30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مِعراج کے دولہا کی سواری
مِعراج شریف کے عظیمُ الشان سفر کے لیے ایک اِنتہائی عظیمُ الشان جنّتی سواری کا اِنتخاب کیا گیا۔ چنانچہ حضرتِ اَنس بِن مالِک رضی اللہ عنہ سے رِوایت ہےکہ مکی مدنی آقا، شَبِ اَسْرٰی کے دُولہا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:میرے پاس بُراق (جس کا نام جارُود تھا) لایا گیا جوگدھے سے بڑااور خچر سے چھوٹا اِنْتہائی سفید رنگ کا لمبے قد والا چوپایہ تھا ،اُس کا قدم نظر کی اِنْتہاپر پڑتا تھا ۔(1)
اِس حدیثِ پاک کے تحت حکیم الامت حضرتِ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جنّتی حُلّہ پہناکرحضور کو دولہا بنایا گیا اور پھر یہاں سے بارات کے جلوس (کی صورت )میں شَبِ اَسریٰ کے دولہا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو لے کر فرشتے چلے، جبرائیل امین علیہ السّلام نے تاجدارِ اَنبیا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو سوار کیا اور رکاب تھامی جبکہ لگام حضرتِ میکائیل علیہ السّلام نے پکڑی اور اس شان سے دولہا کی سواری چلی۔(2)
جِبْرِیلِ امین بُراق لئے جنّت سے زمیں پر آ پہنچے
بارات فِرِشتوں کی آئی مِعراج کو دولہا جاتے ہیں
ہے خُلْد کا جوڑا زیبِ بدن رَحمت کا سجا سہرا سر پر
کیا خوب سُہانا ہے منظر مِعْراج کو دولہا جاتے ہیں
سبحانَ اللہ ! ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی عظیمُ الشّان سواری کتنی پیاری تھی اور اُس کی رَفتار کتنی تیز تھی کہ خود حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اُس کی عُمدہ رَفتار
[1] …… مسلم ،ص87،حدیث:411۔
[2] …… مراٰۃ المناجیح،8 /136، 137 ملتقطاً ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع