30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اِنسانیت سوز کارستانیوں سے روکنے اور ان کی سفاکانہ روِش پر ملامت کرنے والا کوئی بھی نہ رہا جس کے باعث ان کی اِیذا رَسانیاں مزید بڑھ گئیں۔ رَحمتِ عالَم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے تمام رکاوٹوں اور آزمائشوں کے باوجود دِینِ اسلام کی دعوت کو جاری رکھا اور لوگوں کو کفر و شرک سے روکتے رہے ۔ اُس نازک دور میں جو کوئی بھی آپ کی دعوتِ حق کو قبول کر کے اسلام قبول کرتا کُفّار کے جَور وسِتَم کا نِشانہ بن جاتا۔بہرحال رَفتہ رَفتہ وقت گزرتا گیا اور بعثتِ نبوی کا دَسواں سال بھی اپنے اِختتام کو پہنچا۔
واقعۂ مِعراج کا وقوع
اے عاشقانِ رسول! جب بعثتِ نبوی کا گیارہواں سال شروع ہوا تو اس میں بھی کفار کی طرف سے طعن و تشنیع اور جَور وسِتَم کا بازار گرم رہا اور پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تمام تَر رُکاوٹوں،پریشانیوں اور مصیبتوں کے باوُجود دِینِ حق کی سربلند ی کے لئے مصروفِ عمل رہے۔ بعثتِ نبوی کا گیارہواں سال بھی آہستہ آہستہ گزرنے لگا یہاں تک کہ رَجَبُ المرجب کا مبارک مہینا آ گیا اور جب اس کی ستائیسویں شَب آئی تو اس مبارک رات میں اللہ پاک نے اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو وہ شَرَف عطا فرمایا کہ جو نہ کسی کو مِلے نہ کسی کو ملا ۔ یہ وہ حیرت انگیز واقعہ تھا کہ سننے والے دَنگ رہ جاتے ہیں،عقل کو دولتِ کُل سمجھنے والوں کے کفر و اِنکار میں مزید اِضافہ ہوتا ہے جبکہ کامِلُ الْاِیمان خوش نصیبوں کا اِیمان اور بڑھ جاتا ہے۔اِس حیرت انگیز واقعے کو مِعْراج کہا جاتا ہے۔قرآنِ کریم میں اللہ پاک اس کا ذِکر کرتے ہوئے اِرشاد فرماتا ہے :
سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا (پ15،بنی اسرائیل:1)
ترجَمۂ کنز الایمان: پاکی ہے اُسے جو راتوں رات اپنے بندے کو لے گیا مسجدِ حرام (خانۂ کعبہ) سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع