30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(15) 111بار
یَاحَضْرَتْ غَوْث اَغِثْنَا بِاِذْنِ اللّٰہِ تَعَالٰی
(16) 111بار
خُذْیَدِیْ یَاشَاہِ جِیْلَانْ خُذْیَدِیْ شَیْئًا لِّلّٰہِ اَنْتَ نُوْرٌاَحْمَدِیْ
(17) 111بار
طُفَیْلِ حَضْرَتْ دَسْتْگِیْردُشْمَنْ ہوے زَیْر
(18) سورۂ یسین شریف(۱۹) قصیدہ غوثیہ(۲۰) دُرُود غوثیہ([1])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
نعت خوانی عشق رسول میں اضافے کا سبب ہے اسی لیے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نبی ٔ رحمت ، شفیعِ امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نعتیں جھوم جھوم کر پڑھا کرتے اور سفر و حضر میں نعت خوانی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے معمولات کا اہم حصہ تھا۔
مطالعہ علم میں ترقی اور عمل میں اضافے کا سبب ہے ،سابقہ معلومات کو مزید بڑھانے اور نئی معلومات میں اضافے کے لیے مطالعہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔مطالعے ہی کی برکت سے نہ صرف ذاتی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس کے فوائد دوسروں کو بھی پہنچتے ہیں اور علم میں اضافے کی برکت سے عمل کا ذہن بھی بنتا ہے یہی علم کا تقاضاہے جیسا کہ حضرت سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا فرمان ہے : اے لوگو! علم حاصل کرو پس جو علم حاصل کرے اسے چاہیے کہ (علم پر)عمل بھی کرے ۔([2])دیگر بزرگان دین کی طرح حضرت مولاناحافظ محمد عبد السلام قادری رضویرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو بھی بارگاہ ربُّ العزت کی جانب سے مطالعے کا بے پناہ شوق عطا ہوا تھا اسی لیے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکبھی تو ساری ساری رات مطالعہ فرماتے رہتےاورآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمطالعے سے حاصل ہونے والے مدنی پھولوں کو بیانات کے ذریعے دوسروں تک پہنچاتے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ شکایت عام ہے کہ” مطالعے کے لیے وقت نہیں ملتا۔“ دراصل دن بھر کے بے ترتیب معمولات اور فضولیات میں صرف کیے جانے والے اوقات کے سبب یہ شکایت پیدا ہوتی ہے ۔ مطالعے پر استقامت پانے کے لیے چند مدنی پھول پیش خدمت ہیں :
(۱)صبح سے لے کر رات تک کے معمولات کا وقت متعین کیجیے اور اسی متعین وقت میں کاموں کو انجام دینے کی کوشش کیجیے ۔
(۲) بزگان ِ دین کے ذوق مطالعہ کو پیش نظر رکھیے ،مطالعے کا شوق بڑھنے اور اس پر استقامت پانے کے لیے بزرگان دین کا طرز ِ عمل ملاحظہ کیجیے :
٭حضرت سیّدنا امام حسن بصر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:میرے چالیس سال اس طرح گزرے ہیں کہ سوتے جاگتے میرے سینے پر کتا ب رہتی ہے ۔([3])
٭محدث اعظم پاکستا ن حضرت مولانا سردار احمد قادری چشتیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسےمتعلق مفتی ٔ اعظم ہند مولانا مصطفےٰ رضاخانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :میں مولانا سردار احمد کو جب بھی دیکھتا، پڑھتے دیکھتا ۔ مدرسہ میں ،قیام گا ہ پر حتی کہ جب مسجد میں آتے تو بھی کتا ب ہاتھ میں ہوتی ۔اگر جماعت میں تاخیر ہوتی تو بجائے دیگر اذکار و اوراد کے مطالعہ میں مصروف ہوجاتے ۔([4])
(۳) اپنے مطالعے کو یومیہ ، ماہانہ اور سالانہ اعتبارے سے تقسیم کیجیے اور اس پر استقامت حاصل کرنے کے لیے مدنی انعامات کا رسالہ پُر کرنے کی عادت بنالیجیے۔
(۴) یا د رکھیے !موبائل ،انٹرنیٹ جیسی جدید ایجادات سمند ر کی مانند ہیں اور ان میں بے پناہ مشغولیت ڈوبنے کا سبب بن سکتی ہےلہٰذا ان چیزوں کو ضرورت کے مطابق ہی استعمال کیجیے، آپ کا بہت سارا وقت بچے گا جسے مطالعہ میں استعمال کرنا ممکن ہوگا۔
(۵) دعوتِ اسلامی کے سنتوں بھرے ماحول سے وابستہ ہوجائیے اس کی برکت سے نیکوں کی صحبت میّسر آئے گی اورو قت جیسی عظیم نعمت کو فرض علوم کے مطالعے میں صر ف کرنے کا موقع ہاتھ آئے گا ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
وظائف پر مشتمل رسالہ تحریر فرمایا
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے خانقاہ عالیہ قادریہ برکاتیہ کے مشائخ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے عملیات کو۱۳۶۴ھ مطابق 1945ء میں ایک رسالے میں جمع فرمایا اور اس کو تاریخی نام ”بیاضِ عملیات “سے موسوم فرمایا اور آخرمیں یہ دعاتحریر کی :”اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ !اس پر تمام مسلمانوں کو عمل کی توفیق عطا فرما،ذریعہ مغفرت اور باعثِ خیرو برکت بنا۔“
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع