30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے مُناجات ہوئیں اور کہاں عَرْش سے بھی اوپر کا مقام جہاں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے کلام ہوا۔ ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنے جسم پاک کے ساتھ بیداری میں مِعْراج کی رات آسمانوں تک تشریف لے گئے، پھر آگے سِدرۃُ المنتہیٰ تک، پھر اس سے آگے مَقامِ مُسْتَویٰ تک،پھر اس سے بھی آگے عَرْش و رَفْرَف اور دِیدارِ الٰہی تک۔ (1)
واقعہ ٔ مِعراج کا بیان
اے عاشقانِ رسول! واقعۂ مِعراج کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ بعثتِ نبوی کے گیارھویں سال ہجرت سے دو سال پہلے، 27 رَجَبُ المرجَّب،پیر شریف کی سُہانی اور نُورانی رات تمام نبیوں کے سردار، مدینے کے تاجدار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نمازِ عشا ادا فرمانے کے بعد اپنی چچا زاد بہن حضرتِ اُمِّ ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر آرام فرما رہے تھے کہ دولت خانۂ اقدس کی مُبارَک چھت كھلی،حضرتِ جبرائیل علیہ السّلام نیچے حاضِر ہوئے اور آپ کو حضرتِ اُمِّ ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر سے مسجِدِ حرام میں لا کرحطیم کعبہ میں لِٹا دیا۔
شَقِّ صَدْر
پیارے آقا،مدینے والے مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم یہیں (حطیمِ کعبہ میں) کروٹ کے بَل لیٹے ہوئے تھے اور آپ پر اُونگھ کا اثر باقی تھاکہ حضرتِ جبرائیل علیہ السّلام پھر حاضِر ہوئے، اس بار انہوں نے آپ کے سینہ ٔ پاک کو ہنسلی کی ہڈی سے لے کر پیٹ کے نیچے تک چاک کیا اور قلبِ اَطہر کو باہَر نکال لیا۔ پھر اِیمان وحکمت سے بھرا سونے کا ایک طشت (یعنی تھال) لایا گیا،حضرتِ جبرائیل علیہ السّلام نے پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے قلبِ اَطہر کو آبِ زَم زَم سے غسل دیا اور پھر اِیمان وحکمت سے بھر کر واپس اُس کی جگہ رکھ دیا۔
[1] …… فتاویٰ رضویہ ،30/646 ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع