30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زمین نے کہا: مجھ میں کعبہ ہے،جس کی زِیارت اور طواف اَنبیا و مُرسلین،اَولیا اور عام مومنین کرتے ہیں ۔
آسمان نے جواب دیا:مجھ پر بَیْتُ الْمَعمُور ہے،اس کا طواف فرشتے کرتے ہیں اور مجھ میں جنَّت ہے جو تمام اَنبیا و مُرسلین علیہمُ الصّلوٰۃ ُوالسّلام ،تمام اَولیا و صالحین رحمۃُ اللہ علیہم کی مقدس رُوحوں کا ٹھکانا ہے۔
زمین نے آسمان کو کہا:سَیِّدُالمرسلین،خاتمُ النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مجھ پر اِقامت فرمائی اور آپ نے شریعت مجھ پر جاری فرمائی ہے۔
جب آسمان نے یہ سُنا تو جواب دینے سے عاجز آ گیا اور چُپ ہو گیا۔ پھر آسمان نے اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کی: اے اللہ ! تُو ہی مُضْطَر و پریشان کی مدد فرماتا ہے جب وہ تجھے پُکارے،اے اللہ ! تُو محمدِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو میری طرف بُلا تاکہ میں ان سے شرف حاصل کروں،جس طرح تُو نے زمین کو ان کےجمال سے شرف بخشا ہے۔ اللہ پاک نے اس کی دُعا قبول کی اور معراج کی رات آسمان کو یہ شرف عطا فرمایا۔(1)
جس خاک پہ رکھتے تھے قدم سید عالَم اس خاک پہ قرباں دلِ شیدا ہے ہمارا
خم ہو گئی پُشتِ فلک اس طعنِ زمیں سے سُن ہم پہ مدینہ ہے وہ رُتبہ ہے ہمارا
اے عاشقانِ رَسول!واقعۂ مِعراج میں جہاں بے شمار حکمتوں اور مصلحتوں کا ظہور تھا وہاں سرورِ ذِیشان،محبوبِ رَحمٰن صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی شانِ عظمت نشان بھی دِکھانی تھی کہ آپ اللہ پاک کے ایسے محبوب ہیں کہ آپ جیسا کوئی نہیں۔ اللہ پاک نے آپ کو جو مقام و مَرتبہ عطا فرمایا ہے وہ کسی کو بھی عطا نہیں فرمایا۔ اعلیٰ حضرت،امامِ اَہْلِ سنَّت،
[1] …… درۃ الناصحین،ص 123 دار احیاء الکتب العربیہ بیروت۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع