30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(2)ایمان بالغیب کا مُشاہدہ
اے عاشقانِ رَسول!مِعراج شریف کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ تمام پیغمبروں نے اللہ پاک کی اور جنَّت و دوزخ کی گواہیاں دیں اور اپنی اپنی اُمّتوں سے پڑھوایا: اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہ مگر ان حضرات میں سے کسی کی گواہی دیکھی ہوئی نہ تھی بلکہ سنی ہوئی تھی اور گواہی کی اِنتہا دیکھنے پر ہوتی ہے۔ ضرورت تھی کہ اِس جماعتِ پاک اَنبیائے کِرام علیہمُ الصّلوٰۃ ُوالسّلام میں سے کوئی ایسی ہستی ہو جو ان تمام چیزوں کو دیکھ کر گواہی دے، اس کی گواہی پر شہادت کی تکمیل ہو جائے۔ یہ شہادت کی تکمیل حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ذات پر ہوئی (کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے معراج کی رات سب کچھ دیکھا)۔گواہی سب پیغمبروں نے دی تھی مگر وہ اَسناد تھی اور حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی گواہی اس اَسناد کی اِنتہا۔اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم خاتمُ النبیین ہیں کہ سَمعی یعنی سنی ہوئی شہادتوں کی اِنتہا عینی یعنی دیکھی ہوئی شہادت پر ہوتی ہے۔ اگر آپ کی تشریف آوری پہلے ہی سے ہو جاتی تو دِیگر اَنبیا ئے کِرام علیہمُ الصّلوٰۃ ُوالسّلام نبوت سے سرفراز نہ کئے جاتے۔ نیز حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد کسی نئے نبی کی ضرورت نہیں کہ عینی یعنی دیکھی ہوئی گواہی کے بعد سُنی ہوئی گواہی کیسی! (1)
ہے عبد کہاں معبود کہاں معراج کی شب ہے راز نِہاں
دو نُور حجابِ نُور میں تھے خُود رَبّ نے کہا سُبحان اللہ
ہیں عرشِ بریں پر جلوہ فگن محبوبِ خُدا سُبحان اللہ
اک بار ہوا دیدار جسے سَو بار کہا سُبحان اللہ
[1] …… شانِ حبیب الرحمٰن، ص106، 107 ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع