا۔([1])ظاہِر ہے کہ جو شخص بے پنا ہ تنگدستی كا شكار بے حد رنج و غم میں گرفتارہوگا اور آپ نے اس کی مشکل آسان کردی تو وہ ضرور آپ کے لیے دعا کرے گااور دُکھیاروں کی دُعاقَبول ہوتی ہے جیسا کہ والداعلیٰ حضرت رئیسُ الْمُتَکَلِّمِین حضرتِ علامہ مولانانقی علی خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّاننے اپنی کتابِ بے مثال”اَحسَنُ الْوِعَاءِ لِاٰدابِ الدُّعا“ص ۱۱۱ پر جن لوگوں کی دعائیں قَبول ہوتی ہیں اُن میں سب سے پہلے نمبر پر لکھا ہے:اوّل:مُضطَر(یعنی دُکھیارا)اس کے حاشیہ میں سرکارِاعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولانا شاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں:”اس کی طرف یعنی دُکھیارے اور لاچار وناشادکی دعاکی قَبولیّت کی طرف توخود قرآنِ کریم میں ارشاد موجود ہے:
اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ (پ۲۰ ،النمل ۶۲)
ترجَمۂ کنزالایمان:یا وہ جو لاچار کی سنتا ہے، جب اسے پکارے اور دُور کردیتا ہے برائی۔
لہٰذا جب بھی موقع ملے ،تنگدست ومجبو ر کی مدد کیجیے اور دعائیں لیجیے ،دنیا میں بھی بے شمار بھلائیاں نصیب ہوں گی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے امید ہے کہ مظلوم کی داد رسی مغفرت کی خوشخبری کا سبب بنے گی جیسا کہ ایک شخص (زمانۂ گزشتہ میں) لوگوں کو اُدھار دیا کرتا تھا، وہ اپنے غلام سے کہا کرتا:’’ جب کسی تنگدست مَدیُون(یعنی مقروض) کے پاس جانا اُس کو معاف کردینا اس اُمّید پر کہ خدا ہم کو معاف کردے۔“جب اُس کاانتقال ہوا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مُعاف فرما دیا۔([2])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرت مولانا محمدعبد السلام قادری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکےایک شاگردنے کچھ یوں بتایا:حضرت مولانامحمدعبد السلام رضوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہعلم کے سمندر تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو تعلیمِ قرآن عام کرنے کا اس قدر شوق و جذبہ تھا کہ مغرب کے بعد بچوں کوناظرہ قرآن مجید پڑھایا کرتے ،بچپن میں مجھے بھی ان سے پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی ہے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا اخلاق نہایت عمدہ تھا ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی تربیت کا نتیجہ ہے کہ میں سونے سے قبل پیارے پیارے آقا،مکی مدنی مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں یوں عرض کرکے سوتا ہوں :
یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اُنْظُرْ حَالَنَا یَاحَبِیْبَ اللّٰہِ اِسْمَعْ قَالَنَا
اِنَّنِی فِیْ بَحْرِہَم مِّنْ مُّغْرَقٌ خُذْ یَدِیْ سَہِّل لَّنَا اَشْکَالَنَا
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہواقعی قابل ِ تعریف شخصیت تھے ۔
تدریس کے ذریعے علمِ دین کی لازوال دولت، عقیدہ و اعمال کی پختگی ،اخلاق و کردار کا نکھا ر اورزندگی اور بندگی کا سلیقہ نئی نسل میں منتقل کیا جاتا ہے اورعلمِ دین کی شمع سے کئی چراغ روشن کیے جاتے ہیں ۔متقی ، پرہیز گار اور تدریس میں ماہر عالمِ دین کی تربیت میں رہنے والے طلبہ جس میدان میں قدم رکھتے ہیں کامیابی ان کا استقبال کرتی ہے ۔حضرت مولانامحمد عبد السلام رضوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے بھی اپنی شمعِ تد ریس سے کئی چراغ روشن کیے،سینکڑوں نا تراشیدہ پتھروں کی صلاحیت کو نکھارا اور انہیں علم و فضل کا آفتا ب بنایا، لوگوں کے عزائم کا رُخ پلٹ دیا ،منصوبوں کی سمت بدل کر انہیں دین اسلام کی خدمت کے لیے تیا ر فرمایا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے اخلاص پر مبنی کوشش ہی کا نتیجہ ہے کہ آج کمبھی اہمہ (ضلع پرتاب گڑھ ،ہند) اور اس کے مضافات میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے کئی فیض یافتہ علمائے کرام اور حفاظ دینِ متین کی خدمت میں مصروف ہیں جن میں سے حضرت مولانا خلیل احمد قادری مَدَّظِلُّہُ الْعَالِیبھی ہیں ۔
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے مرید ین ہند کے مختلف شہر وں میں پھیلے ہوئے تھے، ان کی اصلاح اور روحانی تربیت کے لیے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکلکتہ ، بمبئی ، کاٹھیاواڑ اور کولمبو وغیرہ کا سفر فرماتے ۔صرف ملاقات کا سلسلہ نہ ہوتا بلکہ جہاں تشریف لے جاتے وہاں بیانات کے ذریعے لوگوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح فرماتے ۔
تراویح پڑھانے کے لیے بیرونِ ملک سفر
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ !رَمَضانُ الْمبارَک میں جہاں ہمیں بے شمار نعمتیں مُیسَّر آتی ہیں انہی میں تراویح کی سنّت بھی شامِل ہے اور اس سنّت کی عظمت کے کیا کہنے! اللہ عَزَّوَجَلَّکے پیارےرسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ جنّت نشان ہے:”جس نے میری سنّت سےمَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سے مَحَبَّت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا۔“([3])حضرت مولانامحمدعبد السلام قادریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبہترین حافظ قرآن تھے ، ہر سال تروایح میں قرآ ن کریم سناتےاورآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنمازِ تروایح پڑھانےکے لیےکئی مرتبہ کولمبو(سی لنکا)تشریف لے گئے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!نیکی کی دعوت کا ایک ذریعہ بیانات بھی ہیں۔ انبیائےکرام عَلَیْہِمُ السَّلَامنےبھی بیانات کے ذریعے نیکی کی دعوت دی۔ حضرت مولانامحمد عبد السلام رضویرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسنّتِ انبیا کو ادا کرتے ہوئے بیانات فرماتے،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے بیانات میں علم و حکمت کے کثیر مدنی پھول ہوتے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے بیانات کی تاثیر اور شہرت کا اندازہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع